کورونا کا بڑھتا دائرہ اور ہماری سرد مہری!-ڈاکٹر مشتاق احمد

رجسٹرار،ایل این متھلا یونیورسٹی،دربھنگہ (بہار)
ملک کے دارالسلطنت دہلی میں جس طرح کورونا کا دائرہ روز بروز بڑھتا جارہاہے اور انسانی اموات میں اضافے ہو رہے ہیں اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کورونا جیسی جان لیوا بیماری سے ابھی ہمیں نجات ملنے والی نہیں ہے۔ لاکھ دعووں کے باوجود اب تک اس وباء کی دوا نہیں بن پائی ہے اور مختلف بین الاقوامی دوا کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے ذریعہ تجربے ہی کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی دوا بنائی گئی ہے لیکن اس کا استعمال ابھی نہیں ہو رہاہے کیوں کہ یہ دوا بھی ابھی تجربے کے مرحلے سے گذر رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دوا کب تک تجربہ گاہوں سے نکل کر عوام الناس کے لیے راحت کا سامان بنتی ہے۔ گذشتہ کل دہلی ہائی کورٹ نے حکومتِ دہلی کو جس طرح پھٹکار لگائی ہے اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دہلی حکومت جس طرح کورونا کی جانچ اور اس کے علاج کے انتظامات کا دعویٰ کر رہی تھی وہ کھوکھلا ثابت ہوا ہے کہ یومیہ اموات کی شرح میں اضافے ہی ہو رہے ہیں ۔ دہلی حکومت اموات کی شرح میں اضافے کے لیے سب سے بڑی وجہیں عوام کی لاپرواہی اور ماسک کے استعمال سے گریز کوقرار دے رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کے آغاز کے وقت جس طرح کے خوف کا ماحول تھا اس میں کمی ہوئی ہے اور اب بازاروںمیں عام دنوںجیسی بھیڑ بھی نظرآنے لگی ہے۔ حال ہی میں بہارمیں اسمبلی انتخاب ہوا ہے اور عوامی جلسوں میں جو نظارہ دیکھنے کو ملا اس سے یہ اندازہ ہوا کہ اب لوگ کورونا سے کتنے لا پرواہ ہو چکے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اس کے لیے دوا بھی دستیاب نہیں ہے ایسی صورت میں اس کے مضراثرات نمایاں ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ حکومت صرف قانون بنا سکتی ہے اور اس کے عمل کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے لیکن جب تک عوام الناس اس قانون کو قبول نہیں کرتی اور اس پر ایماندارانہ عمل نہیں کرتی اس وقت تک اس قانونی اقدام کے خاطر خواہ فائدے نہیں ہو سکتے۔ اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتاکہ کسی بھی سرکاری احکامات کے نفاذ کے لیے عوام کو ذہنی طورپر تیار کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے صرف قانونی ڈنڈے سے کام نہیں ہو سکتا بلکہ ماضی کے اسباق یہ بتاتے ہیں کہ قانونی نفاذ میں سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ رضا کار تنظیموں کی پہل سے مفادِعامہ کے قانون کا نفاذ ممکن بنا ہے اور اس کے مثبت نتائج بر آمد ہوئے ہیں جس سے معاشرے کو نہ صرف راحت نصیب ہوئی ہے بلکہ ایک نئی جہت بھی عطا ہوئی ہے ۔ یاد کیجیے کہ ہمارے ملک میں ایک وقت ایسا تھا کہ بیوائیں چتائوںپہ جلائی جاتی تھیں ، انگریزی حکومت نے اس کے لیے قانون بھی بنا رکھے تھے لیکن اس کے باوجود اس سماجی بیماری کا خاتمہ نہیں ہو رہا تھا لیکن راجا رام موہن رائے نے ایک سماجی تحریک چلا کر اس کا خاتمہ کیا ۔ اسی طرح ہمارے ملک میں کم عمری کی شادی قانونی جرم ہے لیکن اس کے باوجود اس پر قابونہیں پایا گیا جب تک سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنمائوںنے اس کے لیے تحریک نہیں شروع کی۔ اب شاذ ونادر ہی کم عمر ی میں شادی کی خبریں ملتی ہیں ۔ ہمارے ملک میں جہیز مخالف قانون موجود ہے لیکن جہیز جیسی لعنت میں کمی نہیں ہو رہی ہے کیوں کہ اس کے لیے جس شدت کے ساتھ سماجی تحریک چلائی جانی چاہیے وہ نہیں چلائی جا سکی ۔ بالخصوص مذہبی رہنمائوں نے اس لعنت کے خلاف مورچہ نہیں کھولا اور رضا کار تنظیموں نے بھی محض خانہ پری کو ہی اپنا فریضہ سمجھ لیا۔نتیجہ ہے کہ جہیز جیسی لعنت پر ہم قابو نہیں پا سکے۔ مذہب اسلام جہاں جہیز کا تصور بھی نہیں تھااس مذہب کے ماننے والوں کے اندر بھی یہ لعنت دخیل ہے اور اسلامی معاشرے کے لیے ناسور بن چکا ہے ۔
