کورونا اور مدارس اسلامیہ- نازش ہما قاسمی

کورونا وائرس کی تباہ کاریاں پوری دنیا میں جاری ہیں، ۲۰۲۰ میں سات آٹھ ماہ کے بعد کچھ امید ہو چلی تھی کہ اب اس وبا سے چھٹکارہ مل جائے گا؛ کیونکہ اس مہلک وبائی مرض کی ویکسن بھی آگئی تھی؛ لیکن پھر کورونا کو ایک سال ہوتے ہوتے اس کی دوسری لہر نے پوری دنیا کو دوبارہ اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے اور سال گزشتہ کی طرح ایک مرتبہ پھر پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے۔ کورونا مہاماری ایک طرف جہاں انسانوں پر موت کی بجلی بن کر سامنے آئی ہے، وہیں اس نے دنیا کی معیشت کو مکمل طور پر برباد کردینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ دینے والا ہاتھ اب لینے والا ہاتھ بن آگیا ہے۔ سال گزشتہ پہلی بار اس کا سامنا ہوا تھا؛ اسی لئے بڑی تعداد میں مخیرین حضرات نے بڑھ چڑھ کر غریب اور متوسط طبقوں کی خدمت کی؛ لیکن ایک سال سے ان کی معیشت مکمل ٹھپ پڑ چکی ہے اور اب دوسری لہر کا سامنا ہے۔ کورونا وبا کی زَد میں ہم مسلمانوں کے لیے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھنے والے مدارس اسلامیہ بھی آئے ہیں، یہ مدارس ہمارے عقائد کی حفاظت کا مستحکم قلعہ ہیں؛ لیکن مدارس کی جانب کسی کی توجہ نہیں جاتی ہے، اسکول و کالج بھی کرونا کی زد پر تو آئے؛ لیکن انہوں نے مختلف راستوں سے اپنی انکم کا ذریعے بنائے رکھا، آن لائن تعلیم دے کر اپنے طلبہ سے مکمل فیس وصول کی، جن طلبہ نے فیس ادا نہیں کی ان کو یا تو واٹس اپ گروپوں سے نکال دیا گیا یا امتحانات دینے کی اجازت نہیں دی گئی اور پورا سال پڑھنے کے باوجود بھی ان غریب طلبہ کا سال ضائع اور برباد کردیا گیا جو فیس دینے کی اہل نہیں تھے؛ لیکن مدارس اسلامیہ ہمارے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو مفت تعلیم دیتے ہیں، یہ فیس کے نام پر اسکول و کالج والے کی طرح بے غیرتی نہیں کرسکتے اور نہ ہی فیس کی وجہ سے طلبہ کا سال برباد کرسکتے ہیں، ان کے پاس عوامی تعاون کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہیں ہے، کرونا آفت کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کو سال گزشتہ بھی مکمل نظرانداز کیا گیا اور ممکن ہے کہ اس بار بھی بالکل نظر انداز کردیا جائے۔ سال گزشتہ اصحابِ خیر یہ کہہ کر مدارس کو نظر انداز کر رہے تھے کہ ہم نے اپنی زکوٰۃ غریبوں کو کھانا کھلانے کے مصرف میں دیدی ہے یا ہم خود اپنی زکوٰۃ کے پیسوں سے لنگر چلا رہے ہیں، فی الحال انسانی جان کا بچانا بہت ضروری ہے، جب مدارس کھلیں گے تب ہم ان کا بھی تعاون کردینگے، سر دست ہمارے سامنے بھوکے پیاسے غریب انسان ہیں جن کی جان بچانا ضروری ہے، بات سمجھ میں آنے والی تھی اور مدارس کے ذمہ داروں نے سمجھداری کا مظاہرہ بھی کیا، درمیانی سال میں بھی مدارس کو کچھ نہیں ملا، اساتذۂ کرام کی تنخواہیں بھی مدارس نہیں دے پائے، جس کی وجہ سے اساتذۂ کرام نے دلبر داشتہ ہوکر مدارس کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا، کوئی سبزی بیچنے لگا تو کسی نے کوئی اور ذریعۂ معاش اختیار کرلیا، اگر اس سال بھی یہی