کانگریس کیوں غیر فرقہ پرست طاقتوں کی ترجمان بن کر نہیں اُبھرنا چاہتی؟-صفدر امام قادری

گذشتہ چھے برسوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے جس طرح سے مرکز سے لے کر صوبوں تک اپنی طاقت بڑھائی ہے، ٹھیک اُسی طرح ہندستان کی اپوزیشن نہ صرف یہ کہ بکھری ہوئی ہے بلکہ نجی اقتدار کی طلب کے علاوہ ان کے ذہن میں ہندستانی سیاست میں ایک متبادل کی طرح اُبھرنے اور پھر عوام سے ووٹ لے کر آیندہ انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بے دخل کر نے کی کوئی خاص مہم نظر نہیں آتی۔ اس کاسب سے تاریک پہلوٗ یہ ہے کہ قومی سطح پر انڈین نیشنل کانگریس کو متبادل کے طَور پر سامنے آنا تھا اور پھر دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے آمنے سامنے کی جنگ کرنی تھی مگر کسی بھی جہت سے ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
من موہن سنگھ کی دس سالہ حکومت کے دوران کانگریس نے اپنی ملک گیر تنظیم کی تجدید اور استحکام کے لیے کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ حد تو یہ ہے کہ جن علاقائی پارٹیوں کی بنیاد پر اُس نے مرکز میں ایک سیاسی اشتراک پیدا کر کے حکومت پائی تھی، ان سے بھی مستقل دوستانہ مراسم اور مفاد ِ باہمی کے پیشِ نظر دکانِ سیاست چلانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ آج کا حقیقی بکھراو اُسی دور کے نکمّے پن کی وجہ سے سامنے آ رہا ہے۔کانگریس نے اپنے متوقع مفاد کے لیے سماج وادی پارٹی ، بی۔ ایس۔پی اور ترن موٗل کانگریس جیسی پارٹیوں سے سیاسی حصّے داری کے سلسلے سے کوئی مستقل حکمتِ عملی تیّار نہیں کی جس کی وجہ رفتہ رفتہ اتّرپردیش اور بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ بہار کی سیاست میں بھی اُسی زمانے میں راہل گاندھی کے منھ سے نتیش کمار کی تعریف سُننے کے مواقع ملے جہاں کانگریس کا یہ گیم پلان تھا کہ راشٹریہ جنتا دل کو اوقات دکھانے کے لیے نتیش کمار کو کبھی بھی ساتھ لیا جا سکتا ہے۔
سیاست میں بڑی مشہور کہاوت ہے کہ ’مایا ملی نہ رام‘۔ کانگریس اپنے پُرانے گڑھ اُتّر پردیش سے صرف بے دخل نہیں ہوئی بلکہ راہل گاندھی کو بھی اپنا الیکشن گنوانا پڑا۔ جب آپ اپنی خاندانی سیٹ کو بچا نہیں سکتے ہیں، اس وقت پورے اپوزیشن کی قیادت کا دعوا مضحکہ خیز ہی مانا جائے گا۔کانگریس کا خاندانی جادوٗ ملک کے عوام نے دہائیوں قبل مُسترد کر دیا مگر ماں بیٹے نے ادلا بدلی کا کھیل اتنے خوش گوار طریقے سے رائج کیا ہے کہ کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ یہ دونوں ہندستان کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کو ہمیشہ کے لیے لے ڈُبا کر نہ چھوڑیں۔ کچھ برس پر ماں بیٹے کے بیچ بڑے اعتماد سے الیکشن کے میدان میں پرینکا گاندھی آتی ہیں، ماحول ایسا بنانے کی کوشش ہوتی ہے کہ کانگریس کا نیا اور انقلابی چہرہ ہوں گی۔ پھر انتخاب ہارنے کے بعد وہ غیاب میں چلی جاتی ہیں۔ داخلی طَور پر کانگریس کی حکمت یہ رہتی ہے کہ عوامی تحریک کار کے طَور پر کانگریس میں ماں، بیٹے اور بیٹی کے علاوہ کوئی چوتھا سا منے نہیں آئے۔ تاریخ کی فصل پر یہ خوف ناک عبارت جھلملا رہی ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو کانگریس میں صرف یہی تین قائد رہیں گے اور باقی کچھ بھی نہیں بچے گا۔
