کورونااورشراب-سراج کریم سلفی

(اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
اس وقت پوری دنیا میں کورونا کے قہر سے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔خوف ود ہشت کے سائے میں سانسیں لی جارہی ہیں۔وائرس سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی طرف سے بتائے گئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ احتیاط کے پیش نظر دنیا قید خانہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔کاروبار زندگی پوری طرح معطل ہے، مگر وائرس ہے کہ اپنے پیر پسارتے جارہا ہے۔ وطن عزیز ہندوستان میں بھی حالات کی سنگینی اور خطرناکی کے پیش نظر 25 مارچ سے ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا اور اب یہ لاک ڈاؤن اپنا تیسرا چلہ بھی پورا کرنے والا ہے۔ اچانک اور غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو سخت ترین مسائل کا سامنا ہے،بالخصوص مزدور طبقہ انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔لاکھوں مزدور مہاجرت اور دربدری کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ کئی مزدورمسافر اپنے وطن پہنچنے سے قبل ہی مختلف حادثات کے شکار ہوکر دنیا سے چل بسے۔ایک بڑی آبادی بھوک مری کی شکار ہے، اور ا ب تو آبادی کا متوسط طبقہ بھی فاقہ کشی کے دہانے پر ہے۔اتنی بڑی سنکٹ اور مہاماری کے دوران حکومت بجائے اس کےکہ عوام ، بالخصوص مزدور کے مسائل کا مناسب حل تلاش کرتی، تالی ،تھالی بجاؤ اور دیا جلاؤ کے حکم نافذ کرکے لاک ڈاؤن کی توسیع کرتی گئی، اور پی ایم کیئر( PM Care ) کے ذریعہ عوام کے کروڑوں روپے لوٹتی رہی، (اس کا مصرف کیا ہے، ابھی تک پردئہ خفا میں ہے)۔ اس ہاہاکاری کے بیچ حکومت کی طرف سے ایک عاقبت نا اندیشانہ اور تخریبانہ فیصلہ لیا گیا ، ہوا یہ کہ حکومت نے اپنی نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 مئی سے کھلے عام شراب کی مارکیٹنگ کی اجازت دے دی ۔ کورنا کا قہر کیا کم تھا کہ اس کے اوپر شراب کی وبا۔یہ بات قابل غور ہے کہ ایک زہر (کورونا وائس) کی وجہ سے جب دنیا تعطل کی شکار ہے،اشیاء خورد ونوش کے لالے پڑے ہیں تو دوسرا زہر فروخت کرنے کی اجازت کیوں کر دی گئی، قبل اس کے کہ جواب تلاش کیا جائے مناسب ہوگا کہ انسانی صحت کے لیے شراب کے مضر اثرات بالخصوص موجودہ صورت حال میں اس کی ہلاکت خیزی پر مختصرا روشنی ڈال دی جائے۔
شراب کے مضر اثرات:
شراب انسانی صحت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔شراب خور شراب کی شکل میں زہر پی رہا ہوتا ہے۔بدن کا کونسا عضو ہے جو شراب سے متاثر نہ ہوتا ہے۔ یہ ہزاروں امراض کی جڑ ہے،اس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہر سال لاکھوں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہرسال تقریبا 2.84 ملین اموات ہوتی ہیں۔ کورونا وائرس کے ابتدائی دور میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ شراب کورونا سے لڑنے میں معاون ہے۔ اس افواہ کے شکار ہوکر ایران میں سیکڑوں افراد زہریلی شراب پی کر اپنی جان گنواں بیٹھے۔ پچھلے ہندوستان میں زہریلی شراب کے استعمال سے کئی ہلاکتیں ہوئیں۔
یوں تو انسانی جسم پر شراب کے ہزاروں مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص نقصانات کایہاں تذکرہ کیا جاتا ہے۔
٭شراب کا سب سے زیادہ منفی اثر گردہ (Kidney) پر ہوتا ہے۔دراصل شراب نوشی کی وجہ سے دماغ کے وہ ہارمونز متاثر ہوتے ہیں جو جگر کو بھاری مقدار میں پیشاب بنانے سے روکتے ہیں۔ شراب کی وجہ سے یہ ہارمونز معمول کے مطابق اپنی ذمہ داری نہیں ادا کرپاتے ۔ کثیر مقدار میں پیشاب بننے کی وجہ سے گردے کو متعدد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کے علاوہ دوسرے واسطے سے بھی شراب کی وجہ سے گردہ متاثر ہوتا ہے۔
