کورونا اور لاک ڈاؤن کے بیچ ایک دلچسپ مکالمہ

یاور رحمٰن

شہر کی شاہراہ پر بچھی سنّاٹے کی دبیز چادر کو چیرتے ہوئے کورونا بلکل ایک فاتح کی طرح عین وسط میں چل رہا تھا۔ اس کی چال میں مغرور اور بے رحم شاہوں جیسی نخوت آمیز تمکنت تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے شہر کے مکینوں کو انکے گھروں کے اندر تک کھدیڑ دینے کے بعد سارا شہر اس کے تلووں میں پسر گیا ہے۔ اس نے غرور و تکبر کی شراب میں ڈوبی ہوئی اپنی لڑکھڑا تی نگاہ بلند و بانگ عمارتوں پر ڈالی۔ یہ علاقہ شہر ہی نہیں بلکہ ملک کا سب سے بڑا اور اہم ترین تجارتی مرکز تھا۔ یہاں بڑی بڑی قومی اور بین قومی کمپنیوں کے دفاتر تھے۔ ان فلک بوس عمارتوں کی پیشانیوں پر دنیا بھر کے مشہور برانڈز کے اشتہار اور کمپنیوں کے سائن بورڈز سے روشنیوں کا سیلاب امنڈ رہا تھا۔ مگر اپنے قدردانوں کے بغیر یہ ساری چمک دمک اک لاش کے گرد لپٹے ہوئے برقی قمقموں جیسی تھی۔ کورونا نے ان پر ایسی حقارت آمیز نظر ڈالی جیسے کوئی کمزور کسی مغرور پہلوان کو پچھاڑ دینے کے بعد اس سے آٹے چاول کا بھاؤ پوچھ رہا ہو!

آدمیت پر اپنی البیلی فتح کے غرور میں سرشار کورونا جیسے ہی زیبرا کراسنگ پر پہنچا ایک پراسرار آواز نے گویا اس کے قدموں کو پاور بریک لگا دیا۔

"اس طرح کی خوش فہمیاں بے چارے انسانوں کو زیب دیتی ہیں ڈیر کورونا۔۔۔تم تو خود کو فاتح اعظم ہی سمجھ بیٹھے!”

*کورونا* نے حیرت سے دائیں بائیں دیکھا، پھر پیچھے دیکھا، آگے بھی دور تلک نظر دوڑائی۔ پھر آسمان کی طرف تفصیلی نگاہ ڈالی، کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے پیشانی سکوڑی، سرکھجلایا اور آگے بڑھنا ہی چاہتا تھا کہ ایک بار پھر وہی پراسرار آواز گونجی۔

"اس طرح اترا رہے ہو جیسے یہ میدان تم نے مارا ہے”۔

"تو اور کس نے مارا ہے؟”

جھنجھلا کر کورونا کے ہونٹوں سے یہ سوال برجستہ پھسل پڑا۔

"ویسے تم ہو کون ؟ ذرا سامنے تو آؤ!”

کورونا نے سمبھالا لیا اور ساتھ ہی اگلا سوال بھی جڑ دیا۔

"ہاہاہاہا ۔۔۔میں کسی بوتل میں قید کوئی جن نہیں ہوں میرے دوست ! اور نا ہی تمہاری طرح کمپیوٹر گرافکس میں ڈھلی ہوئی ایک بدنما شکل ۔۔۔” ویسے تمہاری عجیب و غریب شکل دیکھ کر ذہن میں اس زقّوم کی تصویر ابھرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے جہنمی انسانوں کو کھلاۓ جانے والے کڑوے اور بدبودار پھل کے طور پر کیا ہے۔”

اس تضحیک آمیز جواب نے کورونا کو چیں بجبیں کر دیا مگر اس سے پہلے کہ کورونا کچھ کہتا، وہی آواز پھر ابھری۔ اس بار لہجے میں بلا کی سجیدگی اور متانت تھی ۔

