کوروناکے بڑھتے کیسز کے درمیان ’مہاکمبھ‘،گائڈ لائن کی کھلے عام خلاف ورزی

 

دہرادون:بڑھتی ہوئی وبا کے درمیان’مہاکمبھ کا شاہی اسنان‘ پیر کی صبح شروع ہوا جہاں سنتوں نے گنگا ندی میں ڈبکی لگائی جس میں کوروناگائیڈلائنس کی جم کردھجیاں اڑائی گئیں۔اترپردیش میں عبادت خانے میں پانچ لوگوں سے زائدافرادکے جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے۔دوسری ریاستیں بھی پابندیاں جاری کررہی ہیں لیکن پڑوس کے اتراکھنڈمیں ’آستھا‘کے نام پرنہ توسماجی فاصلہ ہے اورنہ ماسک اورنہ کوروناگائیڈلائنس کی پیروی ہے۔اس درمیان وہاں کئی سادھوؤں کے پوزیٹیوہونے کی بھی خبرہے۔ہریدوار شہر میں دریائے گنگا کے مختلف گھاٹوں پر ایک بڑا ہجوم جمع ہوا۔مہاکھنبھ میلہ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کی صبح 10 بجے تک 17 لاکھ 31 ہزار عقیدت مندوں نے نہایا ہے۔ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اشوک کمار، جو شاہی غسل کے دوران مہا کمبھ میلے کے انتظامات کی نگرانی کرنے پہنچے تھے، نے بتایا کہ پورے میلے کے علاقے میں نہانا جاری ہے۔اس پرجم کرسوشل میڈیاپرحکومت کی پالیسی کونشانہ بنایاجارہاہے۔لوگ لکھ رہے ہیں کہ انتخابی ریلیوں اورمہاکنبھ میں کوروناکیوں نہیں ہے۔