کورونا کے دنوں میں بھی سیاسی کھیل-شکیل رشید

تالیوں،تھالیوں اور موم بتیوں کے بعد شاہ اورمودی کی ورچوئل ریلیاں!
دیش عزیز ہے یا اقتدار؟جواب تو ’دیش‘ہی ہونا چاہیے، بالخصوص ان کے لیے جو بات بات پر خود کو قوم پرست اور دوسروں کو ملک و قوم دشمن قرار دینے کے لیے ایک بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن کہاوت ’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘ کے مصداق وہ جو خود ملک کو ’ماتا‘ ماننے اور دوسروں کو اسے ’ماتا‘ منوانے پر بضد ہیں اقتدار کے پیچھے یوں دوڑ رہے ہیں کہ نہ ہی انہیں دیش کی فکر رہ گئی ہے اور نہ ہی دیش واسیوں کی۔ ویسے ’دیش‘ اور ’دیش واسی‘ ان کے لیے حصولِ اقتدار کے مفید’الفاظ‘ ضرور ہیں اور یہ انہیں، ان کی کوئی فکر کیئے بغیر، خوب استعمال کرتے ہیں ۔ آگر یقین نہیں آ رہا ہے تو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ورچوئل ریلیاں ہی دیکھ لیں، جو ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ملک میں کورونا وائرس کی مہلک وباء خطرناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اتنا اضافہ کہ ہم اسپین کے متاثرین کی تعداد سے بڑھ گئے ہیں اور چین کو، جہاں سے یہ وباء شروع ہوئی تھی، کب کا تعداد میں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ اور ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ہم نے انگلینڈ کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے اور کورونا متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے چوتھے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ اب ہم سے آگے بالترتیب امریکہ ۔برازیل اور روس ہیں. صرف متاثرین کی تعداد ہی نہیں یہاں مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ اسپتالوں میں، جو ویسے ہی سہولیات سے عاری ہیں، مریضوں کے لیے بیڈ نہیں رہ جائیں گے۔ وینٹی لیٹر کم پڑ جائیں گے اور دیگر طبی آلات وادویات کی شدید قلت ہو جائے گی۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتالوں کے دیگر عملے تھکتے جا رہے ہیں، کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو تین ساڑھے تین مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، دہلی کے دو اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے تحریری انتباہ دے دیا ہے کہ اگر ۱۵؍ جون تک تنخواہیں نہیں ملیں گی تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ ان تشویشناک حالات میں دیش اور دیش واسیوں کی فکر کرنے والے حکمران وباء سے ملک اور لوگوں کو بچانے کی حکمت عملی پر غور کرتے ہیں نہ کہ جشن مناتے اور ورچوئل ریلیاں کرتے ہیں!!
لیکن مرکزی حکومت بالخصوص بی جے پی میں وزیراعظم نریندر مودی کے بعد سب سے طاقتور سمجھے اور مانے جانے والے سیاستداں امیت شاہ ورچوئل ریلیاں کر رہے ہیں۔ اور ان ریلیوں کو وہ نہ آج کے تشویشناک حالات میں ’سیاست‘ قرار دیتے ہیں اور نہ ہی ’انتخابات‘ سے جوڑتے ہیں ۔ان کی مانی جائے تو یہ ریلیاں عوامی رابطہ اور وزیر اعظم مودی کے ’آتم نربھر ابھیان‘ سے لوگوں کو جوڑنے کے لیے ہیں۔یہ ’آتم نربھر‘ کی بات بھی خوب رہی!! کورونا کی وباء کے بعد تو حالات یہ ہیں کہ دیش واسی پہلے جتنے خودکفیل تھے وہ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں! فیکٹریاں، ملیں ، کمپنیاں اور تجارتی مراکز بند ہوئے ہیں اور ان میں کام کرنے والے ملازم اور مزدور کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے ہیں ۔ نوکریاں ختم ہوئی ہیں، مزدوری ملتی نہیں ہے، بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے ۔اور پیٹ ہے کہ اس کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ایسے میں یہ’آتم نربھرتا‘ کی بات حلق سے نیچے اترتی نہیں ہے ۔ہاں اگر مرکزی سرکار لوگوں کو خودکفیل بنانے کے لیے کچھ عملی اقدامات کرتی تو اسے ’آتم نربھرتا‘ کی بات کرنے کا حق بھی تھا، بغیر کوئی مدد دیئے یہ خود کفیلی کانعرہ من کو بھاتا نہیں ہے ۔