"ویسے، تمھیں تمہاری اصل حیثیت بتانے کے لئے کہ دوں کہ ۔۔۔ میں وہی ہوں جس کے لئے تم معرض وجود میں لاۓ گئے ہو۔”

"وہی ہوں ؟ یہ وہی کون ہے بھائی؟”

کورونا نے اپنے سخت تجسس کو ہلکا رکھتے ہوئے پوچھا۔

*”لاک ڈاؤن ہوں میں۔۔۔”*

آواز میں ریگستانی ہوا کی انتہائی پر اسرار سرسرا ہٹ تھی۔ جیسے جنوں کی کسی وادی میں ویرانیاں اچانک چیخ پڑی ہوں۔ انسان ہوتے تو اس ایک آواز میں ہزاروں خوفناک کہانیاں جنم دے دیتے مگر کورونا کو بے ساختہ ہنسی آگئی۔ وہ زور سے ہنسا ۔ اس کے منہ سے ایسا قہقہہ چھوٹا کہ اگر اس نے اس وقت پان کھایا ہوا ہوتا تو پیک کی کلر فل چھینٹیں سڑک کو زعفران زار کر دیتیں۔

"دھت تیری کے۔۔۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا ۔۔۔”

کچھ لمحے پہلے تک غرور کے فیتے سے سڑک کی پیمائش کرنے والے کورونا کا یہ روپ بھی بڑا عجیب تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اچانک سامنے آ ٹکرانے والے مد مقابل کو وہ پتنگ کی طرح کھیل کھیل کے اڑا دینا چاہتا ہو۔ وہ خوب ہنسا اور ہنستے ہنستے اچانک سنجیدہ ہو کر فلمی انداز میں گویا اپنے گھروں میں قید انسانوں سے چیخ کر مخاطب ہوا ۔

"سنو بھئی انسانو! یہ میں ہوں کورونا ، جس کے خوف سے تمہاری دنیا کے تمام دروازوں پہ تالے لگ گئے۔ تمہاری سڑکیں ویران، تمہارے بازار شمشان اور تمہاری تفریح گاہیں قبرستان بن گئیں ۔۔۔۔”

"تم ان ہی انسانوں کی طرح جہالت کا شکار ہو مسٹر کورونا، خود اپنے بارے میں نہیں جانتے کہ تمہاری تخلیق کی وجہ کیا ہے؟”

آواز نے مداخلت کی ۔ اس بار لہجے میں بلا کا طنز تھا۔ کورونا جیسے سٹپٹا گیا۔

"آخر تم دکھائی کیوں نہیں دیتے ؟”

کورونا کے لہجے میں شکست خوردگی پہلا قدم رکھ رہی تھی۔

"دکھائی تو میں دے ہی رہا ہوں۔ یہ میں ہی تو ہوں جس نے تمھیں شہر کی یہ ویرانیاں دی ہیں اور تم سکندر کی چال چل رہے ہو۔ ورنہ ان سڑکوں کے ازدہام میں حادثے بھی غبار راہ بن کر لاپتہ ہو جاتے ہیں۔”

کورونا نے عجیب سی خواہش کا اظہار کیا۔۔۔

"یوں نہیں، کسی لباس مجاز میں نظر آؤ !”

لاک ڈاؤن کورونا کی خواہش پر ہنس پڑا۔ اس نے چٹکی لی۔

"ویسے قوّت کا اصل راز تو نظر نہ آنے میں ہی ہے ڈیر۔۔۔”

اس بار لہجے میں غرور کھنک رہا تھا۔

"تو اس طرح میں بھی تو انسانوں کو نظر نہیں آتا۔۔۔تم تو پھر بھی سنّاٹوں کی شکل نظر آ رہے ہو!”

