چراغ پاسوان نے لوک سبھااسپیکرکوخط لکھا، پارس کو پارلیمانی بورڈکالیڈر تسلیم کرنے کی مخالفت کی

نئی دہلی: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے رہنما چراغ پاسوان نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم بریلا کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے اپنے چچا پشوپتی کمار پارس کو لوک سبھا میں پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ پاسوان نے منگل کے روز لکھے گئے خط کے ذریعے برلاکویہ بھی بتایاہے کہ ان کے زیر صدارت پارٹی نے پارس سمیت پانچ ممبران پارلیمنٹ کوایل جے پی سے خارج کردیا ہے جو ان کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور ایوان میں ایل جے پی کے رہنما کے طور پر ان کو تسلیم کرتے ہوئے ایک نیاسرکلر جاری کریں۔بہارکے جموئی سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا ممبر پاسوان نے کہا ہے کہ ایل جے پی کے آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت ، مرکزی پارلیمانی بورڈ کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ لوک سبھا میں پارٹی کا قائد کون ہوگا۔ ایسی صورتحال میں پشوپتی کمار پارس کو لوک سبھا میں ایل جے پی کا رہنما قرار دینے کا فیصلہ ہماری پارٹی کے آئین کی فراہمی کے منافی ہے۔حال ہی میں ایل جے پی کے چھ میں سے پانچ ارکان اسمبلی نے چراغ پاسوان کی بجائے پارس کو اپنا قائد منتخب کیا۔ اب یہ دونوں گروہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا گروپ اصلی ایل جے پی ہے۔ چراغ پاسوان کی سربراہی میں ہونے والی اس گروپ کی میٹنگ نے پاراس سمیت پانچ ممبران پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکالنے کا دعویٰ کیاہے جب کہ پارس کی سربراہی میں گروپ نے چراغ کو صدر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