کورونا : اعداد و شمار کا گورکھ دھندا

جکون لائی
ترجمہ:محمد ابراہیم خان
کورونا غلط انداز سے بروئے کار لایا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعداد و شمار کی مدد سے ہم کورونا کی وبا کے پنپنے سے متعلق اہم معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور نتائج بھی اخذ کرسکتے ہیں مگر تمام اعداد و شمار کو بروئے کار نہیں لانا چاہیے کیونکہ ہر معاملہ ایک خاص تناظر میں ہے۔ کسی ایک ملک یا معاشرے کی کیفیت کو بنیاد بناکر تمام معاشروں کے لیے کوئی جامد رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ دیکھا گیا ہے کہ لوگ مختلف ممالک کے حالات کو سمجھے بغیر یا اُن پر متوجہ ہوئے بغیر کورونا کی وبا سے متعلق اعداد و شمار کو بروئے کار لانے کا سوچنے لگتے ہیں۔ اب یہ بات بہت عمومی سطح پر کہی جارہی ہے کہ کورونا کی وبا نے کم و بیش ہر معاشرے میں عوامی سطح کی زندگی سے متعلق تمام کمزوریوں کو مکمل طور پر بے نقاب کردیا ہے۔ جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے، بہت سے معاملات پر غور کیا جارہا ہے۔ ایک طرف تو بیماری کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف اس کے علاج پر بھی توجہ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ مشکل یہ ہے کہ کورونا کی وبا سے متعلق ایک معاملے کو مجموعی طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے اور یہ معاملہ اعداد و شمار کا ہے۔ ہر روز میڈیا کے ذریعے کورونا وائرس سے متعلق ایسے اعداد و شمار ملتے ہیں، جو انتہائی پریشان کن ہوتے ہیں اور اُن سے کسی بھی معاملے میں راہ نمائی تو کیا ہوگی، الٹی الجھنیں بڑھ جاتی ہیں۔ کورونا کی وبا سے متعلق اعداد و شمار کے حوالے سے دو بڑی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ غلط اشاریوں کو راہ ملی ہے اور دوسرے یہ کہ بدحواسی میں درست اشاریوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کیا جارہا ہے۔ دونوں ہی معاملات انتہائی پریشان کن ہیں۔ نامناسب اشاریوں کا استعمال کورونا وائرس سے متعلق میڈیا کی رپورٹ مجموعی واقعات کی تعداد بتاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اُنہیں کس طور بروئے کار لایا جارہا ہے، یعنی اُن سے کیا نتیجہ اخذ کرکے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔ کسی بھی خاص ملک کے تناظر میں اعداد و شمار کا تجزیہ اور اُنہیں بروئے کار لاتے ہوئے کوئی حکمتِ عملی ترتیب دینا سمجھ میں آتا ہے۔ کورونا کے واقعات کی مجموعی تعداد صورتِ حال کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ یہی اعداد و شمار صورتِ حال میں رونما ہونے والی تبدیل کو سمجھنے اور اِس حوالے سے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے بھی بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اُس وقت کھڑا ہوتا ہے، جب یہ اشاریہ (یعنی کیسز کی مجموعی تعداد) کئی ممالک کی صورتِ حال کو سمجھنے اور اُن کے تقابل کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اور تجزیہ کار یہ کام یومیہ بنیاد پر کرتے ہیں۔ بیشتر تجزیہ کار مجموعی کیسز سے متعلق اعداد و شمار کو مختلف ممالک میں صورتِ حال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آئے دن ہم ایسے بیانات پڑھتے ہیں، جن میں کہا گیا ہوتا ہے کہ کورونا کے کیسز کی تعداد کے لحاظ سے فلاں ملک سب سے بُری حالت میں ہے اور اُس کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ اعداد و شمار کی بنیاد ہی پر کسی بھی ملک کو سب سے بُری حالت والا بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ جو بات بیان نہیں کی جاتی وہ دراصل یہ ہے کہ فلاں ملک میں کورونا کیسز کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے یعنی وہ زیادہ یا سب سے بُری حالت