کورونا کا قہر:دھرنے پربیٹھنے کے لیے مجبورنہ کریں،بی جے پی ممبرپارلیمنٹ کی اپنی ہی سرکارکودھمکی

لکھنؤ:اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں موہن لال گنج لوک سبھا سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے اپنی حکومت کے خلاف دارالحکومت میں آکسیجن کی فراہمی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کوشل کشور کا کہنا ہے کہ لوگوں کو گھر میں آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ لوگ گھنٹوں آکسیجن پلانٹ میں کھڑے ہیں۔ انہیں آکسیجن کے لیے مسلسل سیکڑوں کالیں آرہی ہیں۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ کوشل کشور نے دھرنے پر بیٹھنے کی وارننگ دی ہے۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ میں دھرنے پر نہیں بیٹھنا چاہتا کیونکہ میں انتشار کا ماحول پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے کہاہے کہ مریضوں کو آکسیجن کی اشد ضرورت ہے۔ اگر لوگوں کو آکسیجن ملے گی تو پھر اسپتالوں پر دباؤکم ہوگا۔ لیکن سیکڑوں افراد کو آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ انتظامیہ سے متعدد بار التجا کرنے کے بعد بھی تنہائی میں رہنے والے مریضوں کو آکسیجن نہیں دی جارہی ہے۔کوشل کشور نے ٹویٹ کرکے لکھنؤ انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ زیادہ تر آفیسران جن کو کورونا مدت کے دوران مریضوں کی مددکرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ، وہ افسران کے فون اٹھا رہے ہیں۔لکھنؤ میں کوروناکی تباہی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔ بہت سے مریض داخل ہونے سے قاصر ہیں۔میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ تمام ذمہ دار افسران اپنے موبائل بند نہ کریں۔ متاثرین کی بات سنیں اورانہیں سہولت فراہم کریں۔