کورونا نے اپنی دانست میں اس فل ٹاس بال پر گویا six مارنے کی کوشش کی۔

"پھر وہی خوش فہمی ۔۔۔۔بھئی تمہارا نظر نہ آنا کون سی کمال کی بات ہے؟ ” تم اک وائرس ہو بس۔ وائرس کب دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے بھی دنیا بھر کے وائرس دنیا میں پہلے بھی آئے ہیں۔ بہت سی جانیں لی ہیں لیکن پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سارے انسان خوف کے مارے گھروں میں گھس گئے ہوں؟”

لاک ڈاؤن کی آواز میں تضحیک کے ساتھ تفہیم بھی شامل تھی۔ کورونا کی بال باونڈری لائن سے بہت پہلے کیچ ہو چکی تھی۔ مگر کورونا اتنی آسانی سے یہ سب کیسے تسلیم کر لیتا۔ لہذا اس نے اپنے وجود کا لوہا منوا نے کے لئے اس بار ذرا لمبا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔

"ٹی وی والے تمھیں تماشا بنا کر دکھا رہے ہیں۔۔۔کیمرے کے ہر فریم میں تم سنسان سڑکوں، مقفل دکانوں اور ویران بازاروں کی شکل میں دکھاۓ جارہے ہو۔۔۔۔اور میں؟ میرا حال تو یہ ہے کہ میری invisibility ہی اصل وجہ قیامت ہے۔ یہ میری ہی نادیدہ قوت ہے جس نے آسمان سے لیکر پاتال تک کی پڑتال کر لینے والے انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے اس قدر خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کھانسنے سے سراسیمہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں میں ایسی دہشت بن کے بیٹھا ہوں کہ میرے ڈسے ہوئے مریضوں کا علاج کرنے والے کمزور دل ڈاکٹر اس خوف سے مر رہے ہیں کہ کہیں میں نے انہیں چھو نہ دیا ہو۔”

کورونا نے اپنی بات گویا ختم کرتے ہوئے اس طرح سینہ اکڑ ا یا جیسے لوہے کی وزنی پلیٹیں اٹھانے کے بعد باڈی بلڈرز اپنا سینہ پھلاتے ہیں۔
لاک ڈاؤن بڑے صبر سے یہ سب سنتا رہا۔ اس کا انداز اس شفیق اور بردبار استاد کی طرح تھا جو اپنے شاگرد کو اپنا موقف رکھنے کا کھل کر موقع دیتا ہے۔ کورونا کے خاموش ہو تے ہی اس نے پوچھا۔

"اور وہ جس نفسیا تی خوف کی تم بات کر رہے ہو، وہ کہاں سے آیا ؟ کس نے جنم دیا ہے اسے ؟

"ظاہر ہے، میرے خوف نے جنم دیا ہے ۔۔۔”

کورونا نے بڑے اعتماد کے ساتھ ترکی بتُرکی جواب دیا۔

"میں نے آغاز میں ہی یہ بات کہی تھی کہ اپنی اصل پوزیشن اور حیثیت سمجھنے کے لئے سب سے پہلے اپنا مقصد تخلیق سمجھنا ضروری ہے ورنہ انڈے بھی خود کو پدر مرغ سمجھنے لگتے ہیں۔”

لاک ڈاؤن نے بڑی حقارت سے کورونا کو دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،

"یہ جو اشرف المخلوقات ہے نا ! اسے جتنی بھی ٹھوکریں لگتی ہیں، وہ اسی وجہ سے لگتی ہیں کہ یہ اپنا مقصد وجود یاد ہی نہیں رکھتا۔۔۔”

کورونا نے قطع کلام کرتے ہوئے بیچ میں ہی ٹوکا۔

"دیکھو ! مجھے تمہارے لمبے سے بورنگ لیکچر میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔ لہذا مجھے میرا مقصد وجود بتانے کے بجاۓ کم سے کم لفظوں میں خود اپنا شان نزول بتا دو !”

