چراغ پاسوان کوراجداورکانگریس کاآفر

پٹنہ:بہارمیں ایک بار پھر سیاسی حرارت شدت اختیار کررہی ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) میں بغاوت کے بعد قومی صدر اور ممبر پارلیمنٹ چراغ پاسوان الگ تھلگ ہوگئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اب اپوزیشن جماعتوں نے چراغ پاسوان کوپیش کش شروع کردی ہے۔ کانگریس ہو یا راشٹریہ جنتا دل ، ہر کوئی چراغ کو ان سے جوڑنے کی بات کر رہاہے۔چراغ پاسوان کو راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کی طرف سے ایک پیش کش موصول ہوئی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کریں اور اپوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے اکٹھے ہوں۔راشٹریہ جنتا دل کے ایم ایل اے بھائی بیریندر نے کہا ہے کہ بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ، یہ بالکل سازگار ہے کہ چراغ پاسوان اور تیجسوی یادو مل کر ہاتھ ملا لیں۔ بھائی بیریندر نے کہاہے کہ چراغ پاسوان کو تیجسوی یادوکوبہارکے وزیراعلیٰ بننے میں مدد کرنی چاہیے اورانہیں پارٹی کی دہلی کی سیاست کو سنبھالنا چاہیے۔بھائی وریندر نے کہاہے کہ عام لوگوں کا مطالبہ ہے کہ لوک جن شکتی پارٹی میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بعد دونوں نوجوان قائدین چراغ پاسوان اور تیجسوی یادوکواکٹھا ہونا چاہیے۔چراغ پاسوان کو تیجسوی یادوکووزیراعلیٰ بنانے میں ان کی مددکرنی چاہیے۔ انہیں خود قومی سیاست سنبھالنی چاہیے۔