Home قومی خبریں مولانا جلال الدین عمری کی وفات پر تسمیہ آڈیٹوریم جامعہ نگر میں تعزیتی اجلاس

مولانا جلال الدین عمری کی وفات پر تسمیہ آڈیٹوریم جامعہ نگر میں تعزیتی اجلاس

by قندیل

نئی دہلی :گزشتہ شب تسمیہ آڈیٹوریم جامعہ نگر اوکھلا، نئی دہلی (رہائش گاہ ڈاکٹر سید فاروق) میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری کی وفات پر ایک تعزیتی اور دعائیہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےتسمیہ سوسائٹی کے ڈایرکٹر ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ مولانا سید جلال الدین عمری غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے، ان کی تصنیفات سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مولانا کے انتقال سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا بہت مشکل ہے، ایسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ مشہور اسلامی اسکالر اور دانشور پروفیسر اختر الواسع نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا جلال الدین انصر عمری صاحب ہمارے درمیان جسمانی طور پر نہیں ہیں مگر تصنیفی طور پر موجود ہیں جماعت کا کوئی منصب نہیں ہے جو ان کے حصہ میں نہ آیا ہو، ہمارے یہاں کبر سنی سرٹیفکیٹ ہوتی ہے اونچے مقام پر رہنا چاہیے مولانا نے ایک جوان کو اپنا جانشین مقرر کیا، جماعت اسلامی کو خود آگے بڑھایا اور ایسے ہاتھوں میں دیا جو آگے بڑھا سکیں، مولانا نے اسلام کے حوالہ سے تانیثیت پر جو کتابیں لکھی اس کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے، مولانا کا موقف تھا اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں اسے دینا چاہیے، جماعت اسلامی کا قیام ہی اسلام کی تجدید و احیا کے لیے تھا مولانا نے اسے وظیفہ حیات بنا رکھا تھا، مولانا کا نام اور کام باقی رہے گا، زندہ رہے گا ان کا لٹریچر جو تیار ہوا غیر معمولی ہے۔
اس موقع پر بنگلور کے شہرت یافتہ طبیب ونباض حکیم ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی نے کہا کہ مولانا بلند پایہ مصنف اور عظیم مدبر تھے، مولانا نے پچاس کے قریب کتابیں تصنیف کیں،ان کی تصانیف عظیم کارنامہ ہیں، نوجوان نسل کو ان کتابوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ خواجہ شاہد صاحب سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے کہا کہ مولانا بڑی تنظیم کے سربراہ تھے اس کے باجود بہت انکساری اور عاجزی تھی۔ایسی چیزوں میں نہیں پڑنا چاہتے تھے جو ان کے مشن کو متاثر کرے، ایسے اچھے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں اس کمی کا ہمیں شدت سے احساس ہو رہا ہے ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ناس موقع پرانعام الرحمن صاحب جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مولانا بہت اچھے انسان تھے ، لوگوں کے قریب تھے، سبھی کا خیال رکھتے تھے، تحریک اسلامی کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ مولانا سید جلال الدین عمری کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر سید صفی اطہر نے کہا کہ ان کی زندگی مثالی تھی تقوی اور پرہیزگاری کا اہتمام ہمیشہ رہا،سادہ زندگی گزارتے تھے، اسراف سے انہیں سخت نفرت تھی، خود بھی اس پر عمل کرتے اور ہمیں بھی تلقین کرتے تھے، سبھی کے لیے زندگی کا نمونہ چھوڑ گئے. ہم مشعل راہ بنا سکتے ہیں۔

 

رشاد نواسہ مولانا عمری نے کہا کہ نانا کی شخصیت لائق، فائق اور محترم تھی آپ مستجاب الدعوات لوگوں میں سے تھے، دعائیہ وتعزیتی اجلاس میں الہند تعلیم جدید فاؤنڈیشن کے صدر مفتی افروز عالم قاسمی نے دوران نظامت حضرت مولانا مرحوم و مغفور کے اوصاف حمیدہ وخدمات جلیلہ پرخاطرخواہ روشنی ڈالی، اجلاس کا آغاز قاری فضل الرحمن کی تلاوت سے ہوا جبکہ اختتام مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی دعا پر ہوا۔ اس موقع پر عبدالباری قاسمی(مدیر قندیل )،مولانامحمد سلیمان امام وخطیب جامع مسجدجامعہ ملیہ اسلامیہ)ایس ایم آصف(چیف ایڈیٹر ان دنوں’اردو’ھندی’انگلش!تلاوت زی-سلام ٹی وی سےوابستہ مفتی منصوراحمدقاسمی’قاری عبدالقادر (نویڈا)بینگلور سے مولانامنظرالاسلام’حاجی نورمحمد’ڈاکٹر مظفر غزالی(سینیرصحافی وکالم نویس) ‘مولاناراحت مظاہری’سوشل ایڈوایزرشیخ زاھدحسین دھلی’ مولانا محمد خالدندوی’مولاناشمیم اخترند وی’میڈیا سےمربوط شاھدسلام’ذیشان خاں’شمس آغازودیگراھل قلم’معین خاں(اسماع ٹایمس)اوردوسرے معززین شہر موجود رہے۔

You may also like

Leave a Comment