کانگریس پارٹی کو غالباً اپنے اچھے دنوں کی کو ئی توقع نہیں – صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو ،کالج آف کامرس ،آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ
نریندر مودی کی حقیقی کامیابی کا راز اُن کی تنظیمی صلاحیت اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر عوام کے بیچ اشتعال پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی مضمرہے کہ انھوں نے ہندستان کی دوسری سیاسی جماعتوں اور بالخصوص کانگریس کو اس جگہ تک پہنچا دیا ہے جہاں اس میں آگے دیکھنے اور پھر سے کبھی مرکز میں حکمراں جماعت بننے کا جوش و جذبہ ہی نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا نہیں ہو تا تو حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلا ف عوام کو متحد کر کے کانگریس 2019ء میں نریندر مودی کو دہلی سے دور کر چکی ہوتی ۔ مگر اسے آپسی لڑائی جھگڑے میں شامل ہو نے اور پارٹی کے داخلی تنازعات میں الجھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے اور اسی کام کو وہ پارٹی سنجیدگی سے کرتی ہے ۔اب ایسی سیاسی جماعت کی طرف نگاہیں اٹھائے ہندستا ن کے سچّے سیکولر عوام کوکسی نئے راستے کی تلاش کرنی چاہیے ۔
جمہوریت میں خاندانی سیاست کے اپنے مسائل ہیں۔اندرا گاندھی کی وفات کے بعدپہلی بار لوگوں کی سمجھ میں آیا کہ راجیو گاندھی نہایت نا تجربہ کار سیاست دان ہیں اور پارلیامانی جمہوریت میں بھی ڈھائی آکھر تک نہیں پہنچے ہیں۔ان کے دوستوں نے مسٹر کلین کے طور پر امیج بنانے کی کوشش کی۔اندراگاندھی کی موت کی لہر میں انھوں نے دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر لی تھی۔مگر ان کے پاس ملک اور دنیا کے بارے میں کوئی ٹھوس تصور نہیں تھا۔پارٹی کے یار لوگوں نے رٹے رٹائے جملے ان کے منھ سے اگلوانے شروع کیے ۔ان کے ایک دن کی تقریر اگلے روز الٹ جاتی تھی۔کانگریس نئے پرانے لیڈروں کے جال میں اسی زمانے میں پھنسی۔ یہ پھندا اندرا گاندھی کو بھی ایک زمانے میں کسنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ان کی انتظامی سوجھ بوجھ اور فیصلے میں اپنے سیاسی تجربے کا استعمال ان کے لیے مددگارہوئے۔پارٹی ٹوٹی مگر اسے اپنے حق میں کرنے ،سرکار قائم رکھنے اور اپنی فوقیت ثابت کرنے میں وہ کامیاب رہی ۔راجیو گاندھی کے لیے دوسری بار اگر حکومت حاصل ہوتی تو ایسے امتحانات شروع ہوتے مگر پہلے وہ دوبارہ اپنی حکومت نہیں بنا سکے اور بہت جلد انھیں اپنی جان بھی گنوانی پڑی۔
کانگریس میں ہر زمانے میں بڑے بڑے سیاست داں اور اپنے اشارے پر چلانے والے لیڈر بھرے پڑے نظر آتے ہیں۔نرسمہا راو کو راجیو گاندھی کی وفات کا پہلا پھل ملا اور نرسمہا راو کے دورِ حکومت میں اس بات کی کوششیں ہوئیں کہ سونیا گاندھی اور پھر راہل گاندھی سیاست کے ایوان میں اپنی جگہ بنالیں۔ وقفے میں خاندان سے باہر کے ایک فرد کو وزیر اعظم بننے کا موقع ملا مگر نرسمہا راو نے اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ میعاد کسی طور پر کامیابی سے نکال لی ۔ کانگریس کو وہاں پہنچا دیا جہاں سے اس کے لیے آسان مواقع نہیں تھے۔ اسی دوران بابری مسجد کا انہدام بھی ہوا۔ اکثر لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ راجیو گاندھی کے دور میں ہی وہاں تالا کھلا تھا اور مسجد میں پوجا پاٹ کا سلسلہ قائم ہوا تھا۔ نرسمہا راو نے اٹل بہاری واجپئی کی وزارت کے لیے راہیں ہموار کیں۔
