کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے اقتصادی پیکیج کا مطالبہ کیا

نئی دہلی:کانگریس حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے کورونا وبا کی وجہ سے آمدنی کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو صوبوں کے لئے اقتصادی پیکیج دینا چاہئے۔پارٹی صدر سونیا گاندھی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوئی میٹنگ میں وزرائے اعلی نے یہ الزام بھی لگایا کہ کورونا وائرس سے متعلق زون کا تعین کرنے کے لئے مرکز کی جانب سے ریاستوں کے ساتھ صلاح مشورہ نہیں کیا جا رہا ہے۔اس میٹنگ میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم بھی شامل ہوئے۔کانگریس کے اہم ترجمان رندیپ سرجیوالا کے مطابق میٹنگ میں راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہاکہ جب تک وسیع مراعات پیکج نہیں دیا جاتا اس وقت تک ریاست اور ملک کیسے چلے گا؟ ہمیں 10 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی کا نقصان ہوا ہے۔ ریاستوں نے وزیر اعظم سے پیکج کے لئے مسلسل زور دیا ہے، لیکن ہمیں اب تک حکومت ہند سے کچھ نہیں پتہ چلا۔چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ سنگین اقتصادی بحران کا سامنا کر رہے ریاستوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ چھتیس گڑھ ایک ایسی ریاست ہے جہاں 80 فیصد چھوٹے صنعت پھر سے شروع ہو گئے ہیں اور 85000 کارکن کام پر واپس آ چکے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ نے الزام لگایا کہ دہلی میں بیٹھے لوگ زمینی حقیقت جانے بغیر کورونا وائرس کے زون کی درجہ بندی کر رہے ہیں، جو تشویشناک ہے۔پڈوچیری کے وزیر اعلی وی نارائن سوامی نے بھی کہاکہ حکومت ہند ریاستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کئے بغیر زون کا تعین کر رہی ہے اور اس سے بے ترتیبی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ کسی وزیر اعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کیوں نہیں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ریاستوں کے لئے اقتصادی پیکج کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولے ہیں۔