کورونا کا قہر:کیوں لوگ احتیاط نہیں کرتے؟ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

مہاراشٹر میں کورونا کی وبا بے قابو ہورہی ہے ۔ اتنی بے قابو کہ وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے یہ انتباہ دے دیا ہے کہ ’’لاک ڈاؤن کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔‘‘ جمعرات کے روز ریاست بھر میں کورونا کے ۲۵۸۳۳ نئے معاملے درج کیے گئے تھے ۔جمعہ کو اس میں مزید تشویش ناک اضافہ ہوا ہے ۔ یکم مارچ تک ریاست میں کورونا پازیٹو کیس کا تناسب ۱۰ فیصد تھا جو اب بڑھ کر ۱۶؍ فیصد ہوگیا ہے ۔مرکزی سرکار نے یوں تو پورے ملک میں کورونا کی بڑھتی رفتار پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر ریاست مہاراشٹر میں وباء جس تیزی سے پھیل رہی ہے اس پر بہت ہی زیادہ فکر جتائی ہے ۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں کورونا کے بڑھنے کی یہی رفتار رہی تو پہلے کے مقابلے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں کورونا ٹیکہ( ویکسین) کی مہم بھی شروع ہے لیکن یہ مرض قابو میں نہیں آرہا ہے ۔۔۔ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، لیکن یوں لگتا ہے کہ اس اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ لوکل ٹرینیں کھچا کھچ بھری ہوئی چلتی ہیں ، بسوں میں بھیڑ معمول کے مطابق ہورہی ہے ، بازاروں ، سڑکوں ، گلیوں میں لوگ یوں آتے جاتے اور خریداری کرتے ، کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں جیسے کہ کورونا کی وباء کے پھوٹنے سے پہلے نظر آتے تھے ۔ ریاستی حکومت نے حالانکہ ۳۱؍ مارچ تک نئی گائیڈ لائنس جاری کرکے کچھ سخت اقدامات کیے ہیں ، مثلاً پرائیویٹ اور سیمی پرائیویٹ آفسوں میں صرف پچاس فیصد ملازمین کو کام کی اجازت ہے ، سنیما گھر جو کھولے گئے ہیں وہاں بھی یہی ضابطہ لاگو کیاگیا ہے ۔ کئی شہروں میں نائٹ کرفیو بھی لگایا گیا ہے اور ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی بھی تیز ہوئی ہے ، لیکن اس کا عام لوگوں پر کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے ۔ ہوائی کمپنیوں نے بھی سخت قدم اٹھاتے ہوئے کورونا پروٹوکول پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بلکہ مقدمہ تک قائم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن جگہ جگہ کورونا پروٹوکول کی دھجیّاں اڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ اگر ضوابطہ کی پابندیاں نہ کی گئیں تو لاک ڈاؤن لگادیا جائے گا ۔۔۔ اب گیند عام شہریوں کے پالے میں ہے ۔ جن احتیاطی تدابیر کو استعمال کرنے کی انہیں ہدایت دی گئی ہیں ، ان پر عمل اب لازمی ہوگیا ہے ۔ لوگوں کو چاہیے کہ ماسک پہننے کو اپنی عادت میں شامل کرلیں، باہر نکلتے ہوئے سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھیں ۔ بازاروں میں خریداری کے لیے کم سے کم نکلیں اور ہر وہ ممکنہ احتیاط ، جس کی ہدایت دی گئی ہے اس پر عمل کریں ۔ عمل نہ کرنے کی صورت میں لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے اور لاک ڈاؤن کا مطلب پوری ریاست ، بلکہ پورے ملک کی رفتار کا تھم جانا ہے ۔ ملک اور ریاست نے جو لاک ڈاؤن دیکھے ہیں وہ جان لیوا تھے، نہ جانے کتنی جانیں گئیں، نہ جانے کتنے ہی لوگ عمربھر کے لیے قلاش ہوگئے ، بڑی تعداد میں لوگ روزی روٹی سے محروم ہوگئے ۔ لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں ۔ فاقے تک کی نوبت تھی۔ وہ انتہائی المناک دن تھے ۔ اگر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ دن لوٹ کے نہ آئیں تو ضروری ہے کہ کورونا سے بچنے کے لیے ہر ممکنہ احتیاط کریں ، حکومت اور ذمے داران وانتظامیہ کی بات مانیں ۔ مسلمانوں سے خاص اپیل ہے کیونکہ رمضان المبارک قریب ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بار پھر مسجدوں پر تالے پڑجائیں اور قرآن پاک کی تلاوت اور روزوں کا حق پھر ادا نہ ہوسکے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*