رفتہ رفتہ کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور سیکولر جماعتوں کے ساتھ انتخابات میں شریک ہوکر اپنا وجود بچانے میں کامیاب رہی اور ۲۰۰۵ء کی وہ گھڑی آگئی جب انتخابات میں ’’ہندستان چمک رہا ہے‘‘کے شگوفے سے بھارتیہ جنتا پارٹی ماحول بنارہی تھی۔ کانگریس کو دور دور تک یہ پتا نہیں تھا کہ اقتدار اس کے ہاتھ میں آنے والی ہے۔ جس روز ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی، کانگریس کے صدر دفتر میں دوپہر تک سناٹا چھایا رہا اور کوئی اہم لیڈر کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ٹی وی چینلوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے شہسوار دبنگ بنے ہوئے تھے اور کانگریس کی طرف سے اپنی باتیں رکھنے کے لیے جو ترجمان نظر آرہے تھے، ان کی گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ مگر دوپہر کے بعد سورج رفتہ رفتہ ڈھلنے لگا اور کانگریس کا آفتاب نئی روشنیوں کے ساتھ مقدر کا فیضان لٹاتے ہوئے طلوع ہوا۔ ان پندرہ برسوں میں عوام یہ تماشا دیکھتے رہے کہ کانگریس کے اہل کار سونیا گاندھی اور ان کے صاحب زادے راہل گاندھی یا کبھی کبھی پرینکا گاندھی کو اگلے وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی انداز سے برانڈنگ ہوتی رہی مگر ۲۰۰۵ء میں سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کے عہدے کو غالباً اس لیے قبول نہیں کیا کیوں کہ وہ اپنے صاحب زادے کو آنے والے وقت میں اس جگہ بٹھانا چاہتی تھیں۔ پندرہ سال اُدھر اور پندرہ سال اِدھر یعنی تین دہائیوں میں اس خاندان کے تینوں افراد اپنی کوششیں کرتے رہے مگر جو نتیجہ نکلا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ملک کے عوام یا سیاسی مشاہدین اس معاملے میں تذبذب میں مبتلا ہیں۔ کبھی سونیا گاندھی بن باس اختیار کرلیتی ہیں اور کبھی ان کے صاحب زادے ۔ کبھی کبھی برسو ں پرینکا گاندھی نظر نہیں آتیں اور کبھی ہندستان کے سب سے بڑے صوبے کی سیاست کا سکہ چلانے کے لیے کانگریس کی طرف سے پیش کردی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بن باس نہیں چاہتا مگر میدان میں ٹک کر اپنی شکستوں کی ذمہ داری لینے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں ۔ جیتے تو ہم فاتح اور ہارے تو کانگریس کی تنظیم کا مسئلہ۔ یہ ایسا کھیل ہے جس میں کانگریس کو اور بھی سکڑنا ہے۔
کانگریس اپنے گذشتہ سے سیکھنا نہیں چاہتی۔ ابھی جو اس کے ہاتھ میں علاقائی اقتدار موجود ہیں، وہاں بھی ڈاواں ڈول کیفیت ہے۔ کرناٹک اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں کو گنوا دینے کے بعد وہ کسی طرح راجستھان کی حکومت کو بچاپانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ہر سیاسی مبصر اس بات سے اتفاق کرے گا کہ راجستھان کی پریشانیوں کو کم کرنے یا ایک منزل تک پہنچانے میں کانگریس کے اعلا کمان سے زیادہ خود وہاں کے وزیر اعلا اشوک گہلوت کی سیاسی فراست اور طویل تجربہ ہے ورنہ دلی اور جے پور دونوں سمٹ ہی گئے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پشت پناہی الگ رہی۔ کانگریس میں وقت پر فیصلہ لینے کی صلاحیت سب سے کم رہی ہے اور موزوں کام میں یا اہم موقعے سے تو انھیں ایسی کوئی صلاحیت دکھانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ جب ان کی صف اول کے لیڈران بشمول جیورادتیہ سندھیااور سچن پائلٹ عوام میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ کانگریس صدر یا اعلا کمان سے مل کر انھیں بات کہنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑا مگر کوئی صورت نہیں پیدا ہوئی۔ ایسی پارٹی سیاست کیا محلے کی پنچایت بھی نہیں چلا سکتی۔