ویسے اپنی ورچوئل ریلیوں میں امیت شاہ نے ان مزدوروں اور غریبوں کو مودی سرکار کی طرف سے امدادی پیکیج دینے کا دعویٰ کیا ہے جنہوں نے سیکڑوں کلو میٹر چل کر بھارت کی تقسیم کے بعد ایک نئی اور کہیں بڑی ہجرت کی تاریخ رقم کی ہے، خون سے بھری تاریخ۔ امیت شاہ کے اس دعوے اور ورچوئل ریلیوں کے ان کے دوسرے دعوؤں پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان ریلیوں کا حقیقی مقصد کیا ہے ۔ملک بھر میں کل ۷۵ ورچوئل ریلیاں ہونگی۔ بہار میں ایسی پہلی ریلی ہوئی ہے۔ اڈیشہ اور مغربی بنگال میں دو ریلیاں ہوئی ہیں۔ تینوں ریلیوں سے امیت شاہ نے خطاب کیا ہے۔ ایک ایسی ریلی مہاراشٹر میں بھی ہوئی ہے، اس سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خطاب کیا ہے۔ بہار کی ورچوئل ریلی میں اپوزیشن کے دعوے کے مطابق ۷۰ہزار ایل ای ڈی اسکرین لگائے گئے تھے اور مجموعی خرچ ۱۴۴کروڑ روپے آیا تھا ۔حالانکہ بی جے پی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ فلیٹ ٹی وی زیادہ لگائے گئے تھے ایل ڈی اسکرین کم۔ چلیے بی جے پی کی بات مان لیتے ہیں تب بھی ملک بھر میں ۷۵ورچوئل ریلیوں پر جو خرچ آئے گا وہ سو کروڑ کی رقم سے کہیں زیادہ ہو گا۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ آج جو لوگ ورچوئل ریلیوں پر اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں انہوں نے کیوں غریب مزدوروں کو ان کے وطن پہنچانے کے لیے خرچ کرنے میں پس و پیش کی جبکہ ایک مزدور کے پیچھے زیادہ سے زیادہ سات ساڑھے سات ہزار روپے ہی خرچ آتے؟ سوال جائز ہے لیکن اس کا جواب یقیناً یہی ملے گا کہ یہ رقم تو پارٹی فنڈ سے لی جا رہی ہے کوئی سرکاری خزانے سے تھوڑی۔ پر کسی کو کیا پتہ کہ یہ رقم واقعی پارٹی فنڈ سے ہے یا سرکاری خزانے سے ہے! اور اگر یہ پارٹی فنڈ سے ہی ہے تب بھی سوال تو کیا ہی جا سکتا ہے کہ جس پارٹی کو ملک کے لوگوں نے، جن میں پیدل چلتے، سڑک حادثوں میں مرتے، ریل کی پٹری پر کٹتے اور بھوک پیاس سے راستوں میں اوربھٹکتی ریل گاڑیوں کے ڈبوں میں دم توڑتے مزدور اورغریب بھی شامل تھے، بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیابی دلائی، وہ پارٹی اگر اپنے فنڈ سے ان کی مدد کر دیتی تو کون سا ان کے خزانے میں کمی آجاتی، سو ڈیڑھ سو کروڑ روپے ہی تو خرچ ہوتے!!؟
جواب، امیت شاہ ان ورچوئل ریلیوں کے ذریعے دے رہے ہیں۔بہار کی ریلی کے ان کے یہ جملے جواب ہی تو ہیں:’’مودی جی نے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ مہاجر مزدوروں کو پوری عزت دی جائے، اور صوبوں کو ان کی مدد کے لیے گیارہ ہزار کروڑ روپے دیے، تقریباً سوا کروڑ مہاجر مزدوروں کو ہزاروں ٹرینوں کے ذریعے ان کے گھروں کو پہنچایا۔ ان کے کھانے پینے کا پورا انتظام کیا‘‘ ۔مزید سنیں: ’’مزدوروں کو پیدل چلتے دیکھنا بڑا تکلیف دہ تھا لیکن ہم نے فوراً بسوں کا انتظام کیا اور شرمک ٹرینیں چلائیں‘‘۔ امیت شاہ نے کووڈ ۱۹ سے ’کامیاب‘ جنگ کے لیے مودی کی تحسین کی اور بہار واسیوں کا ۲۰۱۴اور ۲۰۱۹میں مودی کی قیادت میں این ڈی اے کو کامیاب کرانے کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیسری بار بھی نتیش کمار کو کامیاب بنائیں گے۔ انہوں نے بہار کی جنتا کے مودی پر وشواش کو ترقی سے جوڑتے ہوئے یہ دلچسپ جملہ کہا: ’’ اس وشواش کی وجہ سے صرف بہار
نہیں پورا پوروی بھارت آج وکاس کے راستے پر چل پڑا ہے‘‘ ۔یہ جملہ دلچسپ ہی نہیں حقیقت حال کی پوری طرح سے ترجمانی بھی کرتا ہےکہ کورونا قہر کے ان ایاّم میں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے بہار اور پوروی بھارت کے لوگوں کو ’’راستے پر چلتے‘‘ دیکھا ہے ۔
