چراغ پاسوان کے جارحانہ رویے کے پس پشت کون ہے؟ بی جے پی نے ’پرشانت کشورکنکشن‘ نکالا

پٹنہ:چراغ پاسوان بہار اسمبلی انتخابات میں حکمراں این ڈی اے اتحادکے لیے پریشانی کاباعث بن گئے ہیں۔ بی جے پی اورجدیومیں اس معاملے پررسہ کشی چل رہی ہے ۔ایسی صورتحال میں ، نقصان پرقابوپانے میں مصروف بی جے پی کے تھنک ٹینک کاخیال ہے کہ ان سب کے پیچھے پرشانت کشورکا ہاتھ ہے۔انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور کاپچھلے انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور نتیش کمار کی انتخابی کامیابی میں بڑا ہاتھ سمجھا جاتاہے ، جے ڈی یو یہ ماننے کوتیارنہیں ہے کہ چراغ پاسوان بی جے پی لیڈران کے’’آشیرواد‘‘کے بغیر یہ کام کرسکتے ہیں۔ چراغ نے اپنے والد اور ایل جے پی کے سینئر لیڈر رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد حوصلہ افزائی اور تعاون کے لیے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی کا شکریہ اداکیاہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ٹویٹ میں بہار میں این ڈی اے کے چیف منسٹر کے چہرے نتیش کمار کا ذکر نہیں ہے۔ بہار کے بی جے پی لیڈروں کو عوامی طور پر چراغ پاسوان کو نہیں بلانے پر ان کی اتحادی جے ڈی یوکی تنقید سننی ہوگی۔ جبکہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ پرشانت کشور اس معاملے پر چراغ کو صلاح دے رہے ہیں۔ وہ چراغ پاسوان کے اب تک اٹھائے گئے اقدامات میں پی کے (پرشانت کشور) کی امپرنٹ دیکھ رہے ہیں۔اگرچہ پرشانت کشور اپنی آبائی ریاست بہار میں نہیں ہیں ، لیکن بی جے پی کے لیڈران جیسے سشیل مودی کا ماننا ہے کہ چراغ پاسوان نتیش کمار کی پریشانیوں کوبڑھانے کے لیے ان کے مشورے پر عمل پیرا ہیں۔ سی ایم نتیش کمارنے پرشانت کشور کو جے ڈی یو میں شامل کیاتھا لیکن بعدمیں پرشانت کشورکے عوامی سطح پر مختلف امورپر نشانہ بنانے کے بعد انہیں ہٹادیا گیا تھا۔