چین، کورونا اور ملعون اینکر: مسلمان کیا کریں؟ ایم ودود ساجد

 

چھوٹے چھوٹے تین موضوعات سامنے ہیں ۔ تینوں ہی اہم معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن آج دو موضوعات پر پر گفتگو کرتے ہیں ۔

 

1- ملک کا سب سے اہم مسئلہ داخلی سطح پر کورونا سے نپٹنے کا ہے۔ مرکزی حکومت اس سے نپٹنے میں مجرمانہ طور پر ناکام رہی ہے۔

 

2- دوسرا بڑا مسئلہ داخلی اور خارجی سطح پر چین سے نپٹنے کا ہے۔بظاہر حکومت اس میں بھی پُر اسرار طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

 

(الف) پہلے مسئلہ پر شہریوں کے طور پر ہماری جو ذمہ داری تھی اس میں "ہم” نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ ہمارے گلی کوچے اس کے شاہد ہیں ۔ عید سے زیادہ ہجوم اس وقت نظر آرہا ہے۔

 

جب بجا طور پر مسجدوں تک نمازیوں کی رسائی احتیاطی تدابیر کے تحت دوبارہ محدود کردی گئی ہے ہمارے علاقوں میں حد سے زیادہ بد احتیاط بھیڑ کا جواز ناقابل فہم ہے۔

 

دہلی میں حالات بہت خراب ہیں؛ لیکن ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔عید کو گزرے 23 دن ہوگئے لیکن ہم اب بھی عید ملتے پھر رہے ہیں۔ میرے کئی شناسا اب ہسپتالوں اور کورنٹائن میں ہیں ۔

 

(ب) یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ قومی سطح پر اہم موضوعات سے توجہ ہٹانے کے لئے چینلوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور چینل اس کیلئے مسلمانوں کا استعمال کرتے ہیں ۔

 

ایک ملعون اینکر کے ذریعے سلطان المشائخ حضرت معین الدین چشتی کی شان میں ناقابل بیان گستاخی اسی کا حصہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب سرحد پر چین نے ہمارے درجنوں جوان اور افسروں کو پیٹ پیٹ کر (Mob lynching) ہلاک کردیا ہے’ اور کورونا نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے ‘ چینلوں پر مسلمانوں کے یہ "نمائندے” دوسرے غیر متعلق اشوز پر بحث کرنے جاتے ہی کیوں ہیں؟

 

اب مسلمان کیا کریں؟

1- چین پر جاری تنازع پر کچھ نہ بولیں ۔یہ مسئلہ ملکی سلامتی کا ہے جس سے نپٹنا حکومت کا کام ہے۔ ہمیں اس ضمن میں صرف یہ کہنا ہے کہ ہم ملکی سلامتی کے معاملے میں حکومت کے ساتھ ہیں ۔ اس مسئلہ پر خارجی امور کے ماہرین ہی بحث میں حصہ لیں ۔ علماتو چینلوں پر ہرگز نہ جائیں ۔

2- ملعون اینکر امیش دیوگن کی شرپسندانہ گستاخی پر شور وہنگامہ کی بجائے صرف دو کام کریں ۔

(الف) علاقائی سطح پر ممتاز شہریوں کے مختصر وفود ضلع حکام اور وزیروں کو مختصر مگر سخت الفاظ پر مشتمل میمورنڈم دیں ۔

(ب) مقامی پولیس تھانوں میں وکیلوں کی مدد سے جامع طور پر لکھی ہوئی مضبوط ایف آئی آر درج کرائیں ۔

یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ارنب گوسوامی کا معاملہ سیاسی تھا جس پر سپریم کورٹ نے اسے جزوی راحت دیتے ہوئے دو ایف آئی آر کے علاوہ باقی تمام ایف آئی آر کو کالعدم کرکے اگلی تمام ممکنہ ایف آئی آر پر روک لگادی تھی۔

زیر نظر مسئلہ مذہبی اور عقیدت سے وابستہ ہے۔جہاں ہر ذی حس مسلمان کو اور بالواسطہ طور پر اسلام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اور یہ سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ اولین اوریجنل ایف آئی آر کا بنیادی قانونی اور آئینی حق سپریم کورٹ بھی نہیں چھین سکتی۔ جیسا کہ ارنب گوسوامی کے معاملے میں بھی ہوا۔

اس سلسلے میں ممبئی کی رضا اکیڈمی قابل ستائش ہے کہ اس نے بڑی سرعت کے ساتھ حکام کو میمورنڈم دے کر انہیں صورتحال کی سنگینی سے واقف کرایا۔ ایک دو جگہ ایف آئی آر بھی کرادی گئی ہے ۔

خدا کیلئے اس مسئلہ پر اب نہ چینلوں پر جائیں اور نہ ہی کوئی مظاہرہ کریں ۔ایسا کرنے سے شرپسندوں کا مقصد پورا ہوجائے گا۔اور ہاں اس ملعون اینکر کے کسی بھی پروگرام میں تو اب کبھی نہ جائیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)