ابھی پچھلے دنوں جب کانگریس کے بہت سارے بڑے اور تجربہ کار لیڈروں نے سونیا گاندھی کو ایک خط لکھ کر پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے چند مشورے دیے ، اسی دن سے اس پارٹی میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ خط کا متن ملاحظہ کیجیے تو اس میں سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے اور ہر اعتبار سے کانگریس کی سیاسی اور سماجی بہبود کے مد نظر مشورے دیے گئے ہیں۔ مگر گذشتہ ہفتے کی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے روز ہی غلام نبی آزاد اور کپل سبل کے ٹویٹ اور بیانات یہ بتانے کے لیے کافی تھے کہ کانگریس اعلا کمان کو یہ جرات رندانہ پسند نہیں آئی۔ اب جب کہ تنظیمی ڈھانچے میں رد و بدل کے اعلانا ت ہوچکے ہیں تو یہ سمجھنا محال نہیں کہ اس خط کی وجہ سے ہی غلام نبی آزاد ، کھڑگے وغیرہ کو پارٹی میں اپنی پوزیشن گنوانی پڑی۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں کچھ اور لوگ بھی مکتوب نویسی کی پاداش میں راندۂ درگاہ کیے جائیں۔
پورے ملک کے عوام بھارتیہ جنتا پارٹی کی مطلق العنانی اور کھلی فرقہ پرستی یا معیشی حکمت عملی میں ناکامی سے عاجز آکر کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کا ایک فرنٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جگہ جگہ کانگریس کی جو سرکاریں بنیں، ان میں کانگریس کی کارکردگی کم اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے نجات کی عوامی خواہش کا زیادہ دخل تھا۔ غلطی سے کانگریس نے اسے اپنی کامیابی سمجھ کر پرانے انداز سے چلنے کی گستاخی کی ۔ نتیجے میں بھوپال اور بنگلور ان کے ہاتھ سے نکل گئے ۔ کانگریس اب بھی دیہاتی نوٹنکی کی طرح سے چل رہی ہے۔ اندر اور باہر ، رسمی اور غیر رسمی باتوں کے فریب اب اسے اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ پانچ برس تک سونیا گاندھی عوامی منچ سے اعلان کرتی رہیں کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ راہل گاندھی کو کانگریس کی کمان سنبھالنی چاہیے۔ کبھی ایسا محسوس نہیں ہونے دیا کہ ایک ماں اپنے بیٹے کی وکالت کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے انتخاب میں شکست کے بعد راہل گاندھی نے کانگریس کی صدارت سے استعفیٰ دیا۔ اب ان کی والدہ محترمہ کانگریس کی کارگزار صدر بن گئیں۔ کہاوت پہلے سے موجود ہے ’’گھی کہاں گیا کھچڑی میں‘‘۔ ایک متبادل پرینکا گاندھی کے طورپرجنرل سکریٹری بن کے قطار میں موجود ہے۔ سیاست میںچُھپے گھات کھیلے جاتے ہیں مگر لڑائی آمنے سامنے لڑنی پڑتی ہے۔ نریندر مودی نے لال کرشن اڈوانی کو سامنے سے ہرایا۔ اب انھیں ا س کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ مگر کانگریس میں نہ اپنی قیادت کو عوام تک لے جانے کی بے چینی ہے اور نہ ہی اپنی خامیوں پر توجہ دینے کی فرصت۔
آنے والے وقت میں بہار میں انتخابات ہیں۔ سیاسی اعتبار سے بے حد حساس مسئلے سامنے آرہے ہیں۔ لالو یادو جیل میں ہیں اور بہت مشکل ہے کہ انتخابات میں وہ میدان میں آسکیں۔ پچھلی اسمبلی تو ان کی وجہ سے پارگھاٹ لگ گئی تھی۔ مگر راہل گاندھی یا سونیا گاندھی کو دلی کی ڈرائنگ روم پالیٹکس میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ میدان میں اتر کر مخالف سے دو ہاتھ کرکے سرفرازی اب اس خاندان کے مقدر میں ہی نہیں ہے۔ کاش انھیں ہوش آتا ۔
کانگریس کے لیے اب بھی موزوں ہے کہ نئے پرانے وفادار اور بے وفا سارے کرداروں کو جمع کرکے اپنی طاقت اور اجتماعی قیادت کو سنبھالنے کے لیے بہار کے انتخاب میں میدان میں آنا چاہیے۔ وہاں پہلے سے تیجسوی یادو کی شکل میں خاندانی سیاست کے ناتجربہ کار سپاہی موجود ہیں۔ انھیں سکھاپڑھا کر میدان میں کامیاب کرانے کی ذمہ داری کانگریس کو ہی اٹھانی پڑے گی ورنہ بہار میں پھر سے نتیش کمار کا بر سرِاقتدار ہونا یہ پیغام دور تک پہنچائے گا کہ کانگریس کا زوال حتمی ہے اور نریندر مودی کے طوفان کو کوئی روک نہیں سکتا۔ وقت رہتے کانگریس کو تگڑمی سیاست سے خود کو اوپر اٹھانا چاہیے۔