لاک ڈاؤن پہلی بار جھلایا۔ اس کی کیفیت اس دانشور جیسی تھی جو کسی منہ پھٹ جاہل سے ٹکرا کر پچھتا رہا ہو۔

"تو سنو ! تم صرف اک شور ہو، ہنگامہ ہو! تمہاری حیثیت چرواہے کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اک لاٹھی جیسی ہے بس۔۔۔۔”

کرونا نے تلملا کر کچھ کہنا چاہا مگر لاک ڈاؤن کی گمبھیر آواز جاری تھی ۔

"وہی لاٹھی جو بھیڑیں ہانکنے کے کام آتی ہے۔ اس لاٹھی میں بذات خود کوئی دم نہیں ہوتا۔ اصل قوت تو وہ اتھارٹی ہوتی ہے جو اس چرواہے کا انتخاب کرتی ہے۔”

کورونا کی آنکھیں پھٹ رہی تھیں۔ وہ ایسے کھڑا کا کھڑا رہ گیا جیسے اپنے ہی کھوۓ ہوئے وجود کو ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس نے لڑکھڑا تے لہجے میں لاک ڈاؤن سے پوچھا،

"تو کیا میرا وجود محض ایک واہمہ ہے ؟”

"نہیں، وجود تو ہے مگر ۔۔۔میں یہ کہ سکتا ہوں کہ تم ایک رائ ہو پہاڑ بنا کر دکھاۓ جا رہے ہو ، تل کے ایک ننھے سے دانے ہو مگر تاڑ بنا کر کھڑے کر دئے گئے ہو۔۔۔ یہی ہے تمہارا سچ۔۔۔”

لاک ڈاؤن نے جیسے کورونا کا دماغ ہی لاک کر دیا۔ لیکن ہارتے ہارتے بھی اس نے اپنے دفاع کی کوشش جاری رکھی۔

"اور جو دنیا بھر میں ہزاروں کفن بے دوش لاشیں میرے روزنامچے میں ہر روز درج ہو رہی ہیں؟ انکے بارے میں کیا کہو گے ؟”

"واہ بھئی واہ ! تم نے بھی یہی سمجھ لیا کہ وہ تمہارے معمولی سے ڈنک سے موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں؟”

لاک ڈاؤن کے لہجے میں تمسخر تھا۔ کورونا کی بے یقین آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ لاک ڈاؤن کھنکتے لہجے میں بول رہا تھا۔

"تمھیں کیا لگتا ہے، دنیا بھر کے باقی بیماروں نے مرنا چھوڑ دیا ہے کیا ؟”

کورونا کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ۔

"اور یہ جو آنکھوں میں میرا خوف ہے، اسے کس کے کھاتے میں ڈالوگے ؟”

لاک ڈاؤن زور سے ہنسا ۔۔۔

"ان آنکھوں کا کیا جو اپنے جسم کی صحت اور بیماری کو خود محسوس کرنے کے بجاۓ میڈیکل رپورٹس میں دیکھنے کی عادی بن چکی ہیں۔”

"تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟ کھل کے کہو اور ایک بار میں کہو!”

کورونا کی بے بس جھلاہٹ پر لاک ڈاؤن بے ساختہ ہنس پڑا۔ پھر سنجیدگی کے ساتھ گویا ہوا۔

"دیکھو میرے بھولے کورونا ! تم انسان نام کی اس مخلوق کو کیا جانو ، یہ بڑی با اختیار مخلوق ہے۔ اب اختیار دیا گیا ہے تو ظاہر ہے صلاحیتیں بھی اسی قدر دی گئی ہونگی۔۔۔ہے کہ نہیں؟ ”

"بولتے رہو، میں سن رہا ہوں۔”

کورونا بلکل تپ چکا تھا۔ لاک ڈاؤن کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے بات آگے بڑھائی۔

"اپنے ان ہی اختیارات اور ان ہی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں یہ آدم زادے”۔

"یعنی یہ آدم زادے ۔۔۔ شیطان زادے بن گئے۔۔۔۔”

کورونا کی زبان سے جیسے یہ جملہ پھسل گیا۔

"ہاں یہی سمجھ لو ۔ یہ آدم زادے شیطان زادے بن گئے ۔۔۔لیکن سب نہیں بلکہ تھوڑے سے لوگ۔۔۔وہ مٹھی بھر لوگ جو زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔”

