کورونا کی المناکی کاحقیقت پسندانہ شعری اظہار-ڈاکٹر عبدالحی

اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو
سی۔ ایم کالج، دربھنگہ (بہار)
موبائل:9899572095
سال 2020 کا جب آغاز ہوا تھا تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ سال اتنا خوفناک اور دہشت ناک ہوگا کہ ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔لیکن سال کے آغاز میں ہی دنیا نے کورونا جیسی مہلک اور جان لیوا وبا کا سامنا کیا اور اب بھی ہم سب اس وبا سے نبرد آزما ہیں۔اس وبا نے پوری دنیا کے کام کاج کو ٹھپ کردیا ہے۔اسکول، کالج، دفاتر اور ضروریات زندگی سے متعلق تمام تر شعبہ حیات بند ہوگئے۔ہر انسان اپنے گھر میں ایک خول میں بند ہوکر بیٹھ گیا۔کچھ لوگوں نے ٹی وی سے تو کچھ نے کتب بینی سے دل بہلایا اور کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے اس وبا کے دنوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں استعمال کیا اور ایسے ہی کچھ گنے چنے لوگوں میں سی ایم کالج دربھنگہ کے فعال اور ہر دلعزیز پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد کا نام بھی شامل ہے۔مشتاق احمد ایک جہاندیدہ شخص ہیں۔ انھیں دنیا کو دیکھنے سمجھنے اور پرکھنے کا خوب تجربہ ہے۔ وہ ایک مقبول درس گاہ کے پرنسپل ہیں اور ان کا سابقہ قسم قسم کے لوگوں سے پڑتا رہتا ہے۔کورونا کے دنوں میں کالج کے انتظامی امور کے ساتھ ساتھ مختلف اخبارات کے لیے کالم بھی لکھتے رہے جو ان کا معمول کا کام تھالیکن اس دوران جو سب سے اہم یا قابل ذکر کام انجام دیا ہے وہ” آئینہ حیران ہے“کی شکل میں میرے سامنے ہے۔یہ کورونا اور لاک ڈاﺅں کے تناظر میں لکھی گئی ان کی نظموں کا مجموعہ ہے جس میں 25 نظمیں کورونا کے موضوع پر ہیں جبکہ 5 نظموں کا موضوع الگ ہے۔یوں تو وہ ادبی صحافی ہیں،افسانہ نگار ہیں، کالم نگار ہیں، ناقد ہیں محقق ہیں اور ایک اچھے منتظم اور فعال ادیب کے طور پر مقبول ہیں لیکن اس شعری مجموعے کو دیکھ کر ان کی تخلیقی اور شعری صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ جب ساری دنیا میں لاکھوں انسان کورونا کی وجہ سے پریشان تھے تو مشتاق احمد کے اندر کاحساس شاعر بیدار ہوجاتا ہے اور پھر صفحہ قرطاس پر’ میں چپ ہوں‘،’نیا عہدنامہ‘،’صدائے خانہ بدوش‘،’لاک ڈاﺅن کی عید‘ اور ’کوزہ گر کی یاد میں‘ جیسی لازوال نظمیں تخلیق پاتی ہیں۔یہ نظمیں محض شعری ٹکڑے یا چند مصرعوں کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ ان میں پوری انسانیت کا درد،ہندوستان کی تاریخ و ثقافت،انسان کی بے بسی اور لاچاری،قدرت کی کاریگری اور صدیوں کی داستان بھی ہے۔
لاک ڈاﺅن کے عرصے میں مزدوروں کی نقل مکانی، ان کی پریشانیوں اور سیاسی بازی گروں کی چالوں کو مشتاق احمد نے بہت خوبصورتی سے اپنی نظموں میں پیش کیا ہے۔حالات حاضرہ پر مبنی نظموں میں خوبصورت لفظیات اور تشبیہات کے استعمال نے ان نظموں کا حسن دوبالا کردیا ہے۔فرانسیسی شاعر نکولابولوداپروانے اپنی کتاب دی آر ٹ آف پوئٹری میں لکھا ہے:
شاعری میں شعور اور عقل کا ہونا ضروری ہے،عقل شاعری کو الہامی بنادیتی ہے، جو کچھ لکھو اس میں عقل سے حسن قوت اور روشنی حاصل کرو۔ہر جگہ اعلی خیالات کو پیش کرو،دور از قیاس اور بے معنی موضوعات سے بچو،بے جا تفصیل شاعری میں سطحیت پیدا کرتی ہے۔جو کچھ بے ضرورت ہو اسے احتیاط سے رد کردو۔ تمہارے ہر نئے موضوع سے ایک نئی بات سامنے آئے، سارا مواد مناسب طریقے سے اس طور پر گوندھا گیا ہو جس سے ذہن متاثر ہو۔(بحوالہ،فن شاعری،نکولابولوداپروا،ترجمہ۔جمیل جالبی، استفسار(کتابی سلسلہ)جنوری تا جون 2019 )
نکولا بولودا پروا کی شاعری کے حوالے سے لکھی یہ تحریر ڈاکٹر مشتاق احمد کی نظموں پر فٹ بیٹھتی ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے اپنی قوت تخیل کو بروئے کار لاتے ہوئے کورونا اور اس سے پیدا شدہ بحران کو جس اندازمیں پیش کیا ہے وہ یقینا قابل تعریف ہے۔یہ نظمیں اس عہد کا ایک ایسا المیہ ہیںجنھیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کی نظموں میں غور و فکر کی ایسی دنیا آباد ہے جس میں قاری ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ آئینہ حیران ہے کی پہلی نظم یوم احتساب ہی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ ہم انسان جو طاقت کے نشے میں چور تھے اور چاند پر کمندیں ڈال رہے تھے، قدرت کے ایک ہلکے سے وار میں بکھر کر رہ گئے اور بے بس ہوگئے۔ اب ہم احتساب کرنے پر مجبور ہیں کہ ہم نے کیا اچھا کیا ہے اور کیا برا کیا ہے:
یہ در ،دروازے، کھڑکیاں/ سبھی بند ہیں /اور بند کمرہ /بن گیا ہے ایک آئینہ/ خود کو دیکھتا ہوں /ہر اک زاویے سے/ مگر کچھ حاصل نہیں/ اک معمہ بن گیا ہوں/کس سے پوچھوں /کہ خلا کا سفر/ سمندر کی تہوں تک رسائی/ چاند پر کمند ڈالنے کی ضد/ کوہ بلند کی فتح یابی/ تمام جہد مسلسل /سعی لاحاصل! کہ بند کمرے میں تنہائی ہے/ اور صرف خوف کا مہیب سایہ/ زندگی بن گئی ہے جیسے ایک فلسفے کی کتاب/ مگر کوئی ہے مرے اندر/ جو کہہ رہا ہے/ یہ ہے یوم احتساب، یوم احتساب!(یوم احتساب)
مجموعے کی دوسری نظم ”روشن اندھیرا“ لاک ڈاﺅن کے دوران نقل مکانی کرنے پر مجبور بے بس لاچار مزدوروں کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔کس طرح ہزاروں مزدور پیدل ہزاروں کیلومیٹر کا سفر کر کے اپنے گھر جارہے ہیں اور ڈھیروں صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں:
ہم محنت کشوں کو معلوم ہے/ اپنی صدیوں کی کہانی/ جہان نو کی رونق ہم سے ہے مگر/ یہاں ہمارے لہو سے گراں ہے پانی/ پھر بھی دیکھو /رواں دواں ہے ہمارا قافلہ /کہ ہمیں معلوم ہے/ یہ اندھیرا ہمارا مقدر نہیں ہے/ ہم تری روشنی کے مارے ہوئے ہیں!
اسی طرح ”نیا عہد نامہ“ کورونا کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر لکھی گئی بے حد عمدہ نظم ہے۔کوارنٹین ہونے کو شاید ہی اردو زبان میں کسی نے اتنے رومانوی حسن میںپیش کیا ہو۔
قربتیں موت کی علامت /تنہائی ہم پر مسکرائے گی /جدائی دل کو راس آئے گی!