٭شراب جگر(Liver) کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔لیور سیلس (Liver Cells)کے لیے شراب زہر کے مترادف ہے۔کثیر مقدار میں شراب پینے سے جگر خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
٭بدن میں خون کی کمی (Anemia) کی شکایت ہوجاتی ہے۔
٭ نظام ہاضمہ(Digestive system) کو متاثر کرتی ہے۔
٭ نظام تنفس (Respiratory system) کو نقصان پہنچاتی ہے۔
٭قوت مدافعت (Immune system) کمزور ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ شراب مختلف طرح کے کینسر، نفسیاتی امراض، دل کی بیماریوں،متعدد درد، مرگی اور شوگر وغیرہ لاتعداد امراض و عوارض کی وجہ بنتی ہے۔
موجودہ صورت حال میں شراب نوشی کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتا ہے کہ معمولی امراض کے شکار شراب خور کے لیے اس کی خطرناکی بڑھ جاتی ہے تو بھلا کورونا جیسے وائرس کی موجودگی میں یہ کتنی ہلاکت خیز ہوسکتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ شراب خصوصا جسم کے انہیں اعضاء رئیسہ کو نقصان پہنچاتی ہے جن پر کورونا وائرس حملہ آور ہوتا ہے، اور جو وائرس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد درج ذیل اعضاء (Organs) کو نشانہ بنا تا ہے۔(1) پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ (2) اس سے معدہ اور آنتیں کافی متاثر ہوتی ہیں۔ (3) جگر اور گردے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ (4) دل اور خون کی شریانوں پر اثر اندازہوتا ہے۔ (5) من جملہ طور پر نظام تنفس (Respiratory system) پر خلل ڈالتا ہے۔ (6) مدافعتی نظام (Immune system) کو کمزور کرتا ہے۔
در حقیقت موجودہ حالات میں شرا ب نوشی نہ صرف جسم کو کورونا سے لڑنے کے ناقا بل بنادیتی ہے بلکہ حملہ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ متعدد ڈاکٹروں نے موجودہ صورت حال میں شراب نوشی کو سنگین قرار دیا ہے اوراس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے شراب نوشی کی وجہ سے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کا بیان ہے۔ “Alcohol consumption is associated with a range of communicable and noncommunicable diseases and mental health disorders, which can make a person more vulnerable to COVID-19.In particular, alcohol compromises the body’s immune system and increases the risk of adverse health outcomes.” (https://www.globalnews.ca)
(شراب نوشی مختلف متعدی و غیر متعدی بیماریوں اور ذہنی خلجان کا سبب ہے جس کی وجہ سے کسی شخص کے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ شراب بالخصوص جسم کی قوت مدافعت کو کمزور کردیتی ہے اور اس سے صحت کی ابتری کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔)
ڈییل میڈیسن کے ماہر ادویات ڈاکٹر جینیفر ایڈیلمین(Dr. E. Jennifer Edelman) کے مطابق "شراب جسم کے اندر نظام مدافعت کے خلیوں(Cells)سمیت متعدد منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے سنگین انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔”
جنوبی کیلیفورنیا کے فزیشین (Physician) ڈاکٹر الیکس مرسوزک میک ڈونلڈ ر(Dr. Alex Mroszczyk-McDonald)رقمطراز ہے۔ "اگر کسی شخص کے سانس کی نالی پر استوار خلیوں (Cell) کو شراب کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، تو پھیلی ہوئی ذرات، جیسے کوویڈ 19 بآسانی حملہ کرسکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مدافعتی خلیات جن کا عمل انفیکشن سے لڑنا ہے ،صحیح سے اپنا کام نہیں کرپاتی ہیں۔ ساتھ ہی سنگین بیماریوں اور پیچیدگیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔(https://www.healthline.com)
مذکورہ اقتباسات کے علاوہ متعدد ڈاکٹروں اور ماہرین نے موجودہ صورت حال میں شراب نوشی کو سنگین گردانا ہے اور اس وبائی فضا میں اس کی فروخت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکوت کی بے حسی:
