کورونا بحران سے آپ نے کیا سیکھا؟ـ قاسم علی شاہ

کورونا بحران دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیلا اور زندگی کی تمام تر مصروفیات کو مفلوج کرکے انسان کو گھر کے کمرے تک مقید کردیا۔اس بحران نے جہاں ساری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا وہیں اور بھی بہت ساری چیزوں میں انسانوں کو متاثر کیا ۔یہ حالات اگرچہ آزمائش اور تکالیف سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ایک لمحے کے لیے اِنہوں نے ہر انسان کو یہ سوچنے پر مجبورضرور کردیا ہے کہ زندگی ان بے شمارتکلفات کے بغیر بھی بڑے خوب صورت طریقے سے گزاری جاسکتی ہے جو ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر مسلط کرلی تھیں۔ بہترین انسان کون ہے؟ یہ بدترین حالات بتاتے ہیں۔ یقینا یہ حالات جہاں بہت سارے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث تھے وہیں کچھ لوگوں نے ان کا بھرپور استعمال بھی کیا اورخود کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔
چند دِ ن قبل ہم نے سوشل میڈیا پر ایک سروے کیا جس کا عنوان تھا ’’کورونا بحران سے آپ نے کیا سیکھا؟‘‘اس سروے میں تقریباً تین ہزار لوگوں نے حصہ لیا اور اپنے تاثرات ہمارے ساتھ شیئر کیے۔یہاں ہم ان تمام تاثرات کو بیان تو نہیں کرسکتے البتہ مجموعی طورپر جو نکات سامنے آئے ،وہ آپ کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔
غور وفکر:
بہت سارے دوستوں کے بقول :اِن دنوں چونکہ زندگی تھم چکی تھی اور سارے معاملا ت رُ ک گئے تھے تو ہم نے اپنے آ پ کا محاسبہ کیا اور سوچا کہ ’’میں جو کچھ کررہا ہوں کیا درست کررہا ہوں ؟ میں جس راستے پر گامزن ہوں کیا وہ واقعی مجھے منزل تک پہنچادے گا یا یہ راستہ مجھے بھٹکادے گا؟میں نے گزشتہ سفر میں کیا کچھ نیک اور بد کیا اور جو بھی کیا تو کیاروزِ محشر اس کا حساب کتاب دے سکتا ہوں؟‘‘اسی دِن سے گزشتہ کوتاہیوں پر معافی مانگی اور آئندہ کے لیے ایک بامقصد پلان بناکر زندگی گزارنے کا عہد کیا۔

اللہ کی قدر ت پر یقین:
بحران سے قبل زندگی کی تیزرفتاری میں اس قدر مصروف تھے کہ مال و دولت کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے ۔اب جبکہ حالات اس حد تک آگئے کہ سب کچھ بند ہوا پڑا ہے تو اب اللہ کی رزاقیت پر یقین آگیا کہ کاروبار بند ہونے اور ان سخت حالات کے باوجود بھی وہ ہمیں کھلااور پلارہا ہے اور زندگی میں اتنی زیادہ بھاگ دوڑ کی ضرورت بھی نہیں جتنی کہ ہم نے بنالی تھی.

فیملی کو وقت:
زیادہ سے زیادہ مال و دولت بنانے کے چکر میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ اللہ نے رشتوں کی صورت میں جو نعمتیں مجھے دی ہیں ،وہ کس قدر خوب صورت ہیں ۔آج اگر چہ مجبوری میں گھر رُکنا پڑ رہا ہے مگر ان رشتوں کے ساتھ وقت گزارنے اور انہیں قریب سے محسوس کرنے کا موقع ملا اور اللہ کی اس عظیم نعمت پر دِل سے شکر ادا کیا کہ اگر باقی کچھ بھی نہ ہو مگر صرف یہی رشتے ہوں تب بھی زندگی بڑی خوش گوار گزرسکتی ہے۔

فطرت سے قربت:
کبھی ہم نے محسوس ہی نہیں کیا تھاکہ جب بارش برستی ہے تو اس کے ساتھ اللہ کی رحمت بھی اترتی ہے ۔کبھی احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ گھاس پر چلنے کاکیا لطف ہے۔ درخت ، پھول اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے کتنا سرور ملتا ہے ۔صبح کے اُجالے میں چھت پر فجر کی نماز پڑھنے اور بادِ صبا کے جھونکوں کو اپنی سانسوں میں اتارنے کا لطف انہی دِنوں میں ہوااور تب ہمیں ادراک ہوا کہ ہم نے فطرت سے خود کو دُور کرکے اپنے ساتھ ہی زیادتی کی ہے۔