کانگریس پارٹی کا ان دنوں مطلب یہ ہے کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ ٹیلی وژن پر نظر آنے والے پارٹی کے ایسے نمایندے جنھیں عام طَور پر راجیہ سبھا کے ممبر کی پوزیشن ملی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے، وہاں کے حالات بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ مدّھیہ پریش، چھتّیس گڑھ اور راجستھان سے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اوٗبے ہوئے لوگوں نے مخالفت میں ووٹ کرکے جیسے تیسے کانگریس کو آگے بڑھادیا۔ کانگریس ایسی نکمّی قیادت والی پارٹی ہے جسے تین ریاستوں میںتحفے میں حاصل ہوئی حکومت کے قائدین مقرّر کرنے میں ایک ہفتہ سے زیادہ کا وقت لگا، اُسی زمانے میں اس بات کے امکانات پیدا ہونے لگے تھے کہ دیر سویر مسائل پیدا ہوں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کھیل تماشوں کو صرف الزام مت دیجیے، کانگریس کی کمزور مزکزی قیادت نے اپنی حکومت کے مسائل کو نہیں سمجھا اور چند مہینوں میں ایک بڑی حکومت ہاتھ سے نکل گئی۔ اس سے پہلے اسی انداز سے کرناٹک میں بھی اپنی حکومت کے کھونے کا ان کے پاس تجربہ تھا۔ ابھی بھی راجستھان کی حکومت اگر ختم ہونے سے بچ گئی ہے تو اس میں بھی مرکزی قیادت کے بجائے صوٗبے کے وزیرِ اعلا کی مشقّت اور بہتر سیاسی سوٗجھ بوٗجھ بنیادی سبب ہے۔
کانگریس کے مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی فرنٹ پر توجہ کریں تو اپنے آپ یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اُسے اپنے حلیف حلقے کو سنبھالنا آتا ہے ورنہ اس انتخاب کی کامیابی کے بعد اُسے کسی کے ووٹ کی بھی ضرورت نہیں تھی مگر اس نے حکومت میں سب کو شراکت دی اور سچّائی یہ ہے کہ اپنے حصّے سے کاٹ کر دی ۔ مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کی غیر بھارتیہ جنتا پارٹی حکومتیں بھی کانگریس کی کسی خوٗبی کی وجہ سے قایم نہیں ہو سکیں بلکہ مہاراشٹر میں شرد پوار اورجھارکھنڈ میں شیبوٗ سورین اور ان کے صاحب زادے ہیمنت سورین کی سیاسی سوٗجھ بوٗجھ سے حکومتیں بنیں۔ پچھلے راجیہ سبھا انتخاب میں جھارکھنڈسے کانگریس کے امیدوار کو جس ذلّت اور رُسوائی کے ساتھ شکست کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے اس بات کا مذاق اُڑایا کہ ہائی کمان نے کس اصول اور سیاسی سمجھ داری کے ساتھ اس امیدوار کو ٹکٹ دے دیا اور کھُلے بندوں ذلیل و رُسوا کیا۔
کانگریس پُرانی سیاسی پارٹی ہے اور اس میں ایک سے ایک گھاگھ قسم کے لیڈر اَب بھی موجو د ہیں مگر وہ سب کے سب اقتدار میں رہتے ہوئے منصب کی سیاست کے ماہرین رہے ہیں۔ راجیو گاندھی کے بعد کانگریس میں ایک بڑا طبقہ پیدا ہوا جو اقتدار سے الگ رہتے ہوئے اصحابِ اقتدار کو اپنی انگلیوں کے اشارے سے چلانے کا لطف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ بات پورا ملک جانتا ہے کہ من موہن سنگھ کو ایک مُکھوٹا سرکار کی قیادت میں ہی محدود ہو جانا پڑا۔ راجیو گاندھی کے زمانے سے ہی کانگریس میں ایسے لیڈروں کا بھی دھیرے دھیرے دبدبہ قایم ہوا جن کی صلاحیت یہ تھی کہ وہ راجیو گاندھی ، سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی سیاسی دکان آگے بڑھائیں۔ یہ طبقہ اتنا طاقت ور ہے کہ نہ یہ کبھی کانگریس کو آگے بڑھنے دے گا اور نہ اِس خاندانی سیاست کو آزادانہ طور پر اپنے پانْو پر کھڑا ہونے دے گا۔ کانگریس کے یہی لیڈر پردے کے پیچھے سے اپنی سیاسی اقتدار اور پھر کانگریس کی شکست کا اجتماعی ماتم کرنے کے لیے میدان میں آجاتے ہیں۔ اس تِکڑمی سیاست کے معیار کا صرف اس بات سے اندازہ لگانا چاہیے کہ بہار اور اُتّر پردیش میں گذشتہ دو دہائیوں میں جن لوگوں کو صوبائی کمان سونپی گئی ، وہ کتنے چھوٹے لیڈر تھے ۔ آخر راج ببّر اور سلمان خورشید کی بنیاد پر اُتّر پردیش میں کون سی عوامی تحریک چلائی جا سکتی تھی اور ان کی عوامی پہچان سے کس قدر سیٹیں جیتی جا سکتی تھیں؟ بہا رمیں چودھری محبوب علی قیصر اور اشوک چودھری کے نام کے دو کانگریس صدور بنائے گئے۔ انھیں اس کام کے لیے چننے والوں کی صلاحیت پر ترس آتا ہے کیوں کہ دونوں نے باری باری اپنے عہدۂ صدارت کی میعاد ختم کرنے کے بعد خاموشی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مختلف جماعتوں میں پہنچ گئے اور انھیں وزارت کی کرسیاں سونپ دی گئیں۔ آخر ان کو منتخب کرنے والوں کو کوئی سزا کیوں نہیں ملنی چاہیے۔ ان ہی کا سلسلہ جیوتی رادتیہ سندھیا اور سچن پائلٹ ہیں، اسے سمجھنا چاہیے۔