صورت حال رہی تو مدارس اپنے تجرکار اور محنتی اساتذہ کو کھو دینگے اور آئندہ بھی کوئی عالم مدارس میں ملازمت کرنا پسند نہیں کرے گا، یہ ہمارے اسلامی قلعوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا؛ اس لیے قوم کے مخیر حضرات سے گزارش ہے کہ وہ ان اسلامی پاور ہاؤسز پر توجہ فرمائیں اور مدارس کی دامے، درمے، قدمے سخنے تعاون فرمائیں؛ ورنہ ہمارے مدارس بند ہوجائیں گے اور یہ ہمارا اتنا بڑا نقصان ہوگا جس کی تلافی صدیوں میں بھی نہیں ہوپائے گی۔
میری اس تحریر کا مقصد مسلمانوں کے ذہن کو اس جانب مبذول کرانا ہے، ایک طرف آپ جہاں بڑھ چڑھ کر کار خیر میں حصہ لے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف دین اسلام کے ان عظیم اسلامی قلعوں کی حفاظت کے لئے انہیں مضبوط بنائیں، سال گزشتہ کا رمضان گیا، بقرعید گئی اور اب پھر رمضان آگیا، مدارس اسلامیہ کے لیے صورتحال یکساں ہی رہی، بہت سارے مدارس میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے مدرسین و ملازمین کو تنخواہیں بھی میسر نہ ہوئیں۔ بہت سارے علماء اور حفاظ نے مدارس چھوڑ کر معاشی خوشحالی کے لئے دوسرے میدان میں قدم رکھا اور کسی طرح اپنے اہل و عیال کی کفالت کررہے ہیں۔ ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ ایک مولوی اگر مدرسے میں ملازم ہے تو ساتھ ہی خالی اوقات میں تجارت بھی کرے؛ لیکن ایسا بہت کم دیکھنے کو نظر آتا ہے اولاً اس سلسلے میں مدارس کو اپنے گھر کی باندی سمجھنے والے مہتمم انہیں مدارس سے باہر کسی سرگرمی کی اجازت ہی نہیں دیتے اور اگر کچھ لوگ دیتے بھی ہیں تو اتنی شرائط کے ساتھ کہ اس اجازت پر عمل کرنا دشوار ترین ہوتا ہے، پھر بے چارہ مدرس اسی قلیل آمدنی میں عزت سے مہتمم کے ہاتھوں ذلیل ہوتا رہتا ہے، نہ کہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بس مہتمم کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتا ہے۔ خیر بات چل رہی تھی کورونا بحران میں مدارس اسلامیہ کے امداد کی تو اس جانب مسلمانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہم اس بحران پر قابو پالیں اور دنیا اپنے معمول پر آجائے، اس وقت ہم اپنے دینی قلعے کی طرف دیکھیں تو وہ اس قابل نہ ہوں کہ دوبارہ ہمارے عقائد کی حفاظت کرسکیں۔ اپنی نسلوں کے دین و ایمان کی فکر ہے تو ان مدارس اسلامیہ کی بھرپور مدد کریں، مسلم تنظیمیں بھی عوام الناس میں بیداری پیدا کریں اور مخیر مسلمانوں کو اس جانب متوجہ کریں کہ صدقات و زکوٰۃ کے مصارف میں سے بہترین مصرف یتیم و نادار اور غریب طلبہ کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرنے والے مدارس بھی ہیں، جہاں غریب اور متوسط طبقے کے مسلمانوں کے بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کی کفالت بھی اہم ہے؛ اس لئے ان کی بڑھ چڑھ کر حوصلہ افزائی کریں۔ فرقہ پرست حکومتوں کا مقصد کورونا کی آڑ میں مسلمانوں کو ان کے دین، مذہب اور اسلامی مدارس و مکاتب اور مساجد سے دور کرنا بھی ہے ہمیں ان کی چالوں اور سازشوں کو سمجھتے ہوئے اپنے دفاع میں اٹھ کھڑے ہونا چاہئے۔ اللہ مدارس و اہل مدارس کا حامی و ناصر ہو۔