رب سے تعلق:
انہی دِنوں میرا رب سے تعلق مزید مضبوط ہوا ۔دعاؤں پر یقین آگیااور ایک روحانی خوشی مل گئی جس نے ہر قسم کے فکر وغم سے آزاد کردیا۔نماز میں مزہ آنے لگا اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن شریف کی تلاوت کی عادت بھی بن گئی اور اب یہ عادت معمولات کاحصہ بن گئی ہے۔

صحت:
اس سے قبل ہمیں صحت اور خاص طورپر قوتِ مدافعت کو مضبوط کرنے کے بارے میں بالکل شعور نہیں تھا اور نہ ہی کبھی پروا کی تھی۔کورونا کی وجہ سے خالص اور قدرتی خوراک لینی شروع کی اور ان تمام چیزوں کو کھانا چھوڑدیا جو بجائے فائدہ کے نقصان دہ ہیں۔اس لحاظ سے وہ تمام فضول خرچے بھی بند ہوگئے جو صرف زبان کے ذائقے کی خاطر ہم لوگ کرتے تھے اور یہ یقین مضبوط ہوگیا کہ صرف بنیادی ضروریات پر بھی جیا جاسکتا ہے۔

اپنے ساتھ وقت :
اس دوران چونکہ مصروفیات بند ہوگئی تھیں تو ہمیں اپنے ساتھ وقت گزارنے کابھی موقع ملا ۔خود کو سمجھا اور آنے جانے والے خیالات و تصورات کے بارے میں غور کیا ، نیز مراقبے کا موقع بھی ملا، مائنڈ فلنیس کی مشقوں سے خود کو بڑی حد تک بہتر کیااور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی کمپنی کو خوب انجوائے کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے لیے کچھ اہداف اور گولز مقرر کیے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں۔

عادات میں تبدیلی :
ہر طرف فرصت ہی فرصت تھی تو ہم نے کچھ ایسی عادات زندگی میں شامل کیں جو تعمیری ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی تھیں اور جنہوں نے ہماری ذہنی و فکری ترقی میں کافی مدد دی۔ایک عادت مطالعے کی تھی ، ہم نے روزانہ کی بنیاد پر کتابیں پڑھنے کی روٹین بنالی، اس کے ساتھ ساتھ ایکسر سائز اور گھر کے کاموں میں فیملی کی مدد بھی کرتے رہے.

خدمتِ خلق:
فرصت کے ان لمحات میں میں نے کوشش کی کہ اپنے گھر کو بھی صاف رکھوں اور محلے کو بھی ،چنانچہ ہمارے گھر کے پاس والا پلاٹ جو کہ کافی عرصے سے بندہونے کی وجہ سے کچرے سے بھر گیا تھا اور آنے جانے والوں کے لیے تکلیف کا سبب بن گیا تھا ، میں نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر اس کی صفائی کی ،تاکہ دوسرے لوگوں کو اذیت نہ ملے۔
میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کرہنگامی بنیادوں پر ایک رفاہی تنظیم بنائی اوروہ تمام غریب لوگ جن کی محنت مزدوری ان حالات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوگئی تھی اور ان کے گھر میں فاقے شروع ہوگئے ، ان کے لیے راشن کا بندوبست کیا ۔اس کے لیے کچھ رقم ہم نے خود جمع کی اور باقی تمام کے لیے اپنے متعلقین سے چندہ جمع کیا تا کہ مستحق افراد تک ہر قسم کی مدد پہنچائی جاسکے ۔
ہم نے قرنطینہ سینٹر میں بھی مریضوں کی خدمت کی ، انہیں کھانا پینا پہنچایا اور اس کے ساتھ جس قدر خدمت کی ضرورت تھی ،وہ بھی پوری کی۔

پھل اور سبزیاں:
فرصت سے میں نے یہ فائدہ لیا کہ گھر کی ڈیکوریشن پر توجہ دی ،صفائی ستھرائی کی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مختصر زمین پر پھل او ر سبزیاں بھی اُگائیں ،جس سے نہ صرف ایک مفید مشغلہ ملا بلکہ گھر کے استعمال کے لیے تازہ سبزیاں بھی ملنے لگیں۔

واقعات کو معانی دینا:
اپنی گزشتہ زندگی پر ہم نے نظر دوڑائی اور شروع سے لے کرآج تک کے تمام واقعات اور ان کی کڑیوں کو جوڑا ، انہیں معانی دینے کی کوشش کی ۔موجودہ ایام میں جن حالات کا ہمیں سامنا ہے ،ان کے معنی بھی تلاش کیے اور دِل میں یہ یقین بیٹھ گیا کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ بھی انسا ن کے ساتھ ہوتاہے اس میں بہتری ہوتی ہے اورہماری پلاننگ کے اوپر بھی ایک پلانر(Planner)ہے جو اپنی پلاننگ کے مطابق کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔یہ سب دیکھ کر موجودہ نعمتوں پر دِل سے اللہ کا شکر اداکیا۔