ہم شرمندہ ہیں ، مزدروں کے مسائل اور حکومت وقت کی ناکامی پر تحریر کردہ ایک خوبصورت نظم ہے۔ صدائے خانہ بدوش،کل اور آج،نجات، عنکبوت،حیات نو،پال گھر کے شہید سنت بابا کی چٹھی جیسی نظموں میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے حالات حاضرہ اور ایک عام انسان کو درپیش مسائل کی بہترین منظرکشی کی ہے۔ان کی دوتین نظمیں جو مجھے بے حد متاثر کرگئیں وہ ہیں ’وقت‘،’التجا ‘اور’ آئینہ حیران ہے‘۔یہ ایسی نظمیں ہیں جنھیں ایک عام قاری بھی بار بار پڑھنا چاہے گا۔نظم وقت میں انھوں نے جس استعاراتی انداز میں گزرتے لمحوں کی داستان رقم کی ہے اس سے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مشتاق احمد محض ایک شاعر نہیں ہیں بلکہ انھیں فلسفہ،تاریخ و تمدن کا بھی اچھا خاصہ ادراک ہے۔ نظم” وقت“ کو پڑھتے جائیں تو محسوس ہوگا کہ ایک دریا ہے جو بہتا چلا جارہا ہے اور آپ بھی اس دریا کے ساتھی ہوں۔ کنارے پر ایک کے بعد ایک منظر ابھرتے چلے جارہے ہیں۔ کبھی ان مناظر میں فرعون تو کبھی شداد تو کبھی نمرود دکھائی دیتے ہیں۔مزید آگے بڑھنے پر نپولین اور ہٹلر بھی ملتے ہیں لیکن یہ سب کے سب فنا ہوگئے اور وقت کا دریا بہتا رہا اور اپنے ساتھ دنیا کے عظیم اور طاقتور لوگوں کے بھی بہا لے گیا۔ یہی وقت حرف کی صورت اوراق پر بکھرجاتا ہے اور کہی انکہی سب کو سناتا ہے۔ نظم” التجا“ بھی اپنے قاری کواندر تک جھنجھوڑ دیتی ہے۔ہم انسان جو اشرف المخلوقات ہیں۔جو کامیابی کی بلندیوں پر ہیں،ہمیں خدا نے توریت، زبور، انجیل اور قرآن دیا ہے تاکہ ہم ہدایت پاسکیں اور زندگی کو بہتر بنا سکیںلیکن ہم دنیاوی کامیابی تو حاصل کرلیتے ہیں ،انسان نہیں بن پاتے۔ہم آج بھی کہیں ہندو تو کہیں مسلمان ہیں ۔ہم سے بہتر تو جانور ہیں جو محض پیٹ کی آگ بجھانے تک جانور ہیں لیکن ہم اپنی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے جانور سے بدتر بن جاتے ہیں:
ہم اہل علم و ہنر،بن نہیں سکے انسان/ کہ بستی میں کہیں ہندو ہیں ہم کہیں مسلمان/ چلو جنگلوں میں چل کر دیکھتے ہیں/جہاں رہتے ہیں صرف اور صرف حیوان/ ایسا لگتا ہے کہ جیسے/ ان کے لیے ہی اترے ہیں/ یہ تورات و زبور، یہ انجیل و قرآن/ یہ گیتا و گرنتھ یہ وید و پران۔(التجا)
مشتاق احمد کی ایک نظم ”ہم شرمندہ ہیں “بھی بہت عمدہ ہے۔ڈاکٹر مشتاق احمد کی اس نظم نے ہلاکر رکھ دیا۔اس نظم کی تہہ میں اتنی اداسی، بے بسی اور لاچاری ہے کہ پڑھنے والا چاہ کر بھی کہیں بھاگ نہیں سکتا،نظم کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شاعری زبردستی نہیں کی جاسکتی۔شاعری آورد کا نام ہے اور اس کورونا کے آنے سے مشتاق احمد کے اندر کا شاعر جاگا ہے اور ایسی شاعری اس عالمی وبا اور اس سے پیداشدہ بحران میں ہی ممکن تھی۔
ڈاکٹر مشتاق احمد کی نظموں میں جمہور، مزدور، اور عوامی حقوق کی بات کی گئی ہے۔ ان کے شعری لب و لہجے میں ایک منفرد آہنگ ہے جسے انھوں نے خوبصورت اظہار کے پیرائے میں ڈھالا ہے اور ان کی یہ نظمیں سال 2020 کاعہد نامہ بن گئی ہیں۔مشتاق احمد نے زندگی کے مسائل اور تاریخ کے اتار چڑھاﺅ کو اپنی دروں بینی اور تخیل کی بلند پرواز ی سے ان نظموں کی شکل میں امر کردیا ہے۔وہ زندگی اور اس کی بے ثباتی کو ایک حساس فلسفی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر نئے تجربات کرتے ہیں۔یہاں یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ نئے تجربات ادب کے ذخیرے میں اضافہ کرتے ہیں اور ادیب کو زندہ جاوید کردیتے ہیںلیکن ہر تجربہ کامیاب نہیں ہوتا۔ بقول عباس تابش:
اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی
ہاتھ گھل جاتے ہیں تب کوزہ گری آتی ہے
مشتاق احمد نے لہو سے مٹی کو اس قدر گوندھا ہے کہ انھیں کوزہ گری آگئی ہے۔الفاظ اور موضوعات ان کے سامنے بکھرے پڑے ہیں، انھیں سلیقے سے چن کر اپنے تجربات کی چاک پر رقص کروانا انھیں آگیا ہے اور جب یہ رقص اختتام کو پہنچتا ہے تو کوزہ گر کی یاد میں، عورت، سیاق و سباق اور لاک ڈاﺅن کی عید جیسی نظمیں تخلیق پاتی ہیں اور آئینہ حیران ہے جیسا مجموعہ منظر عام پر آتا ہے۔
ڈاکٹر مشتاق احمد سے پہلے بھی اردو زبان و ادب میں وبا پر نظمیں اور افسانے لکھے گئے ہیں۔جن میںبیدی کا افسانہ کوارنٹین،ابن صفی کا ناول وبائی ہیجان،انیس ناگی کا ناول چوہوں کی کہانی،حسن منظر کا ناولٹ وبا قابل ذکر ہیں۔انتظار حسین نے بھی اپنے ناول بستی میں ضمنی طور پر طاعون کی وبا کو موضوع بنایا ہے۔شاعری میں اگر بات کریں تو غالب،ن م راشد،جان ایلیا،وغیرہ کے اشعار میں وبا اور اس کے بعد کے حالات کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔مغربی ادب میں تو وبا کے موضوع پر درجنوں ناول، افسانے اور نظمیں موجود ہیں۔ڈینیل ڈیفو نے 1722 میں ”اے جنرل آف دی پلیگ ایئر“ لکھی تھی جس میں برطانیہ میں پھیلے طاعون کا ذکر تھا۔البرٹ کامیو کا” دی پلیگ “الجیریا میں پھیلی وبا پرمرکوز تھا۔کیتھرین این پورٹر،مارگریٹ ایڈون،ایملی سینٹ جان منڈیل کے ناول بھی وبا پر لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح شاعری میں ولیم ورڈ س ورتھ کی نظم” I wondered lonely as a cloud“ ڈابلیو ایچ آڈن کی نظم 1 ستمبر1939 جس کا ایک بند تھا ”ہم سب ایک دوسرے سے یا تو پیار کریں یا مر جائیں“،کلاﺅڈ میکے کی نظم” آن براڈ وے“فلپ فرینیو کی نظم پریسٹیلینس،کرسٹینا روزیٹ کی دی پلیگ،مرڈو ینگ کی” انٹونیا “جس میں مالٹا کے پلیگ کا ذکر تھا اور یہ نظم 94 صفحات پر مشتمل تھی،تھامس ناشے کی نظم” A Litany in time of Plague“جیسی تخلیقات عالمی وبا پر لکھی گئی کلاسک میں شمار ہوتی ہیں۔
اردو زبان و ادب میں ایسے تجربے کم ہوئے ہیں۔پاکستان میں سدرہ سحر عمران،عدنان محسن،فاطمہ مہرو،خمار میر زادہ جیسے شعرا نے بھی کورونا پر قلم کا زور آزمایا ہے، ان شاعروں کی کچھ نظمیں اچھی ہیں اور متاثر کرتی ہیں لیکن مشتاق احمد کی نظموں کا لب و لہجہ اور آہنگ ان سب سے منفرد ہے۔مشتاق احمد کی نظموں میں شاعری کے ساتھ ساتھ ملک کی تاریخ و تمدن، تہذیب و ثقافت بھی ہے۔ قومی یک جہتی کا درس بھی ہے۔ وطن سے محبت کا پیغام بھی ہے۔ان کے داستانوی آہنگ نے ان کی نظموں کو ایک نیا حسن عطا کیا ہے۔
مشتاق احمد کی یہ نظمیں اردو ادب کے اثاثے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں اور ان نظموں کی بازگشت طویل عرصے تک سنی جائے گی۔مشتاق احمد کا یہ تجربہ بہت کامیاب ہے اور انھوں نے بطور شاعر بھی اپنی شناخت مستحکم کرلی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*