کرونا کی دوسری لہر اور احتیاطی تدابیر، ویکسین کا استعمال-ڈاکٹر محمد سعدبلگامی

امیر حلقہ،جماعت اسلامی ہند، کرناٹک

اس وقت ہم کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر کو دیکھ رہے ہیں جو خطرناک انداز میں پھیلتی جا رہی ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ بڑے پیمانے پر لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور اموات بھی واقع ہورہی ہیں ۔اس پس منظر میں کچھ احتیاطی تدابیر کو ہمیں لازماً اختیار کرنا چاہئے ۔حفاظتی تدابیر میں جن باتوں کا بار بار ذکر کیا جارہا ہے جیسے فیس ماسک کا استعمال کرنا اور فزیکل ڈسٹنس کو برقرار رکھنا اور سینیٹائزر کا استعمال،پاکی صفائی کا لحاظ کرنا ،یہ بہت ضروری ہے ۔اسی طرح بھیڑ میں جمع ہونے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے ۔یہ ضروری تدابیر ہیں جن کو اختیار کر کے اس مرض کے پھیلنے کو ہم روک سکتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ہم مساجد کی اجتماعی عبادات سے محروم ہو گئے ہیں ۔اللہ تعالی سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ جلد اس وبا سے ہمیں نجات دلائے اور ہم پھر دوبارہ اجتماعی عبادتوں کی طرف لوٹ سکیں۔حفاظتی تدابیر میں ویکسین بھی ایک تدبیر ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے اور اس سے بچنے کے جو بھی حفظ ماتقدم اقدامات ہیں ،ان کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ویکسین بھی اسی طرح کی ایک حفاظتی تدبیر ہے ۔اس وقت ساری دنیا میں اس سلسلے میں جو سائنٹیفک شواہد اور جو میڈیکل معلومات حاصل ہیں، اس کی رو سے یہی کہا جاسکتا ہے اور گمان غالب ہے کہ اس سے ہماری قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ویکسین کا دوسرا ڈوس لینے کے دو ہفتے بعد ہمارے جسم میں اینٹی باڈیز اس مقدار میں پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہم اس مرض کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ویکسین لیا جائے تو مرض نہیں آئے گا ایسی بات نہیں ہے ۔اس کے دور رس نتائج کے بارے میں بھی ہم نہیں جانتے، مگر طبی نقطۂ نظر سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ویکسین لینے کے نتیجے میں اگر مرض لاحق ہوجائے تب بھی اس کی شدت میں کمی ہوگی اور اموات بھی کم تعداد میں واقع ہوں گے۔ویکسین کے سلسلہ میں بہت سارے خدشات کا اور غلط فہمیوں کا چلن عام ہے اور اس کو سازش سے بھی جوڑ کر دیکھا جاتا ہے ۔مگرصحیح بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں جوخدشات ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ویکسین میں کچھ حرام اشیاء کے استعمال کے سلسلے میں بھی بات آئی ہے مگر شریعت کا یہ نقطۂ نظر بھی بعض علماء کی جانب سے سامنے آیا ہے کہ اگرچہ اس میں حرام اشیاء استعمال ہوئی ہوں مگرتحلیل(distillation) اور کیمیائی پروسیس سے گزرنے کے بعد اس کی حرمت باقی نہیں رہتی اور جہاں وبا عام ہو اور اس سے بچنے کی ایک احتیاطی تدبیر یہ ہو تو ویکسین کو ضرور اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ Side effectsبھی کسی اور ویکسین سے زیادہ یا خطرناک نہیں ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ایک مثبت طرز عمل اختیار کیا جائے اور حفاظتی تدبیر کے طور پر ویکسین کو بھی لیا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اس موقع پر اللہ تعالی سے رجوع کرنا چاہیے ،اپنے گناہوں کی معافی چاہنا چاہیے، توبہ و استغفار کا،تعلق بااللہ کا ، رجوع الی اللہ اور انابت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ وباؤںکے آنے کے پیچھے اخلاقی وجوہ بھی ہوتے ہیں ۔جب گناہ اور ظلم بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے تنبیہ اور یاد دہانی کے طور پر اس طرح کی وبائیںآتی ہیں۔چنانچہ اس موقع پر ایک طرف ہم توبہ و انابت کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف رجوع ہو ںاور تمام انسانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلانے کا بھی اس کو ایک ذریعہ بنانا چاہیے ۔اس موقع پر میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ہم تدبیر اور توکل دونوں کو اختیار کریں،جو بھی انسانوں کی خدمت اس موقع پر بن پڑے اس کو ہم ضرور کریں اور مسلمانوں کی یہ شناخت اس ملک میں ہم بنائیں کہ ہم انسانیت کے دکھ درد میں شریک ہونے والے اورانسانوں کی خدمت بجا لانے والے گروہ ہیں اور یہی ہماری اصل شناخت ہے ۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس وبا سے جلد از جلد نجات دلائے اور ہماری حالت کو بہتر بنائے ۔آمین