لاک ڈاؤن چپ ہو گیا۔ شاید وہ مناسب الفاظ کی تلاش میں تھا۔ ادھر کورونا کا تجسس بیتاب تھا۔

” آگے بولو دوست ! تم نے میری دلچسپی بڑھا دی ہے۔”

لاک ڈاؤن مسکرا تے ہوئے بولا ۔

"اب وسائل کی یہی جنگ ان ہی مٹھی بھر خاندانی بدمعاشوں کے درمیان جاری ہے۔ ادھر خدا کی حکمت دیکھو، زمین کے خزانے ختم ہونے کے بجاۓ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔۔۔۔وہ اس کائنات کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ ایک اچھے بھلے انسان نے کہا تھا
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صداۓ "کن فیکون”۔”

کورونا اچانک بیچ میں بول پڑا۔

"یہ۔۔۔ یہ۔۔تم نے کیا کہا بعد میں ؟”

"ارے چھوڑو بھی، یہ اک شعر تھا کسی شاعر کا۔ پہلے اصل بات سمجھو! ”

لاک ڈاؤن خشک لہجے میں بولا۔ وہ اصل موضوع سے بھٹکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔

” جدید ترقیات نے ان لوگوں کا ذہنی توازن بگا ڑ دیا جو اپنے ہی جیسے انسانوں پر جبریہ بالادستی کا جنون رکھتے تھے۔..مگر جمہوریت کے لبادے میں۔”

لاک ڈاؤن کا لہجہ تلخ تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی، اور بھرپور طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔

"یعنی ایک قبیلے کی سرداری کی ہوس اب 7 ارب انسانوں پر مطلق حکمرانی کے پاگل پن تک پہنچ گئی۔۔۔”

"یعنی یہی وہ جنون ہے جس نے انہیں آپس میں دست بگریباں کر رکھا ہے ۔۔۔”

بات کورونا کی سمجھ میں ذرا ذرا آنے لگی تھی۔ لاک ڈاؤن جیسے اپنی ہی تنہائیوں میں گم بول رہا تھا۔ اس نے کورونا کی بات جیسے سنی ہی نہیں۔

"آج ان مٹھی بھر لوگوں نے زمین پر پھیلے ہوئے باقی سب راجے راجواڑوں کو اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔ لیکن انکا جی ابھی بھرا نہیں۔”

"تو اب کیا چاہیے انہیں ؟”

کورونا پوچھ رہا تھا۔ لاک ڈاؤن نے کالج کے کسی لیکچرر کی طرح اسکی طرف دیکھا اور بولا۔

"پہلے انکے بیچ سرمایہ داری بمقابلہ کمیونزم کی جنگ تھی۔ اب صرف سرمایہ داری میں کلی تفوق کی یعنی full control کی جنگ ہے۔ یعنی ہر ایک اپنا سکہ پوری زمین پر ایک ساتھ رائج کرنا چاہتا ہے۔”

"اور یہ ممکن ہے ؟”

کورونا کی دلچسپی بڑھ چکی تھی۔ لاک ڈاؤن نے اسے شفقت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

"بلکل ممکن ہے میرے دوست ! اور اسکے لئے مٹھی بھر ان شاطر سیاست دانوں نے انکی تین بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔۔۔۔اسے عرف عام میں وہ معیشت کہتے ہیں۔۔۔”

"معیشت۔۔۔یعنی اکانومی ۔۔۔”

کورونا نے ایک مستعد شاگرد کی طرح سوال کیا۔

"ہاں اکانومی، یہ انسانی زندگی کی شہ رگ ہے۔ یہ ایک ایسی نادیدہ رسی ہے جو انسانوں کو انسانوں کا غلام بنا تی ہے۔ بلکہ یوں کہو کہ غلط ہاتھوں میں آ کر ہمیشہ ایک کو مداری اور دوسرے کو بندر بنا دیتی ہے۔”

