کورونا کے بعد کاادب کیسا ہوگا؟ڈاکٹر قمر صدیقی

ابھی 2020 کا آغاز ہوا ہی تھا کہ دنیا ایک نئے اور انوکھے بحران کا شکار ہوگئی۔ کورونا وائرس نے مختصر سے عرصے میں پوری دنیا کو جکڑ لیا۔ ہم بہت دنوں سے سُن رہے تھے کہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ عالمی گاؤں بننے کا خواب رسل و رسائل اور آمد و رفت کی آسانی کے سبب اپنی تعبیر میں بہت حسین تھا۔ پوری دنیا انسان کی ہتھیلی میں سمٹ آئی تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہی آسانی یہی حسیں خواب پوری دنیا کے لیے نئی طرح کی پریشانی لے کر آئے گا۔ دنیا بھر میں کورونا کا اتنی تیزی سے پھیلنا اس بات کی دلیل ہے کہ ترقی کے عمودی سفر میں آج انسان اُس مقام پر کھڑا ہے،جہاں ذرا سی لغزش پوری انسانی آبادی کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ آج لاکھوں افراد کورونا وائرس کے شکار ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ شہر کے شہر لاک ڈاؤن۔ آمد و رفت پر پابندی،فضائی سفر معطل، کاروبار بند اور کروڑوں افراد صرف گھروں تک محدود ہیں۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اِس بحران کے بعد کیا انسانی زندگی پھر وہیں سے شروع ہوپائے گی جہاں رُکی تھی؟
یہ تو بالکل واضح ہے کہ کورونا بحران کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ وائرس پر قابو پانے کے بعد وسیع پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تنظیمِ نو کے علاوہ ممکن ہے کچھ ممالک کے سیاسی ڈھانچے میں بھی تبدیلی آئے۔یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ 1347ء میں جب طاعون کی وبا کے سبب 50ملین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یورپ میں کلیسائی نظام کمزور ہوا تھا اور وہاں نشاۃ الثانیہ کی تشکیل میں تیزی آئی تھی۔ یہ وبا یورپ میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا سبب بھی بنی تھی۔ممکن ہے،اسی طرح ممکن ہے کورونا وائرس بھی انسانی معاشرے میں نئے طرزِ عمل اور اعتقادات کی وجہ بن جائے۔کچھ ماہرین نے اس ضمن میں اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ دنیا کو ایسا اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہے جو اس طرح کے کثیر الجہت مسائل کو دور کرسکے۔ لہٰذا حکمرانی کا ایسا تصور رواج پانے کا امکان ہے جو کثیر الجہت ہو۔ ایسے ممالک جو قوم پرستی، انتشار اور یک رُخے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں،انھیں اپنی پالیسی تبدیلی کرنا پڑسکتی ہے۔ کورونا کے بعد دنیا شاید گلوبل حکمرانی کی طرف پیش قدمی کرے۔
دنیا نے اس سے قبل بھی وباؤں کی مار جھیلی ہے اور دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کی گواہ رہی ہے۔ لیکن یہ صورتِ حال بالکل الگ ہے۔ اب تک جو بھی وبائیں آئی ہیں ان کے اثرات یا تو مخصوص علاقے یا بہت سے بہت چند ایک بر اعظموں تک ہی محدود رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دونوں عالمی جنگوں سے بھی پوری دنیا اس طرح متاثر نہیں ہوئی تھی جس طرح آج کورونا کے سبب ہو رہی ہے۔آج کوئی ملک، کوئی شہر، کوئی گاؤں، کوئی محلہ اور کوئی گھر ایسا نہیں ہے جو کورونا کے قہر سے متاثر نہ ہوا ہو۔ پچھلی صدی کی سب سے بڑی وبا1918سے 1919 اسپینی فلو تھی جس میں ایک کروڑ سّتر لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے سبب جو بڑی سماجی تبدیلی نمودار ہوئی وہ ملازمین کی کمی کے سبب عورتوں کے ملازمت میں آنے کے مواقع تھے۔ دیکھتے دیکھتے 1920تک امریکہ میں ملازمتوں میں خواتین کی حصے داری 21فیصد ہوگئی۔معروف اسکالر بلیک برن کے مطابق ”1918کا فلو دنیا کے کئی ملکوں میں خواتین کے حقوق پر اثر انداز ہوا۔“