جیوتی باسوٗ اور ہر کشن سنگھ سرجیت، اندرجیت گپتا ، سوم ناتھ چٹرجی جیسے بزرگ کمیونسٹ پارٹی کے ایسے لیڈرملک میں تھے جن سے مدد لے کر پہلے دَور میں غیر کانگریسی سیاست اور پھر غیر فرقہ پرست سیاست اور حکومت کی بنیاد یں قائم ہوئی تھیں۔ مغربی بنگال سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے خاتمے نے دھیرے دھیرے قومی سطح پر غیر فرقہ پرست جماعتوں کی قیادت کے مواقع چھین لیے۔ گذشتہ دس برسوں میں ملائم سنگھ یادو نے اپنی حکومت اور اپنی پارٹی کو کچھ اس اہتمام کے ساتھ کنارے لگایا جس سے یہ ثابت ہوا کہ بڑھتی ہوئی عمر میں وہ آخری دانْو خاموشی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل جُل کر لگا رہے ہیں۔اپنی پارٹی کو بھی ان مشکل حالات تک پہنچایا کہ وہ اب علاقائی قیادت کے اہل بھی نہیں رہے۔ لالوٗ یادو کی جیل سے واپسی ہوئے بغیر اُن کی پارٹی بہار میں اس مقام تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی جہاں سے کوئی قومی سیاست قایم ہو سکے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو آئینہ دکھایا جا سکے۔ وہ جب باہر تھے تو سونیا گاندھی کو بھی ان کی بات سننی پڑتی تھی اور پورے ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف سب سے بھروسے مند عوامی کردار کے طَور پر ان کی شناخت کے سب قائل رہے ہیں۔
مایاوتی اور ممتا بنرجی کے ساتھ کانگریس نے ماضی میں کئی طرح کے کھیل کھیلے۔ آج یہ حالت ہے کہ یہ دونوں کانگریس سے دو دو ہاتھ کیے بغیر اپنا وجود بھی نہیں بچا سکتے۔ دونوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اس جنگ میںصرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو لگاتار فائدہ ہو رہا ہے مگر اس سے کسی کو غرض نہیں۔ یو پی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مکمّل طَور پر قبضہ کرہی لیا۔ مغربی بنگال میں کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور ممتا بنرجی کی سیٹیں گھٹیں اور فائدے میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی رہی۔ آنے والے اسمبلی انتخاب میں خطرے کی گھنٹی پورے ہندستان پر بج رہی ہے مگر ساری پارٹیاں اپنے طَور پر اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں۔
راہل گاندھی ڈرائنگ روٗم کی سیاست کے شروع سے ماہر رہے ہیں۔ ان کے صلاح کار نے بھی انھیں کمرے میں ہی قید رکھنے کی حکمتِ عملی بتائی۔ کورونا کے دور میں زوم میٹنگ میں انھوں نے کئی کارگر سوالات اُٹھائے مگر ان کے سوالوں پر خود ان کی پارٹی بھی زیادہ توجہ نہیں دیتی۔ ورنہ یہ کون سی مشکل بات تھی کہ جس زمانے میں لاکھوں اور کروڑوں مزدوروں اور پریشان حال افراد سڑکوں پر بے یار ومددگار کھڑے تھے، کانگریس باضابطہ طَور پر اسی بہانے اپنا تنظمیمی ڈھانچہ زندہ کر لیتی اور مظلوموں کے ساتھ انسان دوستی کا حق ادا کر پاتی۔ ماں، بیٹے اور بیٹی کے سیاسی بیانات میں ایک عجیب و غریب بکھراو کا عالم رہتا ہے۔ انھیں سلسلے وار طور پر اپنے ملک کے مسائل سے کچھ زیادہ واسطہ نہیں، اس لیے کبھی سَرکی اور کبھی پَیر کی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ یہ لوگ صرف اپنی باتوں کو منظم طریقے سے ترتیب وار ڈھنگ سے سماج کے سامنے پیش کر دیں تو کانگریس پارٹی میں ایک چمک پیدا ہو جائے گی۔ ابھی صرف اس پارٹی کے قائدین پر روشنی اور چمک ہے۔ کمیونسٹ قائدین اور سماج وادی پس منظر کے لیڈروں کی غیر موجودگی میں کانگریس ہی اس ملک کی اختلافی سیاست کوآگے لے جا سکتی ہے مگر اُس کے قائدین ہی رُکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس کو گھر گھر جا کر اپنی پارٹی کو نئی زندگی دینے کے لیے کام کرنا چاہیے بہ صورتِ دیگر فرقہ پرست طاقتوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)