میں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خام اعداد و شمار ہی مختلف ممالک کے باہمی تقابل کے لیے بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ مثلاً اگر چین میں کورونا کے ۵۰ ہزار کیس ہوں اور سنگاپور میں کورونا کے ۴۰ ہزار کیس ہوں تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ چین میں کورونا کی وبا کے حوالے سے صورتِ حال زیادہ پریشان کن ہے، ایسے موقع پر یہ حقیقت نظر انداز کردی جاتی ہے کہ چین کی آبادی سنگاپور کی آبادی سے ۲۵۰ گنا ہے! اعداد و شمار کے استعمال کا درست طریقہ کورونا کی وبا سے متعلق اعداد و شمار کے تجزیے کے وقت کسی بھی ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد پر غور کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اُس ملک کی آبادی کے تناسب سے واقعات کی تعداد کتنی ہے۔ اگر کسی ملک کی آبادی بیس، تیس کروڑ ہے اور وہاں کورونا کے ۴۰ ہزار کیسز ہوں تو صورتِ حال کسی ایسے ملک سے بہتر ہوگی، جس کی آبادی محض ۵۰ لاکھ ہو اور کیسز کی تعداد ۲۰ ہزار ہو۔ ایسی صورت میں ہم بڑی آبادی والے ملک کے ۴۰ ہزار کیسز کو خطرناک قرار نہیں دے سکتے۔ جس وقت یہ سطور لکھی جارہی تھیں تب برازیل میں کورونا کیسز کی تعداد ۳ لاکھ ۳۰ ہزار سے زائد تھی۔ یہ تعداد انتہائی خطرناک تصور کی جارہی تھی اور کہا جارہا تھا کہ لاطینی امریکا میں برازیل ہی کورونا کی وبا کا منبع ہے۔ ہمیں برازیل میں کورونا کیسز کی تعداد کا تجزیہ آبادی کے تناسب سے کرنا ہے۔ برازیل میں کورونا کیسز ۱۵۶۵ فی ۱۰؍ لاکھ ہیں جبکہ اُسی خطے کے ملک ایکواڈور میں کیسز کی تعداد ۲۰۳۴ فی ۱۰؍ لاکھ، چلّی میں ۳۲۳۹ فی ۱۰؍ لاکھ اور پیرو میں ۳۳۹۳ فی ۱۰؍ لاکھ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ برازیل میں صورتِ حال سنگین یا پریشان کن نہیں۔ یقیناً معاملہ پریشان کن ہے اور اِس کے درست کرنے پر فوری توجہ مرکوز کی جانی چاہیے مگر یہ کہنا غلط ہوگا کہ لاطینی امریکا میں سب سے خطرناک صورتِ حال برازیل میں ہے۔ برازیل کی آبادی غیر معمولی ہے اس لیے وہاں کورونا کے کیسز کی تعداد کا بہت زیادہ ہونا پریشان کن ضرور ہے، حیرت انگیز ہرگز نہیں۔ ہمیں محض اعداد و شمار نہیں دیکھنے بلکہ اُن کا تناظر بھی دیکھنا ہے۔ کورونا سے ہلاکتوں کے معاملے میں بھی برازیل کو لاطینی امریکا کا سب سے بُرا یا سب سے بحران زدہ ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آبادی کے تناسب سے کورونا کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے اکواڈور اور پیرو زیادہ خطرناک حالت میں ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے دو بالکل مختلف ممالک کا تقابل بھی ایسی ہی الجھن پیدا کرتا ہے۔ اعداد و شمار کا غلط استعمال کسی بھی ملک کو بلا جواز انتہائی بحران زدہ دکھا سکتا ہے۔ اور کسی ملک کو خواہ مخواہ کلین چٹ بھی مل سکتی ہے۔ اشاریوں کا ناموزوں استعمال میڈیا رپورٹس اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر ہم بہت آسانی سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ کورونا کی وبا سے متعلق بعض معاملات الجھے ہوئے ہیں اور جو کچھ دکھایا جارہا ہے، وہ زمینی حقیقت نہیں۔ اِسی طور بہت سے زمینی حقائق کو چُھپایا جارہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا دانستہ نہ کیا جارہا ہو، مگر خیر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سامنے ہے اور پریشان کن ہے۔ اب اِسی بات کو لیجیے کہ تاحال یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ کون کورونا کا مریض ہے اور کون نہیں۔ کوئی کورونا کی وبا میں مبتلا ہوا ہے یا نہیں، یہ جانچنے کے لیے مختلف طریقے وضع کیے گئے ہیں۔ کورونا ٹیسٹنگ کی تیکنیک کا فرق حقیقی اعداد و شمار تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر رہا ہے۔ کسی کی موت کورونا سے واقع ہوئی ہے یا کسی اور بیماری کے ہاتھوں، اس کا فیصلہ کرنے کے معاملے میں بھی ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ برطانیہ کے معروف جریدے ’’دی اکنامسٹ‘‘ کی ایک رپورٹ میں اِسی معاملے کو موضوع بناکر تجزیہ کیا گیا ہے۔ بہت سی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں اموات کو بلا جواز کورونا وائرس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک میں اِس حوالے سے صورتِ حال پریشان کن رہی ہے۔ اموات کے علاوہ کورونا کی ٹیسٹنگ کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت مطلوبہ حد تک میسر نہیں اور ٹیسٹ کٹس کے ناقص ہونے کی شکایات بھی عام ہیں۔ پالیسی ساز کورونا ٹیسٹنگ کے حوالے مختلف معیارات مقرر کرتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس حوالے سے یکساں نوعیت کی پالیسی ترتیب نہیں دی۔ بعض ممالک میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت مطلوبہ حد تک فراہم نہیں کی گئی۔ کئی حکومتیں اس بات کو ترجیح دے رہی ہیں کہ کورونا ٹیسٹنگ بہت بڑے پیمانے پر نہ کی جائے۔ اعداد و شمار سے مختلف ممالک میں مختلف حقیقتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض ممالک کورونا سے متعلق اعداد و شمار کو ایک خاص تناظر میں پیش کرتے اور بروئے کار لاتے ہیں۔ کورونا سے متعلق اعداد و شمار ہر ملک میں ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی ملک میں کورونا کے مریضوں اور ہلاکتوں سے متعلق بالکل درست اعداد و شمار حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ بہت کچھ ہے جو جانچ پڑتال سے رہ جاتا ہے۔ بہت سی ایسی ہلاکتیں بھی ہیں جو مختلف بیماریوں کے باعث واقع ہوئیں، مگر کورونا کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ جب کورونا کی شفاف تشخیص ہی متنازع ہے تو پھر اِس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو کس طور شفاف اور بے عیب تجزیے کی حامل قرار دیا جاسکتا ہے؟ کورونا سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں محض اعداد و شمار پر متوجہ نہیں رہنا بلکہ تناظر بھی دیکھنا ہے۔ ہر چیز اپنے سیاق و سباق میں دیکھے جانے ہی پر اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ مختلف ممالک کے اعداد و شمار کا موازنہ اپنے آپ مشکلات میں پیدا کرنے والا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کورونا کی وبا تک محدود نہیں۔ بیشتر معاملات میں اعداد و شمار اور اُن کے تقابلی جائزے کا یہی حال ہے۔ اعداد و شمار وہ نہیں ہوتے جو دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دھوکا بھی دیتے ہیں، صورتِ حال کو کچھ کا کچھ دکھاتے ہیں۔ لوگ اعداد و شمار کو بعض مخصوص مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعداد و شمار ہمیں کورونا کی وبا کے بارے میں بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کی تحریک دے سکتے ہیں، مگر پھر بھی ہمیں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی ایسی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جو حتمی نوعیت کی ہو، بدلی نہ جاسکتی ہو۔ اعداد و شمار کے ماہرین کسی بھی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے لیے بیچ کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ وہ ’’اندازاً‘‘ کہہ کر اپنی گردن بچالیتے ہیں! اگر اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرلی جائے اور وہ غلط نکلے تو یہ کہتے ہوئے جان چھڑالی جاتی ہے کہ اعداد و شمار حتمی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ایک اندازہ قائم کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار کو بروئے کار لاتے وقت، اُن سے کوئی نتیجہ اخذ کرتے وقت سیاق و سباق ضرور ذہن نشین رہنا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*