کانگریس میں نوجوان بمقابلہ بزرگ پرکشمکش تیز،ممبران پارلیمنٹ کی میٹنگ میں ہوئی تکرار!

نئی دہلی:کیا کانگریس میں بزرگ بمقابلہ نوجوان کی خیمہ بندی بڑھتی جارہی ہے؟ کیا کانگریس میں نسلوں کے درمیان تنازعہ دکھ رہا ہے؟ دراصل جمعرات کو پارٹی کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا۔ اس میٹنگ میں، پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے ازسرنوجائزہ لینے کا مشورہ دیا۔ راہل گاندھی کے قریبی سمجھے جانے والے ایک نوجوان رکن نے ان کی سخت مخالفت کی۔اس میٹنگ میں شامل ایک لیڈرنے کہا کہ راہل گاندھی کی پوری طاقت جھونکنے کے بعد بھی یہ ہو رہا ہے۔ سابق وزیر چدمبرم نے کہا کہ ضلع اور بلاک سطح پر پارٹی کی تنظیم کمزور ہے۔ کپل سبل نے اوپر سے لے کر نیچے کی سطح تک جائزہ لئے جانے کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم کرنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔سبل کے اس بیان کے بعد راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور راہل کے قریبی ساتھی راجیو ساتو نے یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا کہ کسی بھی طرح کاجائزہ اسی وقت ہوناجب ہم اقتدار میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2009 سے 2014 تک جائزہ لیاجانا چاہئے۔ اتناہی نہیں انہوں نے یوپی اے حکومت میں وزیر رہے سبل کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یو پی اے 2 میں بروقت جائزہ ہوجاتا تو کانگریس کو 2014 میں 44 نشستیں نہیں ملتیں۔ کانگریس کے ایک سینئر رکن پارلیمنٹ نے دعوی کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے تاہم یو پی اے حکومت کے دوران مداخلت بھی کی۔راہل کے قریبی لیڈر نے کہا کہ پارٹی کو یو پی اے 2 کے بعد سے ہی مسائل کا سامنا ہے اور اسے 2009 سے جائزہ لینا چاہئے۔ اس میٹنگ میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، اے کے انٹونی، غلام نبی آزاد، پی چدمبرم، آنند شرما اور کپل سبل بھی موجود تھے۔
جیسے جیسے میٹنگ آگے بڑھی، پارٹی کے سینئر لیڈران نے سیاسی حکمت عملی اور تنظیم کی کمزوریوں کو دور کرنے کے بارے میں بات کرنا شروع کردی۔ بات چیت کے دوران ممبرپارلیمنٹ پی ایل پنیا، رپون بورا اور چھئے ورما نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کو پارٹی کا صدر منتخب کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈران نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کورونا کی وبا، چین کی جارحیت اور معیشت کے محاذ پر بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی لوگ کانگریس کی بات نہیں سن رہے ہیں اور بی جے پی کو حمایت حاصل ہورہی ہے۔