کورونا کے بڑھتے معاملوں کی وجہ سے دہلی کی جامع مسجد کوکیا جاسکتا ہے بند

نئی دہلی:جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ دہلی میں کورونا کے پیش نظر مسجد کو ایک بار پھر بند کیا جاسکتا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب شاہی امام کے سکریٹری امان اللہ کا منگل کی رات صفدرجنگ اسپتال میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا۔منگل کو دہلی میں کورونا کے 1366 نئے معاملوںکے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد 31309 تک پہنچ گئی جبکہ 905 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بخاری نے کہاکہ امان اللہ انفکشن میںپایا گیا تھا اور انہیں 3 جون کو صفدرجنگ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے گذشتہ روز آخری سانس لی تھی۔ شاہی امام نے کہا کہ قومی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے معاملات کے پیش نظر تاریخی مسجد کو ایک بار پھر سے بند کرنے کے بارے میں عوام کی رائے طلب کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے لوگ جامع مسجد کو بند کرنے پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ ہم اسے ایک یا دو دن میں لوگوں کے لئے ایک بار پھر بند کر سکتے ہیں اور نماز پڑھنے والے افراد کی تعداد کو محدود کرسکتے ہیں۔بخاری نے کہاکہ میں نے دوسری چھوٹی چھوٹی مساجد سے بھی لوگوں سے گھروں میں رہنے اور مساجد کے بجائے گھر میں نماز ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایسے وقت میں مساجد میں جانا درست نہیں جب دہلی میں کورونا وائرس کے معاملے عروج پر ہیں جبکہ ہم نے رمضان کے دوران اور عید کے موقع پر بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسا نہیں کیا تھا۔