وبا کی وجہ سے سماجی تبدیلیوں کی یہ مثالیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ کورونا کے بعد دنیا ویسی نہیں ہوگی جیسی اِس سے قبل تھی۔ سماجی تبدیلیوں کے یہ اثرات ادب پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ادیب اور قاری دونوں کی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے ادب میں نئے رجحانات آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ارنسٹ ہیمنگوے کے تخلیقی سفر کا جائزہ لیں تو اس نے دونوں عالمی جنگیں دیکھی تھیں بلکہ ان میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس کا ناول A Farewell of Arms یعنی ”وداعِ جنگ“ 1929 ء میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول کو جنگ کے موضوع پر لکھا گیا ایک بہترین ناول تسلیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس ناول پر اٹلی میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن اس ناول نے جنگ اور تشدد کے رویے پر کاری ضرب لگائی۔ہیمنگوے کا پہلا ناول The Sun also Risesبھی جنگ کے موضوع پر ہی ہے اور اس میں بھی اس نے جنگ کو دکھوں کی آماجگاہ بتایا ہے۔ اسپنی فلو اور پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں بیشمار اموات نے انسانی زندگی کے احترام کے رجحان کو فروغ دیا اور بلا شبہ اس رجحان کے فروغ میں ادب اویبوں نے بہت محنت کی ہے۔ ہیمنگوے کا شہرہئ آفاق ”بوڑھا اورر سمندر“ بھی انسانی جد وجہد کے احترام سے عبارت ہے۔
البرٹ کامیو کو ناول ”اجنبی“ کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی لیکن اس کا ناول ”طاعون“ بھی کم اہم نہیں ہے۔ کامیو نے لایعنیت کا نظریہ پیش کیا۔ یہ پہلا ادیب تھا جس نے ہیروشیما اور ناکاساکی پر امریکہ ایٹمی حملے کی مذمت کی تھی۔ اس حملے کے تعلق سے اس نے کہا تھا کہ ”انسانیت کے خلاف ایک خوفناک نظریہ کھول دیا گیا ہے۔“ اس کا دوسرا ناول ”طاعون“ دوسری علمی جنگ کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ اس ناول پر جنگ کی بے معنویت کے سائیے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح پہلی جنگ، عظیم کے خاتمے کے بعد جب برطانوی سامراج کی قوت میں اضافہ ہوا اور عثمانیہ سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا ورلڈ آرڈر متعارف کروایا گیا، جلیان والا باغ سانحہ رونما ہوچکا تھا۔ تحریک خلافت شروع ہورہی تھی۔ اردو میں ایک بالکل نئے طرز کا ادب سامنے آیا۔ یہ ادب ایک طرح سے مزاحمتی ادب تھا۔ یہ اپنے پیش رو ادب سے بالکل مختلف تھا اور ایک طرح سے ترقی پسند تحریک کا پیش خیمہ بھی۔ ترقی پسند تحریک کا باضابطہ آغاز تو 1936ء میں لکھنؤ کی انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس تحریک ممتاز ادبا و شعرا اپنے مزاحمتی ادب کے سبب پہلے سے ہی مقبول ہوچکے تھے۔ اس کا سبب اُس زمانے کی معاشرتی تبدیلیاں تھیں۔
موضوعاتی تبدیلیوں کے علاوہ وسیع پیمانے پر پیدا ہونے والی سماجی اتھل پتھل زبان و ادب کے داخلی رویوں پربھی اپنے واضح اثرات ثت کرتی ہے۔ کورونا کے بعد دنیا کیسی ہوگی ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ کورونا کے بعد کی دنیا ویسی نہیں ہوگی جیسی کہ پہلے تھی۔ پہلی اوردوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح فکشن کو مقبولیت حاصل ہوئی،ممکن ہے کہ کورونا کے بعد فکشن کی اس مقبولیت میں مزید اضافہ ہو۔ اس کی وجہ گھر گھر محلہ محلہ شہر شہر اور ملکوں ملکوں جنم لینے والی نئی، انوکھی کہانیاں ہوں گی۔ وہ کہانیاں جو ہم نے کبھی سنی نہیں تھیں، جنھیں ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ فکشن کی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا بیانیہ بھی ہوگا۔اس وبا کی وجہ سے سماجی دوری کے نام پر انسان سے انسان کے درمیان جو فاصلہ آگیا ہے اس خلاکو انسان شاید بیانیہ کی مدد سے پُر کرنا چاہے۔ جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو اردو میں نظم کی کئی اصناف ویسے بھی معدوم ہوچکی ہیں۔ البتہ سب سے مقبول صنف غزل کے لیے مشکل یہ ہے کہ اس کی بیشتر تشبیات اور استعارے اب ازکاررفتہ ہوگئے ہیں۔جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ کورونا کے بعد انسانی آبادی ایک دوسرے کے تئیں بہت زیادہ پر تپاک نہیں ہوگی۔ ایک طرح کی دوری، ایک طرح کا خلا ء ایک عرصہ تک اُس کا مقدر ہوگا لہٰذاامکان ہے کہ اس دوری اور اس خلا کو شایدبیانیہ پُر کر ے گا۔ اگر غزل نئے استعارے، نئی علامات اور نئی شبہیات نہیں تلاش کرسکی تو شاید کورونا کے بعدبیانیہ کی قوت کے سبب اردو میں نثری نظم کے امکانات وسیع ہوجائیں گے۔

(مضمون نگارمعروف ادبی مجلہ ”اردو چینل“ اور ویب پورٹل ”اردو چینل ڈاٹ اِن“ کے مدیر ہیں)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)