سی ایم کالج میں مولانا مظہرالحق توسیعی خطبے کا انعقاد

دربھنگہ:ساحر ایک ایسا شاعر ہے جو ساری زندگی امن کی بات کرتا رہا۔ ساحر کی شاعری اردو ادب کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا کا بھی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ساحر کی شاعری کو آج پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ آج کے کش مکش بھرے ماحول میں ساحر کی شاعری ہمیں ایک نیا حوصلہ دیتی ہے۔ساحر ایک ایسے معاشرے کی تمنا کرتے تھے جس میں جہالت اور بھوک پیاس نہ ہو۔امن و سکون کا ماحول ہو۔یہ باتیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ندیم احمد نے سی ایم کالج دربھنگہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے منعقدہ پہلے مولانا مظہرالحق توسیعی خطبے میں کہیں۔ انھوں نے ساحر کی انسان دوستی اور ہمدردی پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساحر کے عشق نے انھیں کامیابی عطا کی۔اس توسیعی خطبے میں بطور مہمان خصوصی للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے رجسٹرار اور معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر مشتاق احمد نے شرکت کی۔ انھوں نے ساحر کے حوالے سے اپنی یادیں بھی دوہرائیں اور کہا کہ ساحر کی 1980 میں وفات کے بعد ایک ریڈیو ٹاک میں بھی انھوں نے ساحر کی شاعری پر لکھا تھا۔ ساحر ایک انقلابی شاعر تھے اور انھوں نے ترقی پسند نظریات کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔ساحر کی نظمیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے عورتوں کو کتنی عزت دی ہے اور کتنا احترام دیا ہے۔انھوں نے پرچھائیاں جیسی شہرہ آفاق نظم لکھی جو آج بھی مقبول ہے۔ساحر لدھیانوی ایک ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں امن و شانتی کا پیغام نظر آتا ہے۔توسیعی خطبے کی صدارت کرتے ہوئے سی ایم کالج دربھنگہ کے پرنسپل پروفیسر بشواناتھ جھا نے ساحر لدھیانوی کی ادبی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ سی ایم کالج کے لیے آج کا یہ دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے کالج میں ساحر لدھیانوی کے صد سالہ یوم پیدائش پر اس توسیعی خطبے کا اہتمام کیا گیا ہے۔توسیعی خطبے کے لیے ہمیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت تعلیم سے مالی تعاون بھی ملا ہے، ہم حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اگر ہمیں اسی طرح سے سرکار کا تعاون ملا تو سی ایم کالج میں ہم ایک اردو بھون یا اردو مرکز کا قیام کرنا چاہیں گے جس کے تحت اردو زبان کی تعلیم و تربیت دی جائے اور اردو زبان و ادب کے حوالے سے مزید پیش رفت کی جائے۔سی ایم کالج شاید ملک کا پہلا کالج ہے جہاں ساحر کا صد سالہ یوم پیدائش اس دھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ساحر عوام کے شاعر تھے، انھوں نے ہمیشہ دبے کچلے اور مظلوم لوگوں کی حمایت کی اور اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔اس سے قبل پروگرام کے آغاز میں سی ایم کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ظفر عالم نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ساحر کی شاعری پڑھتے ہوئے کہیں بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا، ساحر کی شاعری ہر انسان کے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے شعبے کا تعارف بھی پیش کیا اور پروفیسر ندیم احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ندیم صاحب اسی کالج کے طالب علم رہے ہیں اورمجھے فخر ہے کہ آج وہ یہاں بطور خطیب موجود ہیں۔ توسیعی خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سی ایم کالج کے استاد ڈاکٹر عبدالحی نے مختصرا مولانا مظہر الحق اور ساحر کی خدمات پر گفتگو کی اور ساحر کے نغموں کے ساتھ ساتھ ان کے تحریر کردہ بھجنوں کا بھی ذکر کیا کہ ساحر کے لکھے بھجن آج بھی مقبول ہیں ۔ساحر بطور رومانی شاعر بھی کامیاب رہے ہیں۔توسیعی خطبہ ڈاکٹر مسرور صغریٰ کے کلمات تشکر پر ختم ہوا۔ اس توسیعی خطبے میں سی ایم کالج کے تمام اساتذہ کے ساتھ ساتھ للت نارائن متھلایونیورسٹی کے سینیٹر اور فائنانس کمیٹی کے ممبر پروفیسر نارائن جھا، شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے صدر پروفیسر آفتاب اشرف، افسانہ نگار انور آفاقی،دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد کاظم، سی ایم بی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر عبدالودود قاسمی،فخرالدین علی احمد ٹیچرس ٹریننگ کالج کے استاد ڈاکٹر ارشد حسین سلفی،ملت کالج کے استاد ڈاکٹر شاہنواز عالم، مانو موڈل اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر مظفر اسلام، شعبہ اردو للت نارائن متھلایونیورسٹی کے استادڈاکٹر مطیع الرحمٰن و ڈاکٹر وصی احمد شمشاد،استادجناب محمد اخلاق احمد، روزنامہ انقلاب دربھنگہ کے بیورو چیف ڈاکٹر احتشام الحق ، ریسرچ اسکالرز،و دیگر عمائدین شہرموجود تھے۔