کانگریس اپوزیشن میں رہنا نہیں جانتی، پرشانت کشورکامشورہ،بی جے پی کے خلاف مضبوط اتحادضروری

نئی دہلی:پرشانت کشور جو کانگریس کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد بھی اس کے ساتھ نہیں گئے،نے اب اس کے بارے میں اہم تبصرہ کیا ہے۔ پرشانت کشور نے کانگریس کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے لیڈروں کا ماننا ہے کہ عوام خود حکومت کا تختہ الٹ دیں گے اور انہیں اقتدارملے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ کانگریس طویل عرصے سے اقتدار میں ہے اور اسے یہ نہیں معلوم کہ اپوزیشن میں کیسے رہنا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ کانگریس کے لوگوں میں مسئلہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہم نے طویل عرصے تک ملک پر حکومت کی ہے اور جب لوگ ناراض ہوں گے تو حکومت گرائیں گے اور پھر ہم آئیں گے۔ وہ کہتے ہیں آپ کو کیا معلوم، ہم سب جانتے ہیں اورطویل عرصے سے حکومت میں ہیں۔ پرشانت کشور نے انڈین ایکسپریس کے پروگرام ای-اڈا میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی ہے، جو کئی دہائیوں سے اقتدار میں ہے۔ لیکن اسے اپوزیشن میں رہنا سیکھنا ہوگا۔ آپ اس بات سے بچ نہیں سکتے کہ میڈیا ہمیں بالکل کور نہیں کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے اقتدار میں رہنے کی عادت پڑ گئی ہے اور لوگ آج ان کی بات نہیں سن رہے، پھر جھنجھلاہٹ پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ فی الحال کوئی ایک پارٹی بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اس کے لیے انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہاہے کہ 1950 سے 1990 کی دہائی میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ایک پارٹی کانگریس کا مقابلہ نہیں کر پائی تھی۔ اس میں کافی وقت لگا۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگر بی جے پی کو مل کر چیلنج نہیں کیاگیاتو اسے آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ اگر کوئی ایک پارٹی یہ سوچتی ہے کہ وہ بی جے پی کو شکست دے گی تو یہ غلط ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کانگریس 1984 سے مسلسل زوال کے مرحلے میں ہے۔ اس کے بعد سے وہ اپنی سطح پر ایک بار بھی حکومت نہیں بنا سکی۔ 2004 میں کانگریس کی حکومت 145 سیٹوں کے ساتھ بنی تھی۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں مسلسل کمی آئی ہے۔ موجودہ دور میں اپوزیشن کی طاقت کے بارے میں پرشانت کشور نے کہاہے کہ مسائل کی بنیاد پر ایک بڑا طبقہ حکومت کے خلاف نظر آتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپوزیشن اس کا فائدہ اٹھا سکے گی۔