کانگریس لیڈر کپل سبل کا بڑا حملہ،کہا چین کی زبان بول رہے ہیں وزیر اعظم مودی

نئی دہلی:مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر سیاسی بیان بازیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اتوار کے روز سابق مرکزی وزیر اور کانگریس رہنما کپل سبل نے وزیر اعظم مودی کے بیان پر سوال اٹھایا ہے اور اس پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی چین کی زبان بول رہے ہیں۔کپل سبل نے کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی سرحد میں کوئی داخل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہماری پوسٹس کسی کے قبضے میں ہیں۔ چین بھی یہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے ہندوستان کی سرحد میں کوئی دخل اندازی نہیں کی ہے۔کپل سبل نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر چینی فوجی دراندازی نہیں کرتے اور کوئی بھی ہندوستانی حدود میں نہیں آتا ہے تو پھر پرتشدد جھڑپیں کس طرح ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم مودی سے پہلے وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ چینی فوجیوں نے ہندوستانی حدود میں دراندازی کی، جس کی وجہ سے تعطل اور پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ وزیر اعظم مودی اور وزارت خارجہ کے بیانات متضاد ہیں۔ وزیر اعظم مودی اپنا بیان دے رہے ہیں جبکہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ الگ بیانات دے رہی ہے۔ اس دوران کپل سبل نے مودی حکومت پر چین کے حوالے سے بہت سارے سوالات اٹھائے۔کانگریس لیڈر سبل نے کہا کہ بہت سارے دفاعی ماہرین، ریٹائرڈ آرمی افسران اور سیٹلائٹ کی تصاویر نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ چین نے ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کی حفاظت کر رہے کرنل سنتوش بابو سمیت 20 فوجی شہید اور 85 فوجی زخمی ہوئے ۔ اس کے علاوہ 10 فوجی بھی چین کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ اب پی ایم مودی کہہ رہے ہیں کہ چینی فوجیوں نے کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔کانگریس لیڈرنے کہا کہ پچھلے 53 سالوں میں ہندوستانی فوج نے ایل اے سی پر ہر چینی حملہ کو ناکام بنا دیا ہے۔ چاہے یہ 1967 میں نتھولہ میں دراندازی کی کوشش تھی یا 1986 میں سوموڈورونگ چو وادی یا اروناچل پردیش یا 2013 میں لداخ کی ڈیپسانگ وادی میں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*