کوروناکے بعدکی دنیا اور تعلیم کے مسائل-ڈاکٹر مشتاق احمد


(پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ)

کورونا کے جغرافیائی حدود پھیلتے ہی جا رہے ہیں اور اس مہلک وباکے شکار ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے۔اب تک اس کی کوئی معقول دوا تجویز نہیں ہوئی ہے اور اس لا علاج مرض نے پورے انسانی معاشرے کی زندگی کو درہم برہم کردیا ہے۔لیکن اب انسانی معاشرہ اس وبا کے مضراثرات کے باوجود اپنی سابقہ زندگی کی بحالی کے لئے فکر مند نظر آرہا ہے۔بعض ملکوں میں توحسبِ معمول زندگی بحال بھی ہوگئی ہے۔ کیوں کہ تمام تر سائنسی اور طبی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ کورونا کا وائرس کسی بھی ملک یا خطے سے پوری طرح ختم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کے مضر اثرات سے تحفظ کا ایک واحد راستہ احتیاط ہے اور اس کو ہی اب روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ماسک کو لازمی لباس کی حیثیت دینا ہوگا اور بھیڑ بھاڑ کی زندگی سے پرہیز کو بھی عادت بنانی ہوگی۔ مغربی ممالک جہاں کورونا نے سب سے زیادہ قہر ڈھایا ہے وہاں اسی طرز پر زندگی پھر سے رواں دواں ہونے لگی ہے۔ ظاہر ہے کہ عالمی سطح پر معاشیات کا ڈھانچہ متزلزل ہوکر رہ گیا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی تو بات ہی چھوڑئیے ترقی یافتہ ملکوں کی بھی اقتصادی حالت بد تر ہونے لگی ہے۔ کورونا سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن کی ترکیب اپنائی گئی تھی لیکن اس لاک ڈاؤن نے چھوٹے بڑے تمام صنعت، کل کارخانے پرتالے لگا دئے کہ انسانی نقل وحمل معطل ہو کر رہ گئی تھی۔اب جب کہ کہیں کہیں کورونا کا زور کم ہوا ہے تو بازاروں میں رونق لوٹی ہے لیکن اب بھی خوف وہراس کا ماحول ہے اورحکومت بھی ڈر ڈر کر قدم اٹھا رہی ہے کہ امریکہ، اٹلی، اسپین،فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملکو ں میں ذرا سی کوتاہی کی وجہ سے کورونا نے کہرام مچا یا تھااور لاکھوں جانیں تلف ہوگئیں اور اب ان ممالک میں بیروزگاری کا گراف بڑھنے لگا ہے۔ ایشیائی ممالک میں بھی کورونا کی وباء نے تمام شعبہئ حیات کو مفلوج کردیا ہے۔ بالخصوص ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کی اقتصادی حالت بھی خستہ ہوگئی ہے۔کروڑوں مزدور وں کی زندگی دشوار کن ہوگئی ہے کہ ان کی زندگی یومیہ مزدوری پر ہی منحصر تھی۔ ہمارے ملک میں کورونا نے جتنا ستم نہیں ڈھایا ہے اس سے زیادہ اب معاشی بد حالی کی وجہ سے پریشانیاں بڑھیں گی۔ تمام بڑے شہروں سے مزدوروں کی واپسی ہونے لگی ہے اوروہ اپنے اپنے گھروں کو چل چکے ہیں۔ایک طرف جہاں سے یہ مزدور ہجرت کر رہے ہیں وہاں بھی پریشانی ہوگی کہ اب چھوٹے بڑے صنعتی کل کارخانوں کومزدوروں کا ملنا دشوار ہوگا تو دوسری طرف جہاں آرہے ہیں وہاں بھی انہیں کام چاہئے کہ انہیں زندہ رہنے کے لئے یومیہ مزدوری لازمی ہے۔
بہر کیف!اس کورونا نے عالمی سطح پر معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور تعلیمی مسائل پیدا کردئے ہیں اورچوں کہ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں۔ اس لئے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گذارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔ لہذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی کورونا کے بعدایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصو ص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کاخاکہ شروع بھی ہوگیا ہے۔ غرض کہ کلاس روم تعلیم اور امتحان کی جگہ آن لائن تعلیم وامتحان اور دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے بھی ذرائع ابلاغ کا سہارا لینا ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ جب تک کورونا کے وائرس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا اور جو مستقبل قریب میں ممکن نہیں اس وقت تک نئے تعلیمی طریقہ کار کو ہی اپنانا ہوگا۔اس لئے یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن جو ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے اصول وضوابط طے کرتی ہے اس نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ہدایت نامہ جاری کرنا شروع کردیا ہے کہ اب وہ کلاس روم تعلیم کی جگہ نئے طریقہ کار یعنی آن لائن،سوشل میڈیا، یوٹیوب،فیس بک، ویب سائٹ، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کے ذریعہ تعلیم اور امتحان دونوں کا اہتمام کریں۔ واضح ہو کہ ہمارے ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار یونیورسٹیاں ہیں اور ۵۵/ ہزار کالجز ہیں جہاں گذشتہ دو ماہ سے سنّاٹا چھایا ہواہے۔ لیکن یو جی سی کی ہدایت اور مختلف ریاستی حکومتوں کی طرف سے بھی اعلانیہ جاری کیا گیا ہے کہ طلباء وطالبات کے تعلیمی کیلنڈر کو پورا کرنے کے لئے آن لائن طریقہ کار کواپنایا جانا چاہئے اورکہیں کہیں شروع بھی ہوگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک میں بہت سی ایسی یونیورسٹیاں ہیں جہا ں پہلے سے ہی یہ تعلیمی طریقہ کار اپنایا جا رہاہے۔ لیکن ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی کے پاس آن لائن تعلیم فراہم کرنے یا پھر امتحانات لینے کابنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس لئے قومی سطح پربھی جب کوئی مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں تو نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی بہت سی نجی کمپنیوں کے سہارے آن لائن امتحان کا اہتمام کرتی ہے۔ یہاں اس حقیقت کابھی اعتراف ضروری ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جو اپنی تعلیمی فیس کی آمدنی پرمنحصر ہو جیسا کہ یوروپ میں ہوتا ہے کہ یونیورسٹی نہ صرف خود مختار ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اپنی ریاست یا ملک کی ترقی کے لئے بھی خرچ کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی ترقی کا انحصار سرکاری فنڈ فراہمی پر ہے۔مثلاً امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی نہ صرف امریکہ کی اقتصادیات میں معاون رہتی ہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کوروزگار بھی فراہم کرتی ہے اور یہ یونیوسیٹیاں صرف اورصرف اپنی آمدنی پر تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوں کوجاری رکھتی ہیں۔ اسی طرح انگلینڈ کی کئی یونیورسٹیاں ملک کی جی ڈی پی کو بڑھانے میں اہم کردا ر ادا کرتی ہے لیکن ہندوستان میں اس کا تصور بھی محال ہے۔لیکن اب جب حکومت کی طرف سے نئے طریقہ تعلیم پر زور دیا جا رہاہے اور کلاس روم درس وتدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام کرنا اور پھر امتحان کے لئے بھی جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہاہے تو ایسے وقت میں سب سے پہلے یونیورسیٹوں اور کالجوں میں جدید ترین کمپیوٹر اوردیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں اورکالجوں میں اسّی فی صد طلباء دیہی علاقے کے متوسط اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سبھوں کے پاس جدید ترین اسمارٹ فون سیٹ نہیں ہیں کہ وہ آن لائن یا دیگر سوشل میڈیا کے طریقہ کار کو اپنا سکیں۔ ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ دیہی علاقے کے طلباء جوگاؤں دیہات میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ کی سہولت اگر ہے بھی تو وہ بہت کمزور ہے۔بالخصوص دیہی علاقے کی لڑکیوں کو آن لائن تعلیم یا پھر آن لائن امتحان میں بڑی مشکل ہو سکتی ہے کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ دیہی علاقے کے نوّے فیصد طلباء کے پاس جدید ترین اسمارٹ موبائل موجود نہیں ہے۔ اس لئے اگر اس کورونا کے بعد کی دنیا بدل رہی ہے اور تعلیمی شعبے میں بھی تبدیلی ضروری ہے تو اس سے پہلے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا اور دیہی علاقے کے طلباء اور طالبات کو کم شرح پر اسمارٹ فون یا پھر ٹیب کی سہولت فراہم کرنی ہوگی او ر اس کے لئے حکومت کو ایک بڑے فلاحی بجٹ کا اہتمام کرنا ہوگا ساتھ ہی ساتھ بینکوں کے ذریعہ بھی کم سود پر تعلیمی قرض کو عام کرنا ہوگا کہ نجی اداروں میں پڑھنے والے طلباء کو ایک بڑی فیس کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے اور اس کورونا کے بعد متوسط طبقے کی معاشی زندگی بھی دشوار کن ہوگئی ہے۔ ایسی صورت میں کمزور گارجین کے لئے اپنے بچوں کو جدید ترین آلات کے ذریعہ تعلیم دلوانا یا جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ اسلئے حکومت کو ان مسائل پر بھی غوروخوض کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب تک ہمارے ملک میں اب تک جو تعلیمی ڈھانچہ ہے وہ کلاس روم پر مبنی ہے۔ اب جب کہ اس کورونا نے اجتماعی زندگی کو ہمارے معاشرے کے لئے جان لیوابنا دیا ہے تو یہ فطری بات ہے کہ اب کلاس روم کی تعلیم متاثر ہوگی اور تعلیمی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ ہم جدید ترین طریقہ کار کو اپنائیں لیکن اس کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسی تعلیمی پالیسی طے کریں جس سے نہ صرف بڑے شہروں کے تعلیمی ادارے کے طلباء مستفید ہو سکیں بلکہ دیہی علاقے کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں اور جدید طریقہ تعلیم سے مستفیض ہو سکیں۔ کیوں کہ ملک کا ستّرفیصد آبادی آج بھی گاؤں میں رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں متوسط اور کمزور طبقے کے اندر بھی تعلیم کی طرف رجحان بڑھا ہے لیکن اس کورونا کی معاشی مار سے یہ طبقہ شاید سال دو سال تک راحت نہیں پا سکتا۔ ایسی صورت میں بس ایک ہی راستہ ہے کہ سرکاری سطح پر کمزور طبقے کے طلبا ء کے لئے کوئی خصوصی فلاحی اسکیم چلائی جائے جس سے اس کا مستقبل متاثر نہ ہو سکے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)