کرسٹوفر کولمبس کا خوفِ اسلام-ایلن میخائیل

ترجمہ:محمد ابراہیم خان
کرسٹوفر کولمبس کے بارے میں پہلا اطالوی امریکی ہونے سے لے کر پورے برّاعظم کی سطح پر قتلِ عام کی بنیاد ڈالنے والے شخص کی حیثیت سے جو کچھ لکھا جاچکا ہے، اُس میں ایک اہم نکتہ اکثر غائب پایا گیا ہے۔ یہ کہ بحرِاوقیانوس پار کرنے کی اُس کی مہمّات کی پشت پر بنیادی عامل اسلام سے خوف یا نفرت بھی تھی۔ اس تصور سے صدیوں تک سفید فام یورپی باشندوں کے ’’نئی دنیا‘‘ اور اس کے آبائی یا اصل باشندوں سے معاملات و تعلقات کی طرز بھی متعین ہوئی اور آج امریکی کس طور دنیا کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ کرسٹوفر کولمبس کے ذہن میں اسلام کے حوالے سے پائی جانے والی نفرت اور خوف کو اکتوبر کے دوسرے پیر (یومِ کولمبس، یومِ باشندگانِ اصل یا یومِ ثقافتِ اطالیہ) سے متعلق ہماری طرزِ فکر پر بھی اثر انداز ہونا ہی چاہیے۔
کرسٹوفر کولمبس ۱۴۵۱ء عیسوی میں پیدا ہوا تھا، جب یورپ میں اسلام مخالف ذہنیت عروج پر تھی۔ وہ صلیبی جنگوں کی داستانیں سُنتا ہوا پلا بڑھا اور ساتھ ہی ساتھ اُس نے بچپن میں ۱۴۵۳ء عیسوی میں سلطنتِ عثمانیہ کے ہاتھوں قسطنطنیہ پر قبضے کے نتیجے میں اپنے آبائی قصبے جینووا کے بارے میں بہت کچھ سُنا۔
عنفوانِ شباب میں کولمبس نے ایک ملاح کے زیر تربیت بحیرۂ روم کا رخ کیا۔ ابتدائی چند بحری اسفار کے دوران کولمبس کو بحیرۂ ایجین اور شمالی افریقا کی مسلم ریاستوں میں عثمانیوں کی طاقت کے مشاہدے کا موقع ملا۔ بعد میں اُس نے مغربی افریقا کے ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کیا جہاں خطے کی طاقتور مسلم بادشاہتوں نے اُسے یوں متاثر کیا کہ اسلام ہر طرف تھا اور اُس نے عیسائی دنیا کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ یورپ واپسی پر کولمبس نے بحرِ اوقیانوس کے پار جانے کے سفر پر روانہ ہونے سے چھ ماہ قبل جزیرہ نما آئبیریا کے جنوب میں مسلمانوں کے خلاف اسپین کی لڑائی میں بھی حصہ لیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کولمبس مزاجاً و قلباً صلیبی جنگجو تھا۔ اُس نے زندگی بھر مسلمانوں سے معاملت اور پھر ان کے خلاف لڑائیوں میں اپنی روح کی گہرائی میں مقدس جنگ کا بوجھ محسوس کیا۔ کولمبس نے مسلم دنیا کا چکر کاٹنے سے بچنے کے لیے جب مشرقِ بعید کا بحری تجارتی راستہ تلاش کرنے کا عمومی مشن شروع کرنے کے لیے مغرب کی سمت تُندخو سمندروں کے سفر کی ابتدا کی، تب اُس کا ذہن نہ تو محض کسی دریافت کے خالص دنیوی تصور سے سے مزیّن تھا اور نہ ہی وہ تاجرانہ بصیرت سے کام لے رہا تھا۔ کسی بھی دوسری بات سے کہیں بڑھ کر وہ بھرپور عیسائیت نواز رویے اور جذبے کے ساتھ امریکاؤں کی طرف چلا تھا۔
کولمبس کی زندگی میں اسلام کی مرکزیت اس کے بحرِاوقیانوس کے اسفار کے عجیب و غریب اور اب تک سب سے کم معلوم ہونے والے پہلو کی توضیح کرتا ہے۔ جب کولمبس کیریبین کے جزائر پہنچا تو وہاں ہر طرف اسلام کو پایا۔ مثلاً اس نے مقامی ٹائنوز باشندوں کے ہتھیاروں کو الفنجز کا نام دیا جو ہسپانوی زبان کا لفظ ہے تاہم عربی سے ماخوذ ہے۔ یہ لفظ عربی میں چھوٹی، خمدار تلوار کے لیے استعمال ہوتا ہے جس پر قرآن کی آیات کندہ ہوتی تھیں۔ کولمبس نے خود بتایا کہ ٹائنوز کے پاس لوہا نہ تھا اور وہ قرآن کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے تھے مگر وہ پھر بھی اُنہیں مسلم سپاہیوں جیسا قرار دیتا ہے، جنہوں نے الفنجز تھامی ہوئی ہوتی تھیں اور یوں اُس نے ٹائنوز کو اپنے ذہن میں مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے تصّورات سے مطابقت رکھنے والے درجے میں رکھا اور اسی حیثیت میں اپنے ممکنہ قارئین کے لیے پیش کیا۔
