ہریانہ کی "چھوٹی” عدالت کا بڑا فیصلہ ـ ایم ودود ساجد

ہریانہ کے گڑگاؤں (گروگرام) کی ایک مقامی عدالت نے 19سالہ نفرت کے پجاری رام بھگت گوپال کو ضمانت دینے سے انکار کردیاہے۔ضمانت کی درخواست کو مسترد کردینا کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں ہے۔ قانونی دنیا میں جس طرح ضمانت کا ملنا کوئی اہم بات نہیں ہے اسی طرح ضمانت کا نہ ملنا بھی کوئی اہم بات نہیں ہے۔ اہمیت ان دلائل اور مشاہدات کی ہوتی ہے جو ضمانت دینے یا مسترد کرنے کے وقت عدالت پیش کرتی ہے۔ گروگرام کی عدالت نے بھی آج کچھ بہت ہی اہم دلائل اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے اس شرپسند کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

یہاں گروگرام پولیس کے ذیعے تیار کردہ ایف آئی آر اور ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ایس پی گوٹھوال اورتفتیشی افسر سب انسپکٹر رام نواس کی تعریف نہ کرنا سخت ناانصافی ہوگی۔ پولیس‘ سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر نے ملزم کے خلاف عدالت میں بہت مضبوطی کے ساتھ دلائل رکھے اور بہت سی قابلِ ذکر بنیادوں پر اس کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ (یونیورسٹی) کے باہر سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر جس شر پسند نے پولیس کی موجودگی میں دونوں ہاتھوں سے پستول پکڑ کر گولی چلائی تھی یہ اسی کا واقعہ ہے۔۔ جب اس نے گولی چلائی تھی تو پولیس نے اسے 17 سال کا نابالغ قرار دیدیا تھا اور اسے ضمانت مل گئی تھی۔ پچھلے دنوں اس نے گروگرام کے گاؤں پٹودی میں ایک پنچایت میں بی جے پی کے شرپسند ترجمان ’امو‘ کی موجودگی میں انتہائی اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔اس کے خلاف گروگرام پولیس نے ایک شکایت درج کرکے اسے گرفتار کرلیا تھا۔۔ آج عدالت میں اس نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔

جج نے ملزم گوپال شرما کے خلاف ایف آئی آر کے مشمولات اور خود اس کے اشتعال انگیز نعروں کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہے کہ لوگوں کا ایک مجمع موجود تھا‘ جہاں ملزم گوپال شرما نے ایک منافرت انگیز تقریر کی‘ بھڑکانے والی زبان استعمال کی اورمذہب کے نام پر ایک خاص مذہبی کمیونٹی کے افراد کو قتل کرنے کے نعرے لگائے۔جج نے کہا کہ اصل واقعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کو دیکھ کر عدالت کے ضمیرکو بڑا سخت دھچکا لگا۔

جج نے کہا کہ ملزم کا عمل یعنی ایک خاص مذہبی کمیونٹی کی لڑکیوں کے اغوا اور اس کمیونٹی کے افراد کو قتل کرنے پر لوگوں کو اکسانے کا عمل بجائے خود ایک قسم کا تشدد ہے اور ایسے لوگ اور ایسی منافرت انگیز تقریریں حقیقی جمہوری روح کے فروغ میں ایک روکاوٹ ہیں۔ اس کے ایسے گھناؤنے جرم کے باوجود جو پُر امن معاشرہ کو مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہو‘ ضمانت پر رہا کرنا معاشرہ کو تقسیم کرنے والی فورسز کو ایک غلط پیغام دینا ہوگا۔

عدالت نے کہا کہ جب ہمارا آئین غیر ہندوستانی شہریوں تک کو تحفظ فراہم کرتا ہے تو یہ ریاست اور عدالت دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مذہب یا ذات پات کے لوگوں کو عدم تحفظ کا احساس نہ ہو اوریہ کہ ایسے نفرت کے پجاری کسی خوف کے بغیر آزادانہ طور پر گھومتے نہ پھریں۔ عدالت نے کہا کہ وقت کی ضرورت رواداری کی ہے نہ کہ عدم تحمل کی۔عدالت نے زور دے کر کہا کہ ایسے لوگ کورونا کی وبا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔کیونکہ یہ وبا کسی کا مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ ایک فرد کی غفلت کے سبب اسے نقصان پہنچائے گی لیکن اگر ایسی منافرت بھری تقریروں کے سبب کوئی فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑتا ہے تواس سے بہت سی بے قصور زندگیاں تباہ ہوجائیں گی۔

عدالت نے کہا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ملزم کے مبینہ جرائم اپنی اثر آفرینی کے اعتبار سے بہت سنگین اور شدید ہیں اوریہ کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے نتائج بہت زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں اور ان سے فرقہ وارانہ تشدد پھیل سکتا ہے ملزم کو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ گروگرام کی پٹودی عدالت کے جج (جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس) محمد صغیر نے 25 صفحات پر مشتمل اپنے مشاہدات کا اختتام کرتے ہوئے لکھا: اس مرحلہ پرملزم کی شخصی آزادی کے حقوق کوپر امن معاشرہ کی فرقہ ورانہ یکجہتی کے حقوق پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ توازن موخر الذکر کے حق میں ہی جاتا ہے۔