اڈیشہ میں امیت شاہ نے یہ مانا: ’’ہو سکتا ہے کہ کورونا سے لڑائی میں حکومت سے کچھ غلطیاں ہو ئی ہوں لیکن مودی سرکار نے ایک راشٹر، ایک جن، ایک من کے ساتھ کورونا کی لڑائی کو آگے بڑھایا اس لیے آج ہندوستان دنیا میں اچھی حالت میں میں ہے‘‘ ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال داغا : ’’اپوزیشن نے کیا کیا؟ ‘‘ مغربی بنگال میں انہوں نے ممتا بنرجی پر حملے کیے، سی اے اے، آرٹیکل ۳۷۰، طلاق ثلاثہ، رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے وغیرہ کو ’حکومتی کامیابیاں‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس بار مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بن رہی ہے۔ ورچوئل ریلیوں کے ذریعے انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کورونا بھی بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو نہیں روک سکتا۔ امیت شاہ کی مذکورہ باتوں کی روشنی میں ان ورچوئل ریلیوں کا حقیقی مقصد سامنے آجاتا ہے :کورونا کے ایاّم میں مودی سرکار کی غلطیوں کو سرکار کی کامیابیاں بنا کر پیش کرنا، کورونا پر مودی کی حکمت عملی کے نتیجے میں قابو پانے کا پروپیگنڈا کرنا، بہار اور مغربی بنگال میں انتخابی سرگرمیاں جاری کرنا ۔۔۔۔حالانکہ بہار میں نومبر اورمغربی بنگال میں آئندہ سال انتخابات ہونا ہیں۔۔۔اورمودی سرکار کی ساری ناکامیوں کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑنا۔ بھلا حزب اختلاف سوال کرنے کے سوا کیا کر سکتا ہے، اپوزیشن کی حکومت تو ہے نہیں، مشورے ہی اس کی زبان سے نکل سکتے ہیں ۔کرنا تو حکومت کو ہوتا ہے لیکن حکومت ہی کا بااثر وزیر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی بجائے سوال کررہا ہے کہ اپوزیشن نے کیا کیا!!؟
اور ان ورچوئل ریلیوں کا ایک خاص مقصد مزید ہے ، سی اے اے، کشمیر اور طلاق ثلاثہ وایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر ایسی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا کہ بی جے پی کے ووٹ پکے ہو جائیں۔ یہ کام بی جے پی کے قدموں کو آگے بڑھانے کے لیے کرنا ہیں، کورونا پھیلتا ہے تو پھیلتا رہے!
فرقہ وارانہ منافرت میں اضافے کی سرگرمیاں تو ۲۰۱۴سے ہی جاری ہیں، کورونا کے دوران اس میں تیزی آئی ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ ملک میں جنوری ہی میں کورونا کا مرض داخل ہو گیا تھا مگر ’نمستے ٹرمپ‘ کی تقریب منانے اور مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ سرکار کو گرانے میں بھاجپائی ایسے مگن تھے کہ اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔وباء پھیلی تو ٹھیکرا دہلی کے تبلیغی جماعت کے مرکز نظام الدین میں ہونے والے اجتماع کے سر پھوڑا گیا، دھڑ پکڑ کی گئی، عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، لنچنگ کی گئی، جمعرات ۱۰؍ جون کو بہار کے سہرسہ میں ایک عالم دین جسیم رحمانی کی لنچنگ کا واقعہ تازہ ہی ہے ۔ان پر کورونا پھیلانے کا الزام عائد کر کے حملہ کیا گیا۔ مودی کے اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان کا جو نتیجہ نکلا وہ بھی سب کے سامنے ہے، اس نے مزدوروں کی ہجرت شروع کی جو کورونا پھیلنے اور معیشت کو تباہ کرنے کا بڑا سبب بن گئی۔بھگوادھاری سوشل ڈسٹنسنگ کی دھجیاں کل بھی اڑا رہے تھے آج بھی اڑا رہے ہیں، اگر کل کو کرناٹک اور مدھیہ پردیش کی سرکاریں گرانے کے لیے توڑ جوڑ اور خرید و فروخت ہو رہی تھی تو آج یہ کام راجستھان اور مہاراشٹر میں ہو رہا ہے۔ راجیہ سبھا میں کامیابی کے لیے اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کا شور ہے۔ خبر ہے کہ ۲۵کروڑ روپے سے لے کر ۵۰ کروڑ روپے تک بلکہ کچھ کو تو اور بھی زیادہ آفر کیے گئے ہیں!! ظاہر ہے یہ کام کرنے والے اقتدار کے لالچی ہی کہے جا سکتے ہیں، کوئی نہیں کہے گا کہ انہیں اقتدار کے مقابلے دیش عزیز ہے ۔ورچوئل ریلیوں میں کیے گئے امیت شاہ کے سارے دعوے، اگر بغور جائزہ لیا جائے تو غلط ثابت ہوتے ہیں، لیکن اگر یہ دعوے آنے والے دنوں میں سچ مان لیے جائیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیئے ۔قوم اور وطن کے تحفظ، سرجیکل اسٹرائیک اور دشمنوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کی باتیں آج بھی، جبکہ چین کے لداخ میں گھسنے کی خبر ہے، کی جارہی ہیں اور لوگ انہیں سن کر تالیاں بجا رہے ہیں ۔اب کیا کیا جائے کہ ہم سب تھالیاں اور تالیاں بجانے، موم بتیاں اور چراغوں کو جلانے کو ہی اپنی اور اپنے ملک کی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)