کانگریس کو سبق سیکھنے کی ضرورت-محمد اویس سنبھلی

راجستھان کے پورے سیاسی واقعہ سے تین سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا پائلٹ زیادہ سیاسی خواہشات کے چلتے جلد بازی کرگئے؟۔دوسرا یہ کہ وہ بی جے پی کے ساتھ جائیں گے تو کیا ہوگا اور اگر سچن الگ پارٹی بناتے ہیں تو کیا ؟۔ایسا اس لیے کہ حالات ایسے نہیں لگ رہے کہ وہ اب کانگریس میں رہیں گے۔ تیسرا بڑا سوال یہ ہے کہ کانگریس لیڈران کے پارٹی چھوڑنے کا یہ سلسلہ کب رُکے گا؟۔
جہاں تک سوال سچن پائلٹ کے ذریعہ جلدبازی کرنے کا ہے تو پائلٹ کی عمر ابھی صرف 43برس ہے۔جیسا کہ کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سرجے والا نے کہا کہ’ پارٹی نے انھیں(سچن پائلٹ) 26سال کی عمر میں رکن پارلیمنٹ بنانے سے لے کر 41سال تک کی عمر میں مرکزی وزیر ، ریاستی صدر، نائب وزیر اعلی تک بنایا‘۔خود پائلٹ بھی اسے عوام کے درمیان اسٹیج پر قبول کرچکے ہیں۔ایسے میںپائلٹ کی سیاسی طور پر نظر انداز کیے جانے کی بات سوفیصد غلط ہے اور یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ جلدبازی کرگئے۔
راجستھان معاملہ میں بی جے پی قائدین کے بیانات نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ پوری بی جے پی ،پائلٹ کے لیے اتنی دکھی نظر آرہی ہے جیسے پائلٹ اس کی اپنی پارٹی کے کوئی لیڈر ہوں۔ 2018میں کانگریس کی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی بی جے پی قائدین پائلٹ کو یہ کہہ کر اکساتے رہے کہ راجستھان میں محنت انھوں نے کی اور انعام گہلوت کو مل گیا۔اس کے پیچھے ان کی منشا صاف تھی کہ پائلٹ کی سیاسی امنگوں کو بڑھا کر گہلوت حکومت کو غیر مستحکم کیا جاسکتا ہے۔پائلٹ یہیں غلطی کربیٹھے اور چار دہائیوں سے زیادہ کا سیاسی تجربہ رکھنے والے گہلوت نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سچن پائلٹ کو ریاستی کانگریس کمیٹی اور کابینہ سے باہر کا راستہ دکھوا دیا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر پائلٹ بی جے پی کے ساتھ جائیں گے تو کیا ہوگا۔ پائلٹ کانگریسی خاندان سے ہیں اور راجستھان میں گذشتہ 17-18برسوں میں انھوں نے کانگریس کارکنوں کے درمیان کام کیا ہے۔ اگر وہ بی جے پی میں جاتے ہیں تو وہاں ان کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ایسا اس لیے کیوں کہ راجستھان بی جے پی میں سابق وزیر اعلیٰ وسندرا راجے سندھیا ، مرکزی وزیر گجیندر شیخاوت ، ارجن رام میگھاوال، کیلاش چودھری ، راجیہ وردھن سنگھ راٹھور، ریاستی صدر ستیش پونیا، قومی نائب صدر اوم ماتھر، اسمبلی میں جزب اختلاف کے لیڈر گلاب چند کٹاریہ، راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر کِروڑی لال میڑا جیسے اہم لیڈر موجود ہیں۔ اتنے بڑے بڑے نیتائوں کے بیچ پائلٹ کا خود کے لیے جگہ بناپا ممکن نہیں ہوگا۔پائلٹ کی سیاسی حیثیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ کانگریس سے کتنے ایم ایل اے کو اپنے ساتھ لا پاتے ہیں، کیوں کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ جن لوگوں کو انھوں نے ٹکٹ دلوایا اور وزیر بنوایا ، ان میں سے اکثر پارٹی چھوڑنے کے معاملے پر آج ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔
