کانگریس میں بغاوتوں کا سلسلہ:کیا بی جے پی کا ’کانگریس مکت بھارت ‘ کا سپنا پورا ہو رہا ہے؟-شکیل رشید

سیاست میں اقتدار کی ہوس بے وفائی سکھاتی ہے!
اور بےوفائی اپنے ہی پالنے پوسنے والوں کی پیٹھ میں خنجر بھنکواتی ہے۔ یوں تو ماضی بعید اور ماضی قریب سے اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن بات تازہ ترین مثال سچن پائلٹ کی کریں گے، جنہوں نے پلٹ کر اسی کانگریس پارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت پر تلوار سونت لی ہے جس کے سبب ان کا سیاسی عروج ممکن ہو سکا ہے۔ پائلٹ اپنے ہی ایک ساتھی جیوتیر آدتیہ سندھیا کی راہ پر چل پڑے ہیں جنہوں نے اِن سے بس کچھ ہی پہلے کانگریس کا دامن چھوڑ کر اس بی جے پی کے دامن میں پناہ لی ہے جسے مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران فرقہ پرست کہتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی۔ سندھیا نے کانگریس کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی حکومت گروا کر بی جے پی کی حکومت بنوانے میں محوری کردار ادا کیا تھا، اور اب اگر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی مانی جائے تو سچن پائلٹ کچھ ایسی ہی کوشش راجستھان میں کر رہے ہیں، جہاں کل تک وہ کانگریس کی سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز تھے، اور ساتھ ہی راجستھان کانگریس کی قیادت کا فریضہ بھی نبھا رہے تھے ۔۱۱جون ۲۰۰۰کو جے پور کے قریب ایک سڑک حادثے میں سینئر کانگریسی قائد، کئی بار کے مرکزی وزیر، راجیش پائلٹ کی موت کے بعد سے سچن پائلٹ اپنے آنجہانی پِتا کی سیاسی وارثت سنبھال رہے ہیں۔ کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے انہیں پارٹی میں وہ جگہ دی تھی جو راجیش پائلٹ کی موت سے خالی ہوئی تھی۔ اور صرف ۲۶سال کی عمر میں انہیں دوسہ لوک سبھا حلقہ سے کامیاب کروا کر لوک سبھا میں بھیجاتھا۔ اس کے بعد سچن پائلٹ نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ وہ دو بار لوک سبھا پہنچے، مرکزی وزیر بنے، پھر اسمبلی الیکشن جیت کر راجستھان کے نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر بنائے گئے۔ فی الحال ان کی عمر ۴۰سال کی ہے، راہل گاندھی سے وہ ٹھیک ۹ سال عمر میں کم ہیں، ان کے سامنے سیاست کی ایک لمبی پاری پڑی ہوئی ہے، لیکن راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کی حکومت کو کمزور کرنے یا گرانے کی کوشش کر کے، وہ بھی گہلوت کے بقول بی جے پی کے اشارے پر، انہوں نے ایسی جلد بازی کا ثبوت دیا ہے جو سیاست میں فائدہ کم نقصان زیادہ پہنچاتی ہے۔ سچن پائلٹ تعلیم یافتہ سیاست داں ہیں، وہ ایم بی اے ہیں اور سیاست میں آنے سے پہلے دو انٹرنیشنل کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں، بی بی سی میں اور امریکہ کی جنرل موٹرس کمپنی میں۔لگتا ہے کہ وہاں کام کرنے کے دوران ان کا جو مزاج بنا تھا وہ اس سے چھٹکارا نہیں پا سکے ہیں۔ ایسی کمپنیوں میں کام کرنے والوں کی نظریں آگے بڑھنے پر لگی رہتی ہیں، سچن پائلٹ سیاست میں بھی آگے ہی نظر رکھ رہے ہیں۔ شاید انہیں وزیر اعلیٰ بننے کی جلدی ہے۔ اور اتنی جلدی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ گہلوت کے مقابلے ان کے پاس ایم ایل اے کم تعداد میں ہیں وہ خم ٹھونک کر میدان میں کود پڑے ہیں ۔۔!!
