کورونا کا رونا

کورونا کی تیسری لہر سے بچاؤ اور ہماری ذمے داریاں-وسیم احمد

 

مخلوق کی خدمت ایک عظیم کام ہے ۔ اس کام میں بیماروں کی مدد، پریشان حالوں کی پریشانی دور کرنا اور مصیبت زدہ کی مصیبت میں کام آنابڑی عظمت واہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں ملک اور دنیا نے جس بحرانی صورت حال کا سامنا کیا ہے ، اس نے لاکھوں افراد کو لاچار، بیمار اور کمزور بنا کر رکھ دیا۔ایسے حالات میں بہت سے افراد ، تنظیمیں اور اداروں نے خدمت خلق کے اس عظیم کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خاص طور پر مسلم تنظیموں نے تو بلا تفریق مذہب و ملت اس کار خیر میں حصہ لے کر دنیا کو بتا دیا کہ دین اسلام انسانیت کا سب سے بڑا ہمدرد ہے اور یہ مسلم تنظیمیں ملک کے ہر شہری کے لئے کام کرتی ہیں۔ ہم ان تنظیموں کا سرسری جائزہ لیتے ہیں تو جماعت اسلامی ہند، جمعیت علمائے ہندسمیت ملک کی بیشتر مسلم تنظیموں نے اپنے اس فریضے کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے ۔ کورونا کی لہر اول اور لہردوم کے دوران جماعت اسلامی ہند کی امدادی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا محمد احمد ، سکریٹری شعبہ خدمت خلق کہتے ہیں کورونا کے دوران جماعت نے پورے ملک میں پھیلے ہوئے اپنے برانچ میں آکسیجن کا بہترین انتظام کیا ۔ اس کے علاوہ کویڈ ڈیڈی کٹیڈ سینٹر قائم کئے گئے ۔جن مریضوں کا علاج یہاں ممکن نہیں تھا انہیں جماعت کے اسپتالوں میں بھیجا گیاجو ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود ہے۔ یہ سارا کام فری آف کاسٹ کیا گیا۔ خاص طور پر ایسے غریبوں کو جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے ، ان پر خصوصی توجہ دی گئی۔یہ کام دہلی اور سائو تھ سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہوا اور یہ کام بلا تفریق مذہب و ملت محض انسانیت کی بنیاد پر انجام دیا گیا ۔ چنانچہ وبا کے دوران جو آکسیجن فراہم کئے گئے یا دیگر امدادیں دی گئیں، خاص طور پر فوڈ وغیرہ کی تقسیم ، اس سے ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سب نے استفادہ کیا۔ کورونا لہر اول اور کورونا لہر دوم میں فرق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی لہر میں لوگ بیمار کم ،بے گھر زیادہ ہوئے ۔ لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو کوچ کررہے تھے۔جس کی وجہ سے بس ٹرمینل اور ریلوے اسٹیشنوں پر زبردست بھیڑ جمعتھی۔ دیگر مسائل سمیت ایک اہم مسئلہ ان کے کھانے پینے اور گھر پہنچنے کا تھا۔ اس موقع پر جماعت نے انہیں پکا ہوا اور ڈرائی کھانے کا بندوبست کیا اور انہیں گھر تک پہنچنے میں ان کی بھرپور مدد کی۔ البتہ دوسری لہر میں صورت حال بدلی ہوئی تھی ۔ اس لہر میں لوگ بیمار زیادہ ہورہے تھے ۔ مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی، اسپتالوں میں بیڈ وغیرہ کا مسئلہ زیادہ سنگین تھا۔ آکسیجن کی صورت حال تو یہ تھی کہ آکسیجن بلیک میں فروخت ہونے لگا تھا ۔غریب کی دسترس سے باہر ہورہا تھا، حکومت بھی مکمل فراہمی میں ناکام ثابت ہورہی تھی۔ ایسے موقع پر جماعت نے آکسیجن کی فراہمی کو آسان بنانے میں بھرپور مدد کی۔کورونا کی تیسری لہر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ خطرناک اور پہلی دو لہروں سے بدلی ہوئی شکل میں ہوسکتی ہے۔ اس سے بچائو کیلئے ہم تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگوں میں ویکسین لینے کی بیداری لارہے ہیں اور اپنے یہاں تین روزہ کیمپ لگا کر بڑی تعداد میں ویکسین کا انتظام بھی کیا۔ ابھی دو طرح کے ویکسین آرہے ہیں۔ دونوں میں اپنی اپنی خاصیتیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی لیا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں کنفیوژن میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔بہت سے لوگ غلط فہمی پھیلا رہے ہیں ۔ ہر ایک کو اس طرح کی غلط فہمیوں سے بچنا چاہئے اور ویکسین لے لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہم ڈیڈی کٹیڈ اور کیمپ اسپتال کی بھی تیاری کررہے ہیں تاکہ وقت آنے پر حالات کا سامنا کرسکیں۔ انہوں نے کورونا کی وجہ سے مدارس کی بحرانی کیفیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے مالی خسارے کا سبب لاک ڈائون ہے۔ اب لاک ڈائون ہٹ گیا ہے تو انشاء اللہ یہ سب اپنی سابقہ حالت پر لوٹ جائیں گے۔ جہاں تک جماعت کی جانب سے ان کو تعاون دیئے جانے کی بات ہے تو ملک میں بڑے پیمانے پر مدارس قائم ہیں اور ہماری وسعت ان سب کو مدد پہنچانے کی نہیں ہے اور نہ ہی چنداں اس کی ضرورت ہے کیونکہ ملت بیدار ہے اور جلد ہی انہیں اس بحرانی کیفیت سے باہر نکال لے گی۔عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کے مقدمے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون سب کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ ان دونوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ جرم تب ہوتا ہے جب جبر یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرائی جائے، مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک ان دونوں کے خلاف مقدمے میں مدد کرنے کی بات ہے تو جماعت انہیں قانونی امداد دے رہی ہے۔ یہ مدد اس لئے نہیں کہ وہ مسلمان ہیں بلکہ جماعت کی جانب سے ہر اس فرد کی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مدد کی جاتی ہے جو مظلوم اور مصیبت میں پھنسا ہوا ہو، چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