بعد میں جب کولمبس نے مقامی خواتین کے ایک گروپ کو اسکارف لگائے ہوئے دیکھا تو یہ خیال کیا کہ وہ شاید تجارت یا پھر کسی اور نوعیت کے یوریشیائی رابطے کے ذریعے اُن سے تعلق رکھتی تھیں جو اُس کی معلومات کے مطابق مورز کہلاتے تھے۔ اسلام اور امریکا کے آبائی باشندوں کے درمیان اس نوعیت کی مماثلتیں جاری رہیں۔ کولمبس کے دو عشروں کے بعد ہرنن کورٹیز نے بھی لکھا کہ میکسیکو کے ایزٹیک باشندے مسلمانوں والی دستار باندھتے تھے اور ان کی خواتین مورش (مسلم) خواتین جیسی دکھائی دیتی تھیں۔ ہرنن کورٹیز نے دعویٰ کیا کہ اُس نے جو علاقہ (آج کل میکسیکو) پانچ سو سال قبل فتح کیا تھا، اُس میں چار سو سے زائد مساجد تھیں اور اُس نے وہاں کے قائد مونتیزوما کو ’’سلطان‘‘ کے نام سے پکارا۔
سوال یہ ہے کہ اس پیچیدہ نکتے کی توضیح کیا ہوسکتی ہے؟
اس کا جواب کولمبس کی (اور یورپ کی) اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں کی طویل تاریخ میں ہے۔ صدیوں کے دوران لڑی جانے والی مذہبی جنگوں کے علاوہ عثمانیوں اور دیگر مسلمانوں کی ۱۴۵۳ء کے بعد یورپ کے متعدد علاقوں میں پیش رفت نے کولمبس، کورٹیز اور دیگر ہزاروں یورپی عیسائیوں کے ذہنوں میں اسلام کو ایک دشمن کے طور پر پروان چڑھایا، جنہوں نے پرانی دنیا میں مسلمانوں اور نئی دنیا میں امریکی انڈینز سے جنگیں لڑیں۔ ان تمام لوگوں نے پوری زندگی یہی سیکھا کہ مسلمان اُن کے سخت ترین دشمن ہیں۔ ان کے ذہنوں کی آنکھ میں دشمن کا تصور ایک غیر سفید فام مسلم کے طور پر ابھرا۔ یورپی باشندوں نے امریکاؤں میں اپنے نئے دشمنوں کو یعنی مقامی باشندوں کو اِسی تصور اور تاثر کے ساتھ دیکھا اور برتا۔ یورپی باشندوں نے مسلمانوں اور مقامی امریکیوں کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھا۔ آج یہ سب کچھ محض خواب و خیال کا معاملہ لگتا ہے۔
یہ، بہت حد تک بُھلائی ہوئی تاریخ کسی طور نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ اسلام مخالف زاویۂ نظر نے وہ سانچا تیار کیا، جس میں یورپی باشندوں نے امریکا کی نسلوں اور ثقافتوں کو سمجھا اور مغربی نصف کُرّے میں آلاتِ حرب کا تصور بھی اِنہی تصورات سے جُڑا ہوا ہے۔ اب شمالی و جنوبی امریکا کی تاریخ کا (اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس کے ساتھ، امریکا کے مقامی باشندوں کی تاریخ کا) حقیقی فہم یقینی بنانے کے عمل میں مسلمانوں سے متعلق کولمبس اور دیگر متقدمین کی سوچ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یورپی اور سفید فام امریکی باشندوں نے صلیبی جنگوں کا سا ذہنی رجحان امریکا کی مقامی آبادیوں کے حوالے سے بھی مقدم رکھا اور جنگ کے اس راستے میں اُن کے تصورات اور اصطلاحات بھی اپنائیں۔ یہی سبب ہے کہ امریکیوں نے افغانستان پر اپاچی اور کایووا ہیلی کاپٹر اڑائے، امریکی بحریہ نے شام میں اہداف پر ٹوما ہاک میزائل برسائے اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے جیرونیمو کے خفیہ نام سے کی جانے والی چھاپہ مار کارروائی میں نیوی سیلز کو لانے، لے جانے کے لیے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بروئے کار لائے گئے۔
ان ناموں اور ان جنگوں میں ایک تاریخ چھپی اور بسی ہوئی ہے، جو کولمبس تک جاتی ہے۔ بظاہر الگ تھلگ پڑی ہوئی ان ثقافتوں کی تاریخ کا فہم، ماضی کی تفہیم اور نئی یکجہتی، اجتماعی فکر و عمل کی بنیاد ڈالنے کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

مضمون نگار ییل یونیورسٹی، امریکہ میں شعبۂ تاریخ کے سربراہ اور God`s Shadow – Sultan Selim, His Ottoman Empire, and the Making of the Modern World کے مصنف ہیں۔
(بہ شکریہ معارف فیچر)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*