کورونا کی دوسری لہر:تارکین وطن مزدورطبقہ دہلی ،ممبئی سے گھرواپسی کے لیے کوشاں

ممبئی ،دہلی :گزشتہ سال مودی کے اچانک اعلان کرنے کے بعدمزدوروں کے ساتھ جوکچھ ہوا،وہ تاریخ کاسیاہ باب ہے۔ریاستوں اورمرکزکی طرف سے انھیں گویابے یارومددگارچھوڑدیاگیا۔ہزاروں مزدورپیدل گھرنکل گئے۔بہت بعدمیں جب ٹرینیں کھولی گئیں توٹرینیں راستہ بھٹک گئیں۔مسافروں کوکھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔بارہ گھنٹے کاسفردودن میں ہونے لگا۔لاک ڈائون کی تباہ کاریوں نے غریبوں کوپریشان کردیا۔اس بارپھرانھیں خوف ستانے لگاہے۔دہلی،ممبئی کی جوصورت حال ہے،وہ گھبرائے ہوئے ہیں،انہیں سرکارپربھروسہ نہیں ہے کہ گزشتہ برس کی طرح انھیں یوں ہی چھوڑدیاجائے گا۔اسی لیے ریلوے اسٹیشن اوربس اسٹینڈپربڑی بھیڑہے۔جب کہ ریلوے نے اسے عام بات کہہ کرچھپانے کی کوشش کی تھی۔لیکن اب میڈیامیں ساری چیزیں آگئی ہیں۔ادھو ٹھاکرے حکومت اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اسی وقت ، دہلی میں ، صورتحال کورونا کے ساتھ بے قابو ہوتی جارہی ہے۔ ملک کی متعدد ریاستوں میں طبی نظام ٹوٹ رہا ہے۔ایک سال میں بھی سرکاریں طبی نظام کودرست کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کوپھنس جانے کا خوف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تارکین وطن مزدوروں کے وطن واپس آنے کے لیے بھیڑ چل رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر تارکین وطن کاہجوم ہے۔وہ لمبی لائنوں میں اپنی ٹرینوں اور بسوں کاانتظار کر رہے ہیں۔ تارکین وطن محسوس کر رہے ہیں کہ جب کام میسر نہیں ہے تو پھر یہاں رہنے کا کرایہ اور کھانے پینے کے اخراجات ختم نہیں ہوں گے۔ انھیں یاد ہے جب لاک ڈاؤن تھا۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے خطرہ مول لے کر گھرواپسی کی ہے۔