کانگریس اعلیٰ کمان اس بغاوت کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ راجستھان کے سیاسی حالات مدھیہ پردیش جیسے نہیں ہیں جہاں جیوتیر آدتیہ سندھیا کانگریس سے بغاوت کر کے، راجیہ سبھا میں بی جے پی کے رکن کے طور پر پہنچ گئے ہیں، اور اپنے سیاسی ساتھیوں کو شیو راج سنگھ چوہان کی حکومت میں اہم عہدؤں پر فائز بھی کروا دیا ہے اس طرح کم از کم پانچ سال کے لیے اپنی سیاسی زندگی کو یقینی بنا لیا ہے۔ یہ ممکن اس لیے ہو سکا کہ ایم پی میں کمل ناتھ کی بنیادیں کمزور تھیں، بی جے پی انہیں پٹخنی دینے میں اسی لیے کامیاب رہی، لیکن راجستھان میں ایسا نہیں ہے۔ گہلوت کی بنیادیں کمل ناتھ کی طرح کمزور نہیں ہیں، ان کے پاس اتنے اراکین اسمبلی ہیں کہ وہ اپنی سرکار بچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سچن پائلٹ کی مشکلات کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب گہلوت کا تختہ پلٹ جائے گا، لیکن لگتا نہیں ہے کہ ایسا ہوگا۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو سچن پائلٹ جو نائب وزیر اعلیٰ کی کرسی کھو چکے ہیں، جن سے ریاستی کانگریس کی صدارت بھی چھن چکی ہے، اور جن پر کانگریس نے اپنے دروازے تقریباً بند کر دئیے ہیں ، کیا کریں گے؟
سچن، سندھیا نہیں ہیں حالانکہ دونوں میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ جہاں تک سندھیا کی بات ہے تو اس حقیقت کے باوجود کے وہ سیکولر کہلانے والی کانگریس پارٹی سے منسلک اور راہل گاندھی کے قریبی حلقے میں شامل رہے اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے طفیل اقتدار کے مزے لوٹتے رہے، ان کی نظریاتی بنیاد میں آر ایس ایس کی اینٹیں بھی کام آئی ہیں۔ صرف ان کی دادی وجے راجے سندھیا اور پھوپھیاں وسندھرا راجے اور یشودھرا راجے ہی بی جے پی اور سنگھ سے جڑی نہیں رہیں ان کے پِتا شری مادھو راؤ سندھیا بھی اسی ماحول میں پلے بڑھے تھے ۔۱۹۷۱میں مادھو راؤ سندھیا پہلی بار گنا لوک سبھا حلقہ سے جن سنگھ کے ٹکٹ پر لوک سبھا پہنچے تھے، اور کانگریس میں آنے اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے ہی کی طرح ۱۹۹۶میں آنجہانی ارجن سنگھ کے ساتھ مل کر کانگریس سے بغاوت کی تھی اور یونائٹیڈ فرنٹ نام سے ایک سیاسی پارٹی کا قیام کیا تھا، لیکن پھر کہاوت ’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ‘ کے مصداق واپس کانگریس میں آ گئے تھے ۔لہذا جیوتیر آدتیہ سندھیا، جو سچن پائلٹ ہی کی طرح ایم بی اے ہیں اور سچن ہی کی طرح اپنے باپ کو ایک حادثے میں ۲۰۰۱ میں کھو چکے ہیں،کسی طرح کی شرم اور جھجھک محسوس کیے بغیر بی جے پی سے رشتہ جوڑ سکتے ہیں۔ لیکن سچن پائلٹ کے لیے یہ نہ شائد آسان ہو گا اور نہ شائد ممکن ہوگا کیونکہ ان کے پِتا راجیش پائلٹ نہ کبھی سنگھ کے ساتھ رہے اور نہ ہی کبھی بی جے پی کے ساتھ۔ وہ ایک صاف ستھری سیکولر ساکھ رکھنے والے سیاست داں تھے۔ اور ویسے بھی سچن کا یہ کہنا ہے کہ وہ بی جے پی میں نہیں جائیں گے۔ لیکن جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے سچن جلدی میں ہیں اس لیے ممکن ہے کہ آج جو کہا ہے کل اس سے پلٹ جائیں، ویسے بھی آج کی سیاست میں جو کہا جاتا ہے اس پر عمل کم ہی کم ہوتا ہے ۔تو اگر ایسا ہوا، اگر سچن پائلٹ نے بی جے پی کا سہارا لیا تو ایک تو ان کی سیکولر امیج کو زبردست دھکا پہنچے گا۔ اور دوسرا گہلوت کا ان پر بی جے پی سے سانٹھ گانٹھ کا الزام بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔ اور اس سب کے باوجود ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی جوڑی یہ تو چاہتی ہے کہ کانگریس کے لیڈر بی جے پی میں شامل ہوں تاکہ’ کانگریس مکت بھارت ‘ کا ان کا سپنا پورا ہو لیکن سچن پائلٹ مکمل کانگریس تو دور ریاستی کانگریس کو بھی پوری طرح سے بی جے پی کے دامن میں نہیں ڈال سکتے ہیں، ہاں وہ کانگریس کی بنیادوں کو کمزور ضرور کر سکتے ہیں۔ اور آج بی جے پی یہی چاہتی ہے کہ کانگریس مضبوط نہ رہے۔ اگر سچن یہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ کمان گہلوت پر انہیں ترجیح دے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ گہلوت کو ناراض کرنا کانگریس کو کہیں زیادہ کمزور کرنا ہوگا۔ سچن پائلٹ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کانگریس کا دامن تھامے رہیں، بی جے پی سے اگر کوئی رشتہ ہے تو اسے توڑ لیں، کیونکہ بی جے پی میں انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لیے جہاں وہ کانگریس میں تھے بہت لمبا سفر طے کرنا پڑے گا اور راستے میں انہیں ایسے مگرمچھ ملیں گے جو انہیں نگلنے کی کوشش کریں گے، اور نئی سیاسی پارٹی کے قیام کی سوچ کم از کم راجستھان جیسی ریاست میں، جہاں یا تو کانگریس ہے یا بی جے پی،خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے والی سوچ ہوگی۔ ارجن سنگھ، مادھو راؤ سندھیا، پرنب مکھرجی،وی سی شکلا، این ڈی تیواری وغیرہ اس راہ پر چل چکے اور ناکام رہے ہیں ۔صرف دو بلکہ اب تین ہی ایسے لیڈر ہیں جو کانگریس سے الگ ہو کر بھی کامیاب رہے، شردپوار، ممتا بنرجی اور جگن ریڈی۔سچن پائلٹ نہ شردپوار کی طرح کی سیاسی چالاکی کے حامل ہیں اور نہ ہی ممتا بنرجی سا جدوجہد اورلڑنے کا مزاج رکھتے ہیں، جگن ریڈی کو جو عوامی ہمدردی حاصل رہی وہ انہیں نہیں حاصل ہو سکتی، اس لیے بہتر راستہ مفاہمت کا ہی ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ کانگریس اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت بے قصور ہے۔ راہل گاندھی کے یہ سب قریب تھے، ان میں ملند دیورا بھی شامل تھے، مگر راہل گاندھی انہیں پارٹی میں اوپر کی سطح کی قیادت کے ساتھ کھڑا کرنے میں ناکام رہے، اس وقت بھی جب وہ کا نگریس کے صدر تھے سینئر کانگریسیوں کے اشارے پر چلتے رہے ، نئی جوان قیادت کھڑی کرنے کے لیے کوششیں نہیں کیں۔ سونیا گاندھی نے شائد نوجوان لیڈروں پر کبھی بھروسہ ہی نہیں کیا۔ سندھیا اور پائلٹ کے قیادت سے اختلافات سلجھانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔ کانگریس کا کلچر چاپلوسی کا رہا ہے، جب تک اسے ختم نہیں کیا جائے گا کانگریس ابھر نہیں سکے گی۔ کتنے ہی اچھے لیڈروں کو کانگریس نے اس کلچر کے سبب کھویا اور نقصان اٹھایا ہے۔ شرد پوار جیسے لیڈر کو کھونے کا نتیجہ سامنے ہے، مہاراشٹر میں کانگریس کا طوطی بولتا تھا اب اسے بیساکھی کی ضرورت پڑتی ہے۔ گزشتہ دنوں پوار نے یہ اعلان کر کے کہ آئندہ شیوسینا سے سیاسی اتحاد ممکن ہے کانگریس کو بڑا جھٹکہ دیا ہے۔ مغربی بنگال میں کانگریس ممتا بنرجی کو ساتھ لینے میں ناکام رہی ہے لہٰذا وہاں بے حد کمزور ہے۔ سندھیا اور پائلٹ کی بغاوت سے کانگریس کو بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔ اسے ان کانگریسیوں کو ہر حال میں ساتھ رکھنا ہوگا جو بی جے پی کے طوفان میں بھی وفادار رہے ہیں ۔ اب سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے لیے سخت فیصلے لینے کا وقت ہے ۔ جو بغاوت کر رہے ہیں یا پارٹی لائن سے الگ اپنی راہ بنا رہے ہیں انہیں سخت وارننگ دینا ہوگی اور پھر بھی نہ مانے تو ہمیشہ کے لیے انہیں ہٹانا ہوگا۔ نئے خون کو راہ دینا ہوگا۔راہل گاندھی کو اب پختگی دکھانی ہو گی۔ ان سے، ان کے سوالوں سے بی جے پی آج گھبرا رہی ہے اسی لیے ان کے ہر سوال پر بی جے پی کے ترجمان جواب دینے کو تیار رہتے ہیں۔ ’کانگریس مکت بھارت ‘ کا سپنا دیکھنا آسان ہے پر اسے پورا کرنا آسان نہیں ہے، آج کے سخت فرقہ وارانہ ماحول میں بھی کانگریس کی کئی ریاستوں میں حکومت ہے۔ اور یہ کانگریس ہی ہے جو ملک کی سیکولر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اس ملک کو ’ہندو راشٹر ‘ میں تبدیل کرنے سے روک سکتی ہے ۔لیکن اس کے لیے ایک شرط یہ ضروری ہے کہ وہ فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں سے آر پار کی لڑائی لڑے، خود اپنے آپ کو ان کے رنگ میں رنگنے سے بچی رہے۔