کانگریس ایم ایل اے کا دعویٰ : کئی ریاستوں کے بااثر مسلم لیڈروںکو ہراساں کرنے کیلئے فہرست مرتب کی گئی ہے

بنگلورو : کرناٹک میں کانگریس ایم ایل اے اور سابق وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ملک کی کئی ریاستوں میں بااثر مسلم رہنماؤں کو ہراساں کرنے کی غرض سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ای ڈی نے حال ہی میںبی زیڈ ضمیر خان کے اثاثہ جات کی تلاشی لی تھی۔ خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بااثر مسلم رہنماؤں کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لوگ میرا سرمایہ ہیں، جب تک میں سیاست میں ہوں ، میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے میرے لوگوں(حامیوں) کاسر شرم سے جھک جائے۔انہوں نے ٹویٹ کیا کہ انہیں خوشی ہے کہ ای ڈی کے چھاپوں نے ان کے بارے میں بہت سے لوگوں کے دل و دماغ میں پنپ رہے شبہات دور ہوگئے۔بی زیڈضمیر خان نے کہا کہ گھر بنانا میرے سب سے بڑے جرم کے طور پر دکھایا جا رہا ہے،اس لیے ای ڈی نے مجھ پر چھاپہ مارا۔ جس امید کے ساتھ ای ڈی نے چھاپہ مارا وہ امید ناکام ہوگئی ۔انہوں نے الزام لگایا کہ مختلف ریاستوں کے بااثر مسلم رہنماؤں کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مجھے بھی اس سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ، لیکن میں ایسی چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔خیال رہے کہ ای ڈی نے 5 اگست کو بی زیڈ ضمیر خان کی رہائش گاہ اور دفاتر سے متصل احاطے پر بیک وقت تلاشی لی تھی۔ بی زیڈ ضمیر خان سے مسلم رہنماؤں کی فہرست مرتب کرنے اور انہیں ہراساں کئے جانے کی سازش کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر ریاستی کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ میں ان سے بات کروں گا ، دیکھتے ہیں کہ ان کا موقف کیا ہے، اس سلسلے میں ہم پارٹی کے رہنماؤں سے گفت و شنید کریں گے۔کانگریس کے ایم ایل اے نے جمعہ کو شیوکمار سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ بی زیڈ ضمیر خان دہلی میں ہیں اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ ای ڈی نے انہیں طلب کیا ہے،تاہم ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے خان نے کہا کہ میں اکثر ذاتی کام کے لیے دہلی جاتا ہوں۔ ای ڈی نے مجھے نہیں بلایا ، یہ میڈیا کی اپنی دماغی اپج ہے۔مستقبل میں اگر ای ڈی نے مجھے بلایا، میں میڈیا کو اس سے مطلع کروں گا۔