کورونا بحران پر بھاری بہار الیکشن کی تیاری-ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

کورونا بحران کے بیچ بہار میں انتخابی سمر کیسا رہے گا، اس کی پوری تصویر تو دکھائی نہیں دے رہی، لیکن جو دیکھائی دے رہا ہے ،وہ ہے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا پوسٹر۔ جو پورے دم خم کے ساتھ کہنے کی کوشش کر رہا ہے ہاں میں ہوں نتیش کمار۔ ہاں آپ صحیح پڑھ رہے ہیں، یہ نعرہ بہار الیکشن کے انتخابی اسٹیج سے سنائی دینے والا ہے۔ جے ڈی یو نے جو انتخابی پوسٹر لانچ کیا ہے اس پر لکھا ہے’وکاس کے پتھ پر چل پڑا بہار، میں اس کی ہی قطار ہوں۔ بہار کے وکاس میں، میں چھوٹا سا بھاگیدار ہوں۔ ہاں میں نتیش کمار ہوں‘۔ پوسٹر پر جے ڈی یو کا انتخابی نشان’ تیر‘ بھی دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ بہار میں انتخابی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ سبھی سیاسی جماعتوں نے اپنے طریقہ سے انتخابی تیاری شروع کر دی ہے۔ ’پانی پانی بہار، ہاں میں ہوں نتیش کمار‘ کا طنز کرتے ہوئے آر جے ڈی اور کانگریس نے اس پر بنیادی سوال اٹھائے ہیں۔ ویسے امت شاہ ورچول ریلی کے ذریعہ پہلے ہی بہار میں چناوی بگل بجا چکے ہیں۔ انہوں نے 243 اسمبلی سیٹوں کے 72000 بوتھوں پر بی جے پی کے کارکنان کو خطاب کر کے الیکشن کی تیاری شروع کرادی تھی۔ کورونا کی شدت اور لاک ڈاؤن کے دوران ہر جگہ ایل ای ڈی سیٹ، انٹرنیٹ کنکشن اور بجلی کا انتظام کر کے شو کر لینا کم بڑی بات نہیں ہے۔ ریلی پر سو کروڑ روپے کے خرچ کا اندازہ ہے، یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے 24 لاکھ مزدوروں کو ان کے گھر پہنچایا جا سکتا تھا۔
بہار میں انتخابی مہم ایسے وقت چھیڑی گئی ہے جب یہاں سیلاب اور کورونا سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ پوری ریاست پانی پانی ہے، ندیاں افان پر ہیں، پانی کی نکاسی کا نظام پوری طرح درہم برہم ہے۔ پانی بھرنے کی وجہ سے ڈاکٹروں کو ٹھیلے پر بیٹھ کر کورونا سینٹر تک جانا پڑ رہا ہے۔ خود پٹنہ شہر کا برا حال ہے، پانی جمع ہونے کی تصویریں سوشل میڈیا پر تیر رہی ہیں۔ گوپال گنج میں گنڈک پر 264 کروڑ کی لاگت سے 8 سال میں بن کر تیار ہوا پل محض 29 دن میں بہہ گیا۔ ستر گھاٹ کے اس پل کی تعمیر 2012 میں شروع ہوئی تھی۔ جس کا 16 جون کو بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ورچول تکنیک سے افتتاح کیا تھا۔ دوسری طرف کورونا کے معاملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزارت صحت نے انفیکشن روکنے اور شرح اموات کو ایک فیصد سے کم رکھنے کیلئے نئے سرے سے کوشش کرنے کو کہا ہے۔ وزارت صحت کے جوائنٹ سیکرٹری لو اگروال نے ریاست کے چیف سیکرٹری (صحت) کو اس سلسلے میں خط لکھا ہے۔ بہار میں کووڈ۔19 کے متاثرین27 ہزار سے زیادہ اور مرنے والوں کی تعداد 180 ہو چکی ہے۔ دوسری ریاستوں کے مقابلہ یہاں کورونا کے سب سے کم ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔
12.85 کروڑ آبادی والی ریاست میں سرکاری و نجی اسپتالوں کی تعداد 3034 ہے۔ جن میں نارمل بیڈ 30857، آئی سی یو بیڈ 1543 اور وینٹی لیٹر 771 ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا 20 جون 2019 کی رپورٹ کے مطابق بہار میں 29 ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر اور 8645 کے لئے ایک بیڈ دستیاب ہے۔ اگر نجی اسپتالوں کو بھی جوڑ لیا جائے تو 4146 لوگوں کو ایک بیڈ مل سکتا ہے۔ بہار ہیلتھ کیئر پر سب سے کم خرچ کرنے والی ریاست ہے۔ کورونا جیسی وبا کا مقابلہ اس خراب نظام صحت کی بنیاد پر کیسے ممکن ہے۔ این ایم سی ایچ اسپتال پٹنہ سے سامنے آئے تازہ معاملہ نے پورے نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ کورونا کا ایک مریض نجی آکسیجن سلنڈر لے کر اسپتالوں کے چکر کاٹتا رہا۔ اس نے ڈپٹی وزیر اعلیٰ ششیل کمار مودی اور تیجسوی یادو کو کئی مرتبہ فون کیا۔ لیکن کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ آج تک کے نامہ نگار کو اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے اس نے بتایا کہ دو گھنٹے سے وہ اسپتال کے باہر اپنی گاڑی میں آکسیجن سلنڈر کے ساتھ بیٹھا ہے لیکن اسپتال کا کوئی اسٹاف اس سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اس خبر کے نشر ہونے کے بعد اسے وارڈ میں بھرتی کیا گیا۔ کم و بیش پورے ملک کا یہی حال ہے۔ دہلی جیسی جگہ میں بھی کئی مریض اسپتال نہ ملنے کی وجہ سے ہی موت کا نوالہ بن چکے ہیں۔
سیلاب، کورونا اور بے روزگاری سے جوجھ رہے بہار کے عوام اہل سیاست سے امید کر رہے تھے کہ وہ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ پارٹی سے اوپر اٹھ کر ان کی مدد کریں گے۔ مگر ملک اور ریاست کے سیاست دانوں کا دھیان ان مسائل کے بجائے الیکشن کی تیاری پر ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے بہار کے مزدوروں کے پسینے کی خوشبو ملک کی مٹی میں محسوس کی لیکن انہیں ان مزدوروں کی پریشانیاں دکھائی نہیں دیں جو ہزاروں کلومیٹر کا پیدل سفر کرکے اپنے گھر پہنچے۔ وہیں وزیراعظم بھارت چین سرحد پر شہید ہوئے جوانوں کو بہار سے جوڑا، اور مفت اناج اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے عید الاضحیٰ تو یاد نہیں رہا لیکن چھٹ کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔ غریب کلیان روزگار یوجنا کا آغاز بھی انہوں نے ضلع کھگڑیا بہار، بیلدور بلاک کے تیلی ہار گاؤں سے ہی کیا۔ اس میں سات ریاستوں کے 116 اضلاع کو شامل کیا گیا ہے، جس میں سے 32 ضلعے بہار کے ہیں۔ حکومت کی غریب کلیان روزگار یوجنا قابل ستائش ہے۔ مگر موجودہ اسکیموں میں مل رہی سہولیات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہو پا رہا ہے۔ مثلاً کھگڑیا ضلع کے 1010 اسکولوں کا مڈ ڈے میل کیلئے اندراج ہے۔ ان میں 358700 بچوں کو مڈ ڈے میل ملنا چاہئے۔ اگر بات کریں بیلدور بلاک کی تو وہاں 138 اسکولوں کے 49114 بچے مڈ ڈے میل کے مستحق ہیں لیکن پچھلے دو ماہ سے انہیں مڈ ڈے میل نہیں ملا ہے۔ کسانوں کو ملنے والی سمان ندھی بھی یہاں کے سب کسانوں تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ غریبوں کو روزگار دینے کی اسکیم سیاسی اعلان سے آگے شاید ہی بڑھ پائے۔
پچھلے بہار اسمبلی الیکشن کے دوران 18 اگست 2015 کو آرا کی ریلی میں مودی جی نے بولی لگا کر ریاست کیلئے 125 کروڑ کا خصوصی پیکیج دیا تھا۔ اس کا جائزہ بھی مایوس کرنے والا ہے۔ پیکیج میں 21476 کروڑ پیٹرولیم گیس، ریفائنری کیلئے دیئے گئے تھے۔ اس کے تحت جو کام ہونے تھے وہ نہیں ہو سکے۔ ایک ہزار کروڑ تعلیم پر خرچ ہونے تھے، بھاگل پور کے نزدیک سینٹرل یونیورسٹی اور بودھ گیا میں آئی آئی ایم بننا تھا۔ آئی آئی ایم کا کیمپس ابھی تیار نہیں ہوا ہے اور یونیورسٹی کیلئے جگہ تک فائنل نہیں ہو پائی ہے۔ صحت کے شعبہ میں 600 کروڑ خرچ ہونے تھے اس شعبہ کی حالت کا ذکر ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے کیلئے 54713 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ 7 مارچ 2020 کو پٹنہ ہائی کورٹ کو ریاست کے چیف سکریٹری کو بلا کر کہنا پڑا کہ راج مارگ کیوں نہیں بن رہا ۔آپ ایک کمیٹی بنا کر اس کام کو مکمل کرائیے۔ 8870 کروڑ روپے نئی ریلوے لائن بچھانے اور ٹریک ڈبل کرنے وغیرہ پر خرچ ہونے تھے۔ ریلوے کے 55 پروجیکٹ اٹکے پڑے ہیں۔ ان کو پورا کرنے کیلئے 2247 کروڑ روپے اور مانگے گئے ہیں۔ پونیہ پرسون باجپئی کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت سے پیسے نہ ملنے کی وجہ سے وزیراعظم گرام سمپرک یوجنا، وزیر اعلیٰ گرام سمپرک یوجنا اور گرام ٹولہ سمپرک یوجنا کا کام ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ کسان کلیان اور اسکل ڈویلپمنٹ ہر جو رقم خرچ ہونی تھی وہ بھی نہیں ہو پائی ہے۔
صوبہ کے سیاست داںریاست کی کشیدہ حالت اور عوام کی تکلیفوں پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ، دل بدل اور انتخابی تکڑموں میں لگے ہیں۔ مہروں کو جانچا پرکھا جا رہا ہے کہ کس پر داؤ لگایا جائے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں کے اہل سیاست اتنے بے غیرت، بے حس، جذبات و احساسات سے عاری ہوں گے جتنے ہمارے ملک کے ہیں۔ انہیں سنگین حالات میں بھی الیکشن دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ نتیش کمار کو آگے کر کے چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پندرہ سال کی اینٹی ان کمبینسی سے عوام کا دھیان ہٹانے کیلئے نتیش کمار کو سو شاسن(گڈ گورننس) بابو، وکاس پروش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی لالو پرساد کے پندرہ سالہ دور اقتدار کے نام پر ووٹ مانگنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ لوگوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ نتیش نہیں تو کون؟ موجودہ پوسٹر اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پوری طرح بکھرا ہوا ہے۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ جبکہ اگر وقت پر الیکشن ہوا تو تیاری کیلئے سو دن سے کم کا وقت بچا ہے۔ چھوٹی پارٹیوں نے آر جے ڈی، کانگریس کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر گٹھ بندھن کا جلدی فیصلہ نہیں ہوا تو وہ کوئی آزاد فیصلہ لے سکتے ہیں۔ دوسری طرف نتیش کمار دوسری پارٹیوں کے لیڈران کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے جارحانہ انداز میں کوشش کر رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کورونا بحران اور سیلاب سے پیدا ہوئے سنگین حالات کو کیا لوگ الیکشن تک یاد رکھیں گے؟ لاک ڈاؤن کے دوران دیگر ریاستوں میں پھنسے بہار کے طلبہ اور مزدور ریاستی حکومت سے واپسی کی گہار لگا رہے تھے ،اس وقت کے نتیش کمار کے رویہ کو عوام کیا بھول پائیں گے؟ گزشتہ سال کے سیلاب، پانی بھراؤ، چمکی بخار وغیرہ کے درد کو کیا یہ چمک دار پوسٹر کم کر پائے گا؟ پھر بھی کیا نتیش کمار اسٹیج سے پورے جوش کے ساتھ کہہ پائیں گے کہ میں ہوں نتیش کمار۔ پوسٹر پر تصویریں بھلے ہی کتنی چمکیلی ہوں لیکن بہار کے لوگ ریاست کی جو تصویر دیکھ رہے ہیں اسے کیسے جھٹلا پائیں گے۔ ہو سکتا ہے جب وہ یہ نعرہ لگائیں کہ ہاں میں ہوں نتیش کمار تو عوام کی طرف سے جواب آئے ہاں ہم جانتے ہیں۔ عوام کیا جانتے ہیں یہ الیکشن کے نتائج بتائیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)