کانگریس میں اندرونی کشمکش جاری،اب سلمان خورشید نے کپل سبل کونشانہ بنایا

نئی دہلی:کانگریس کے سینئرلیڈر سلمان خورشیدنے کپل سبل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔سلمان خورشیدنے فیس بک پر ایک لمبی پوسٹ کے ذریعے اپنی بات کہی ہے۔سلمان خورشید نے اپنی گفتگوکاآغاز آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے ان اشعارسے کیاہے،’نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر،رہے دیکھتے اوروں کے عیب وہنر،پڑی اپنی برائیوں پرجب نظر،توپھرنظروں میں کوئی برانہ رہا‘۔اس میں ، وہ (ظفر) ناقدین کومشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ان کی کوتاہیوں کو نظرانداز کریں۔ سلمان خورشید نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر ووٹرہمیں اہمیت نہیں دیتے ہیں تو اقتدار میں آنے کے لیے شارٹ کٹ تلاش کرنے کی بجائے طویل جدوجہدکے لیے تیاررہناچاہیے۔ اپنی پوسٹ میں سلمان خورشید نے لکھا ہے کہ اقتدار کو ختم کرنا عوامی زندگی میں آسانی سے قبول نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر یہ اقدار کی سیاست کا نتیجہ ہے تو پھر اسے عزت کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔اگر ہم حکمران ہیں تو اگر ہم اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہ کریں تو بہتر ہے ۔ کپل سبل کا ذکر کیے بغیر سلمان خورشیدنے لکھا ہے کہ حکمت عملی کاوقتاََ فوقتاََجائزہ لینے کی ضرورت ہے ، لیکن میڈیا تک پہنچ کر یہ کام نہیں کیا جاسکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کپل سبل نے بہارکے انتخابات میں ناقص کارکردگی پر کانگریس کی قیادت پر سرعام ناراضگی کی اور مطالبہ کیا کہ تنظیمی سطح پرتجربہ کار اور سیاسی ماہرین کوآگے لایا جائے۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ خودشناسی کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ کپل سبل نے ایک انگریزی اخبار سے گفتگومیں کہاتھاکہ ہمیں کئی سطحوں پر بہت سارے کام کرنے ہیں۔ اسی کے ساتھ ، محتاط قیادت کی بھی ضرورت ہے ، جو اپنی چیزوں کو عوام کے سامنے بڑی احتیاط کے ساتھ رکھے۔ کپل سبل نے کہا تھا کہ پارٹی کویہ ماننا ہوگا کہ ہم کمزور ہوتے جارہے ہیں۔