"اوہ ! اب میں سمجھا۔۔۔”

کورونا حیرت زدہ تھا۔ لاک ڈاؤن ایک مفکر کی طرح تشویش آمیز مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

"بلکہ اس معیشت کے ساتھ سیاست اور معاشرت کے دو لاحقے مزید لگا دو تو کہانی خوب اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ بس اسے یوں سمجھ لو کہ معیشت ایک رسی ہے ، معاشرت ایک گردن ہے اور سیاست وہ جلاد ہے جو کسی کا بھی گلا گھونٹ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔”

"اختیار رکھتا ہے ۔۔۔مطلب ؟”

کورونا خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔ لاک ڈاؤن کے لبوں پر دبیز سی طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

عوامی اختیار ۔۔۔مزے کی بات یہ ہے ڈیر کورونا کہ یہ عوامی اختیار انکے یہاں جمہوریت کہلاتا ہے۔ اور غلاموں کو کیا احساس کہ جمہوریت دراصل خود اپنی ذات سے برضا و رغبت دستبرداری کا ایک اعلان ہے۔ اور یہ اعلان جس کے حق میں ہوتا ہے سیاست اسکے ہاتھوں میں ریموٹ کنٹرول کی طرح معیشت اور معاشرت کو اپنی انگلیوں پر نچاتی رہتی ہے۔”

"خدا کی پناہ! یہ تو واقعی حیرت انگیز مخلوق ہے۔”

کورونا کی حیرت قابل دید تھی۔ لاک ڈاؤن کہ رہا تھا۔۔۔

"اگر مختصر ترین لفظوں میں انسانی تاریخ کی اس سب سے عجوبی روداد کو بیان کروں تو یہ کہانی ان ہی تین لفظوں، معیشت، معاشرت اور سیاست کے عالمی شطرنج کی ہے جس میں دو نہیں بلکہ چار کھلاڑی آپس میں شہ اور مات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ان
میں سے ہر ایک اپنی ذات میں سمندر بننا چاہتا ہے تاکہ باقی ندی، نالے، پرنالے اور دریا سب اس کی گہرائیوں میں غرق ہو کر اپنا وجود کھو دیں۔۔۔”

بولتے ہوئے لاک ڈاؤن نے اپنی نظریں کورونا کے چہرے پر اس طرح گاڑ دیں جیسے وہ اس مکالمے کے اختتام کا اعلان کر رہا ہو۔ کورونا بیتابی سے بولا۔

"اب ذرا میرے اور اپنے بارے میں بھی وضاحت کر دو!”

لاک ڈاؤن اس طرح چونکا جیسے وہ یہاں تھا ہی نہیں۔

"ہاں، تو بس یوں سمجھ لو کہ حیات انسانی کا موجودہ عالمی منظر نامہ بدلنے والا ہے۔ معیشت، معاشرت اور سیاست جدید ٹیکنالوجی کا روپ دھارن کرنے والے ہیں۔ اور اس کے لئے جو ڈرامہ رچا گیا ہے، ہم دونوں اس میں ولن کا رول ادا کر رہے ہیں۔۔۔”

کورونا گویا انتہاۓ حیرت سے گنگ ہو گیا تھا۔ لاک ڈاؤن اسے پیار بھری وارننگ دیتے ہوئے بولا:

"اب آگے بات مت بڑھانا۔۔۔بڑی مشکل سے ایک بپھرے ہوئے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔باقی عقلمندوں کے لئے اشارہ کافی ہے۔۔۔”

کورونا نے اپنے جسم کو ڈھیلا کیا اور بچوں جیسے شوخ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

"I am down…do not lock me please!!!!”

کورونا کے اس انداز پر لاک ڈاؤن زور سے ہنسا۔ اور دیر تک ہنستا رہا۔ اس بار اسکی ہنسی میں سناٹوں کا خوفنا ک شور نہیں بلکہ بازاروں کے زندگی بخش ہنگاموں کا جلترنگ تھا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*