اس وقت سوال یہ ہے کہ اتنے مخدوش حالات میں حکومت نے شراب فروخت کرنے کی اجازت کیوں دی۔ کیا حکومت کورونا کی اس مہاماری میں شراب کی فروخت کی سنگینی سے نا واقف ہے ؟ کیا اسے اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ نہیں ہے؟۔ درحقیقت سچائی یہ ہے حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے اس غیر دانشمندانہ فیصلے سے کس قدر کورونا مریض میں اضافہ ہوگا، کتنے افراد سنگین حالات سے دوچار ہوں گے۔ کتنے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ برسراقتدار پارٹی کے افراد کی پیشانیوں میں شکنیں نہیں پڑتیں کہ مزدور لامکانی و لاچاری سے دوچار ہیں۔ انہیں بھوک اپنی آغوش میں سلارہی ہے، ٹرینیں کچل رہی ہیں ، زہریلی گیسز اپنا شکار بنا رہی ہیں۔یہ حکومت بے غیرتوں اور زرپرستوں کی ہے۔ اسے صرف سیاست اور مفاد سے مطلب ہے۔ جو حکومت سیاسی اغرا ض و مقاصد اور مفاد پرستی کے لیے پورے ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک سکتی ہے اس کے لیے چند زندگیاں کیا معنی رکھتی ہیں۔
اس وبائی فضا میں شراب کی فروخت کی اجازت دینا اس کی مفاد پرستی کا ایک شاخسانہ ہے۔منشیات کی تجارت کو موجودہ دنیا کی معیشت میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ ملکوں کی جی ڈی پی(GDP) کا رخ متعین کرتی ہے۔اس وقت منشیات کی تجارت کو اسلحہ کے بعد سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار مانا جاتا ہے۔ہندوستان میں شراب کی تجارت سے سالانہ اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019-20 میں شراب کی تجارت سے مجموعی طور پر تمام صوبوں میں 2.5 لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوئی ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان کی لڑکھڑاتی معیشت لڑھکنے کے کگار پر ہے۔اسی لڑکھڑاتی معشیت کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے عوام کی جانوں سے کھیلتے ہوئے یہ عاقبت نااندیشانہ فیصلہ لیا ہے۔فی الوقتحکومت اپنے مقصد میں کامیاب نظر آرہی ہے اور تیر نشانے پر لگ رہا ہے۔ نادان عوام شراب کی چاہت میں اپنی جان کی بازی کھیل رہی ہے۔لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، شراب کی فروخت خوب ہورہی ہے ،رپورٹ کے مطابق پہلے ہی دن میں صرف پانچ صوبوں میں 554 کروڑ کی کمائی ہوئی۔بعض صوبوں نے شراب کے تئیں عقل سے معذور عوام کی رغبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی ٹیکس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔اس فیصلہ کے بعدگرچہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہورہی ہےلیکن سوال یہ ہے کہ اس کے ہونے والے منفی اثرات کا کون ذمہ دار ہوگا ۔ خبروں کے مطابق شراب کی دکانیں کھلنے کے بعد کورونا مریض کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور مزید تناسب میں اضافہ کا امکان ہے ، آگے سماج پر اس کے اور کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
پچھلے دنوں تبلیغی مرکز کے معمولی مسئلہ کولے کر حکومت نے ہوا کھڑا کردیا تھا اور اپنی ناکامی کا سارا ٹھیکرا تبلیغیوں اور مسلمانوں پر پھوڑا تھا۔ اس وقت حکومت کی نادانی اور بے حسی کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑ رہی ہیں اور مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا، کیا حکومت اس کی ذمہ داری لے گی ، یا پھر کسی تبلیغی کو تلاش کرکے گی۔کیا شراب پر پابندی عائد کرے گی، یا اپنی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،عارضی مفادات کی خاطر عوام کو شراب کی بھٹی میں جھونک دے گی۔حالاں کہ عوام کے تئیں حکومت کی اس بے حسی اور اس جاہلانہ فیصلہ کی متعدد شخصیات نے سخت مذمت کی اور فیصلہ واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت سے اس کی امید لگانا سراب کے مترادف ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)