بہر کیف!دہلی حکومت نے اب ماسک نہیں لگانے والے کے لیے جرمانے کی رقم پانچ سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار کردیا ہے۔ ابتک پورے ملک میں اربوں کھرب جرمانے کی رقم وصولی جا چکی ہے اس کے باوجود اسّی فیصد افراد ماسک لگانے کے تئیں سنجیدہ نظرنہیں آرہے ہیں ۔ بازاروں میں دیکھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کتنے لا پرواہ ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون بنانے یا جرمانے کی رقم وصولنے سے زیادہ سماجی بیداری کو اہمیت دیں اور رضا کار تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ قومی سطح پر ماسک لگانے کی مہم کو تیز کریں ۔کیوں کہ جرمانے کی رقم بڑھانے سے خوف کا ماحول تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن کار آمد ثابت نہیں ہو سکتا۔ کیو ں کہ ہر جگہ انتظامیہ کے لوگ موجود نہیں ہوں گے کہ وہ جرمانے کی رقم وصولتے رہیں۔ اس لئے ضروری یہ ہے کہ تمام تر سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک میں کورونا کے زور کو کم کرنے کے لیے سماجی تحریک چلائی جائے ۔ہمارے ملک کے سکنڈری اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک طلباء کی تنظیمیں ہیں ، این سی سی اور این ایس ایس کے کیڈر ہیں اور ملک میں لاکھوں رضا کار تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں ، اگر یہ سبھی مل کر ماسک کی پابندی کی مہم کو تیز کریں اور کوویڈ19کے اصول وضابطے کو عملی طورپر اپنانے کی تحریک چلائیں تو ممکن ہے کہ اس عالمی وبا سے ہم جلد نجات پا سکیں۔مگر سچائی یہ ہے کہ صرف کاغذی طورپر کوویڈ19کے ضابطوں کی خانہ پُری ہو رہی ہے ۔ نتیجہ ہے کہ تعلیمی اور سرکاری اداروں میںبھی ماسک کی پابندی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ گذشتہ کل ہی ہریانہ کے ایک اسکول میں تین درجن سے زائد طلباء وطالبات کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وہاں بھی بے احتیاطی ہوئی ہے اس لئے اس وبا سے نجات پانے کے لیے سماجی تحریک کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اب کورونا کے نام پر سیاست کم ہو اور ملک کے عوام کی جانیں بچانے کے لیے ٹھوس اقدام اٹھائیں جائیں۔ جیسا کہ دہلی ہائی کورٹ کے عزت مآب جج صاحبان نے دہلی حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے تاثرات بیان کئے ہیں کہ حکومت صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی جان بچانے کے لئے متحرک ہو۔جج صاحبان کا تبصرہ صرف اور صرف دہلی حکومت کے لیے ہی تنبیہ نہیں ہے بلکہ دیگرریاستوں کے سربراہوں کے لئے بھی ہے اور ہمارے سیاست دانوں کے لیے بھی ۔ کیوں کہ حالیہ دنوں میں جہاں کہیں بھی سیاسی جلسے ہو رہے ہیں وہاں کوویڈ19کے اصول وضابطے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ اگر ہمارے سیاسی رہنمائوں کے ذریعہ یہ پیغام دیا جانے لگے کہ کسی بھی سیاسی جلسے میں جھنڈے، بینر ، پوسٹر سے زیادہ توجہ ماسک پر دی جائے اور شرکاء کے لیے ماسک کی پابندی ضروری قرار دی جائے تو ممکن ہے کہ کورونا کے زور کو روکا جا سکے۔ کیوں کہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال میں بھی انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے بلکہ اس کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ ایسی صورت میں کورونا کے قہر کو روکنے کے لئے صرف جرمانے کی رقم وصولنے سے کہیں زیادہ سماجی اور مذہبی تنظیموں کو فعال بنانے کی جد وجہد کرنی ہوگی کہ سماجی بیداری سے ہی اس لا علاج وباء سے نجات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے محض نعرے بازی سے نہیں کہ گذشتہ چھ ماہ سے کورونا کے قہر نے ہمارے ملک کی معیشت کو کس قدر اثر انداز کیا ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔اگر سنجیدگی سے اس پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج کےلیے  ہم سب کو تیار رہنا چاہیے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*