سی ایم کالج دربھنگہ کے زیر اہتمام’’ اردو زبان وادب کا عصری منظرنامہ اور سوشل میڈیا ‘‘کے موضوع پر یک روزہ قومی ویبینار

دربھنگہ:سوشل میڈیا کے مثبت او ر منفی دونوں پہلو ہیں۔سوشل میڈیا نے جہاں کچھ لوگوں کو مقبول کردیا ہے وہیں کچھ غیر معیاری چیزیں بھی مختلف گروپوں میں گردش کرتی رہتی ہیں۔کسی کے اشعار کسی دوسر ے کے نام سے لوگ بھیجتے رہتے ہیں۔یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا آج سوشل میڈیا واقعتا اتنا مضبوط ہوچکا ہے۔کیا آج غالب اور ٹیگور کو سوشل میڈیا کی ضرورت ہے؟بلکہ یوں کہا جائے کہ آج سوشل میڈیا کو ان کی ضرورت ہے۔یہ باتیں صدر شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر شہزاد انجم نے سی ایم کالج دربھنگہ کے زیر اہتمام ’’ اردو زبان وادب کا عصری منظرنامہ اور سوشل میڈیا ‘‘کے موضوع پر منعقدہ یک روزہ قومی ویبینار کے افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ادب اور میڈیا کا دائرہ الگ الگ ہے۔ہمیں اچھے ادب کی تخلیق پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ ادب تخلیق کرنا ہی سب سے بنیادی کام ہے اور اس کے بعد اس کی تشہیر کی ضرورت ہوتی ہے۔اچھا ادب جب منظرعام پر آئے گا تو اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بھی اچھا لگے گا۔
ویبینار کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ اردو زبان جدید ٹکنالوجی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوارہی ہے۔آج اردو زبان دنیا کے کونے کونے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور سوشل میڈیا میں بھی اردو زبان و ادب نے ممتاز مقام حاصل کرلیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کرونا جیسی وبا نے ہمارے جینے کا انداز تبدیل کردیا ہے اور ہمیں ایک راہ دکھائی کہ ہم ایک دوسرے سے جڑ سکیں اور سوشل میڈیا کی مدد سے اردو زبان و ادب کی خدمت کرسکیں۔ویبینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا ڈیجیٹل ٹکنالوجی نے ہماری زندگی میں انقلاب برپا کردیا ہے اور مجازی علائم ہماری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔یہ صدی امکانات کی صدی ہے اور ہمیں اردو زبان کے حوالے سے کام کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہم سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی قابل ذکر موجودگی درج کرسکیں۔اردو زبان میں گزشتہ ہزار سال کا اعلیٰ ادب موجود ہے۔ریئل اور ورچوئل دنیا کے فرق کو دور کرنے میں ادب ہی ایک سہارا بن سکتا ہے۔انھوں نے اردو رسم الخط کے استعمال پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل سی ایم کالج کے پرنسپل اور معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد نے سبھی مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کی دنیا میں اردو کو مزید فروغ دینے کے لیے اس ویبینار کا اہتمام کیا گیا ہے۔انھوں نے سی ایم کالج کا مختصر تعارف کراے ہوئے کہا کہ یہ کالج 1938 میں قائم ہوا تھا اور یہ شمالی ہند کے آکسفورڈ کے طور پر مقبول رہا ہے۔ آزادی ہند کے متوالوں کا بھی یہ مرکز رہا ہے۔آنجہانی کرپوری ٹھاکر،للت نارائن مشرا، یوگیندر جھا جیسے لوگ اس کالج کے طالب علم رہے تھے۔اردو زبان و ادب کے حوالے سے اگر دیکھیں تو مظہر امام، علقمہ شبلی، منظر شہاب، منظر کاظمی، پروفیسر لطف الرحمان،قمر اعظم ہاشمی جیسے نامور ادیبوں و شاعروں نے کالج کا نام روشن کیا ہے۔کالج کے 27 طالب علموں کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ مل چکا ہے اور17 لوگوں کو پدم شری جیسا باوقار اعزاز حاصل کیا ہے۔شعبہ اردو،سی ایم کالج، دربھنگہ کے پروفیسر سید محمد احتشام الدین نے افتتاحی سیشن میںکلمات تشکر ادا کیے۔
ویبینار کے تکنیکی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے ایل این متھلا یونیورسٹی ،دربھنگہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر آفتاب اشرف نے کہا کہ اردو دنیا کی ممتاز زبانوں میں سے ایک ہے۔جدید برقی وسائل کا استعمال اردو کو مزید فروغ دینے میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ انھوں نے تمام مقالوں پر بھی اظہارخیال کیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ندیم احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج سوشل میڈیا ایک برانڈ سازی ہے اور اس میں بہت زیادہ امکانات ہیں اور ہمیں اس کے مثبت پہلوئوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دہلی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے اردو زبان و ادب پر سوشل میڈیاکے اثرات کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ تقریبا 194 ممالک میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔معروف ادیب و شاعرڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے اپنے مقالے میں کہا کہ سوشل میڈیا نے ایک شخص کو دوسرے سے جوڑا ہے اور رشتوں کو مضبوطی دی ہے۔سوشل میڈیا میں صاف ستھری چیزیں پیش کرنی چاہئے اور اردو رسم الخط کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تب ہی اردو زبان و ادب کو نئی جہت ملے گی۔ڈاکٹر نشاں زیدی نے سوشل میڈیا اور اردو افسانہ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر شاہانہ مریم شان نے اردو زبان کی ترقی اور سوشل میڈیا کے موضوع پر اظہارخیال کیا۔ڈاکٹر محمد ارشد حسین نے بھی ڈیجیٹل ٹکنالوجی اور اردو کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ویبینار کے افتتاحی اجلاس کی نظامت عبدالحی نے کی جبکہ تکنیکی اجلاس کی نظامت کی فرائض ڈاکٹر مسرور صغریٰ نے بحسن و خوبی انجام دیے۔سی ایم کالج دربھنگہ ک شعبہ اردو میں استاد ڈاکٹر نفاست کمالی کے کلمات تشکر سے یہ ویبینار اپنے اختتا م کو پہنچا۔ ویبینار میں گوگل میٹ کے ذریعہ ملک کے مختلف مقامات سے پروفیسر عطاء اللہ سنجری،پروفیسر فیض،ڈاکٹر مطیع الرحمان،ڈاکٹر نور نبی،ڈاکٹر عبدالرافع،ڈاکٹر وسیم رضا،ڈاکٹر جاوید عالم، ڈاکٹر محمدی بیگم،جناب خلیق الزماں خاں،تمیم احمد، ڈاکٹر امان اللہ ایم بی،محترمہ صوفیہ محمود،ڈاکٹر عبدالودود قاسمی، ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی،کامران غنی صبا،ڈاکٹر ابرار اجراوی،عبدالواحد علیگ،فرح معید وغیرہ بھی جڑے رہے ۔ سمینار گوگل میٹ کے توسط سے منعقد ہوا اور تکنیکی تعاون جناب عمران عراقی صاحب نے فراہم کیا۔