خواہش اور ضرورت میں فرق:
معاشی بدتری کے ان ایام میں احساس ہوا کہ ہماری زندگی کا زیادہ تر حصہ خواہشات پر چل رہا تھا۔اب چونکہ روٹی کی فکر لگ چکی ہے تو معلوم ہوا کہ صرف بنیادی ضروریات پوری کرکے بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے جو اگر پوری ہوں تو پھر خواہشات کے پیچھے خود کوخوار کرنے کی ضرورت نہیں.

آن لائن بزنس:
اس بحرا ن نے یہ فائدہ دیا کہ ہم نے اپنی فرصت کو بزنس بنالیااور فری لانسنگ شروع کردی۔دِل لگاکر کام کیا اور اللہ کے فضل سے بہت اچھے نتائج ملے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن چیزیں بھی مناسب داموں پربیچنا شروع کیں جن سے جہاں ہمیں عوام کی خدمت کا موقع ملا وہیں گھر بیٹھے مناسب آمدن بھی ہوگئی۔

موت کے منہ سے واپسی:
میں کورونا کا شکار ہوئی اور الحمدللہ صحت یاب ہوگئی مگر ایک خیال جس نے بیماری کے دوران مجھے جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا کہ ابھی صرف اور صرف مجھے صحت او ر زندگی چاہیے اور اس کے بدلے اگر مجھ سے میرا سب کچھ لے لیا جائے تو بھی میں تیار ہوں ۔اب سمجھ آگئی ہے کہ صحت بھری زندگی کے سامنے دنیا اور مال ومتاع کی کوئی حیثیت نہیں.

اصل ہیروز:
اس بحران نے ہمیں دِکھایا کہ فلم سٹاراور کرکٹرزہمارے ہیرو ز نہیں بلکہ زندگی کے اصل ہیروز تو ڈاکٹرز، نرسز ، پیرا میڈیکل سٹاف ، پولیس ،دوکان دار ،بینکرز اور کسان ہیں ،جو ان سخت حالات کے باوجود بھی ہماری ہی خاطر خطرات سے لڑرہے ہیں۔

کرائسس مینجمنٹ:
عقل مند شخص راستے کی رکاوٹ کو بھی اپنے لیے سیکھنے کا موقع بنالیتا ہے ۔میں نے اس بحران میں کرائسس مینجمنٹ اور سیلف کنٹرو ل جیسے اہم موضوعات کو پڑھا ، سیکھا اور عملی طورپر ان کو زندگی میں لایا۔

بچوں کی بہترین تربیت:
بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا ،ان کے ساتھ خوش گوار اوقات گزارے اوران کو بہت قریب سے سمجھا ۔بچوں سے میں نے خود کافی کچھ سیکھا ۔اس کے ساتھ ساتھ جہاں بچوں کی اصلاح کی ضرورت تھی وہاں تربیت بھی کی.

ہوم اسکولنگ:
چونکہ اسکولز بند ہیں ،اس لیے ہم نے گھر میں ہی بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ایک وائیٹ بورڈ لگایا اور مخصوص وقت پر انہیں مختلف طرح کے موضوعات آسان انداز میں پڑھانے شروع کیے۔پڑھائی کو ہم نے ایک تفریحی مشغلہ بنایا،بچوں کا وقت بھی اچھا گزرا اور انہوں نے بہت کچھ سیکھ بھی لیا۔

اپنے پیاروں کو کھویا:
ہم میں سے اکثر نے اس دوران اپنے پیاروں کو کھویا،ان کے جانے کا دُکھ شدید ہے اورشاید عمر بھر رہے مگر چونکہ یہ شہادت کی موت ہے اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اللہ رب العزت نے انہیں اپنی رحمت سے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کیا ہوگا۔اس دُکھ کے بعد اپنے رب کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہوگیا۔

وقت نے آئینہ دِکھادیا:
ان اعصاب شکن حالات نے ہمیں آئینہ دِکھادیا اور ہر وہ چیز جسے ہم اپنی زندگی کے لیے بے حد ضروری خیال کرتے تھے،اس کی حقیقت بھی بتادی ۔زندگی میں ٹھہراؤ آگیا۔مزاج میں صبر اور برداشت آگئی اور دِل نے کہا کہ اتنی دوڑ جو ہم نے دنیا کے لیے لگارکھی تھی وہ بے فائدہ تھی۔آج صرف اللہ کے ساتھ تعلق اور اپنے نیک اعمال کام آرہے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*