فرض کریں اگر سچن پائلٹ بی جے پی میں شامل ہوجاتے ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ انھیں کانگریس کی طرح ریاستی صدر اورڈپٹی چیف منسٹر کی کرسی کے ساتھ میں کئی اراکین اسمبلی کو وزیر بنانے کی حیثیت نہیں ملے گی۔اور اگر وہ الگ پارٹی بناتے ہیں توپھر انھیں صفر سے شروعات کرنی ہوگی۔سیاست میں آنے کے بعد سے وہ مستقل طور پر طاقتور عہدوں پر یا حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ایسے میں بناطاقتور عہدے یا بنا سرکار کے سپورٹ کے اکیلے چلنا ان کے لیے بہت مشکل ہوگا۔ پائلٹ کو یہ بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ راجستھان کی سیاست میں تیسری پارٹی کے لئے بہت کم گنجائش ہے، وہاں کی سیاسی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ صرف بی جے پی اور کانگریس ہی مل کر اقتدار میں رہی ہیں۔ ہاں! کانگریس اور بی جے پی نے ضرورت پڑنے پر چھوٹی جماعتوں یا آزاد امیدواروں کی حمایت لی ہے۔
تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ کانگریس میں لیڈران کے پارٹی چھوڑنے کا یہ سلسلہ کب رُکے گا۔جنوبی ہندوستان سے شروع کریں تو آندھرا پردیش کا بے حد مقبول چہرہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی جو وائی ایس آر کے نام سے مشہور تھے، ان کے بیٹے جگموہن ریڈی نے کانگریس اعلیٰ کمان پر خود کو نظر انداز کیے جانے کا الزام لگا کر اپنی نئی پارٹی بنالی اور کانگریس کو آندھرا پردیش میں تقریباً ختم کردیا اور آج وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں۔اگر ہم شمال مشرق کی بات کریں تو دھاکڑرہنما ہیمنتا بسوا سرما سے لے کر این بیرین سنگھ، جیوتیرادتیہ سندھیا، اشوک تنور اور تیزترار ترجمان پرینکا چترویدی سے لے کر کئی نام شامل ہیں ۔ کانگریس اعلی کمان اگر وقت رہتے کوشش کرتا تو ان رہنمائوں کو روکا جاسکتا تھا۔یہاں کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما کپل سبل کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے ، جنھوں نے راجستھان کے بحران کے دوران کہا تھا کہ ’کیا ہم تب جاگیں گے ، جب اصطبل سے سارے گھوڑے بھاگ چکے ہوں گے‘۔ اس کے علاوہ پنجاب کے سابق وزیر نوجوت سنگھ سدھو ، پنجاب کانگریس کے سابق صدر پرتاپ سنگھ باجوا، ممبئی کانگریس کے سابق صدر ملند دیوڑا ، سنجے نروپم سمیت کئی لوگ ناراض ہوکر کوپ بھون میں بیٹھے ہیں۔سینئر رہنمائوں میں سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے لے کر ریتا بہوگنا جوشی ، چودھری بیریندر سنگھ، جگدمپیکا پال، رادھا کرشن ویکھے پاٹل اور سونیا گاندھی کے سب سے قریبی کہے جانے والے ٹام وڈکّن تک کئی بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔اس کے علاوہ بھی مہاراشٹر سے لے کرگووا، گجرات سے لے کر مدھیہ پردیش اور اروناچل سے لے کر کرناٹک اور تلنگانہ تک کئی اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
اب آخری سوال کانگریس اعلیٰ کمان سے ہے کہ پارٹی میں یہ رہنما ٹِک کیوں نہیں رہے ہیں۔ ہر معاملہ میں صرف بی جے پی کو ہی مورد الزام ٹھہراکر یا اپنے نیتائوں کو Ambitiousبتاکر کام نہیں چلے گا۔لوک سبھا انتخابات کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا ، پارٹی صدر تک نہیں چن سکی۔اپنی عمر کی وجہ سے سونیا گاندھی کانگریس کو آگے بڑھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور راہل گاندھی کانگریس صدر کی کرسی کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں ایسے میں پرینکا گاندھی کو پارٹی کی کمان سونپ دینا ہی بہتر ہے ۔سندھیا، پائلٹ جیسے چمکدار چہرے اگر پارٹی چھوڑیں گے تو عام گھروں سے آنے والے نئے نوجوان پارٹی میں آنے سے ہچکچائیں گے اور اس سے پارٹی کے پہلے سے خراب چل رہے حالات کے اور خراب ہونے سے انکار نہیں کیا سکتا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)