چین سے نہ دوستی اچھّی اور نہ دشمنی-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

خدا خدا کرکے چین کے مسئلے پر کُل جماعتی نشست ہوئی اور وزیرِ اعظم نے سب کی باتیں سنیں مگر حکومت کی طرف سے جو وضاحتیں پیش ہوئیں ، وہ ہر جہت سے ناکافی ہیں اور اس بات کا ہمیں یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت ِ ہند کو مزید صراحتیں کرنی پڑیں گی۔ درجنوں سوالات ہیں جن کے شافی جواب کے بغیر موجودہ مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ کئی نئے مسائل تو حکومتِ ہند اور وزیرِ اعظم کے جواب سے پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کے سلسلے سے تشنہ امور پر بیانات جلد ہی سامنے آئیں گے ورنہ عوام و خواص کے دلوں میں اعتماد قائم نہیں ہو سکے گا۔
چین کے عہدِ جدید کے سب سے بڑے ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار لوٗشن ہیں جن کی نظم ’’سچ اور جھوٹ کے بیچ‘‘ عنوان سے موجود ہے۔وزیرِ اعظم اور حکومتِ ہند کے بیانات ملاحظہ کرتے ہوئے اس چینی شاعر کی ہمیں خوب خوب یادآئی۔ زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جب نہ سچ کے لیے مکمل گنجائش ہوتی ہے اور نہ جھوٹ کے لیے ۔ ایسے موقعے سے اس نظم میں شاعر یہ مشورہ دیتا ہے کہ تم سچ اور جھوٹ کے بیچ کی گفتگو کرو۔ وزیرِ اعظمِ ہند کی چین اور چین کے وزیرِ اعظم اور صدر کے تعلّق سے ہم نے گذشتہ برسوں میں کئی تقریریں سُنی ہیں۔ان کی تحقیق اور والہانہ کیفیت پہ قربان جائیے۔ اس لیے ہمیں توقّع ہے کہ وزیرِ اعظمِ ہند نے لوٗشن کی وہ نظم پڑھی ہوگی ورنہ اُن کی کُل جماعتی نشست کے بعد قوم کے نا م خطاب میں ایسی بلاغت کہاں سے پیدا ہوتی؟
ممتاز صحافی پربھاش جوشی نے اب سے بیس پچیس برس قبل اپنے ایک کالم میں چین کی جنگ کے موقعے سے اُس زمانے کے انڈین اکسپریس کے ایڈیٹر ایس۔ملگائونگر کو یاد کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ملگائونگر نے خصوصی اداریہ لکھتے ہوئے جواہر لال نہرو کو بے وقوف کہا اور لکھا کہ وزیرِ اعظم کوک ملک کے نازک مسئلے پر اپنے صحافیوں سے مشورہ کرنے کی فرصت نہیں ۔ پربھاش جی نے لکھا تھا کہ ہم سب نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صبح ہوتے ہوتے ایڈیٹر صاحب جیل بھیج دیے جائیں گے مگر سب کے لیے حیرت کا یہ مقام تھا کہ وزیرِ اعظم نے ہندستان کے چنندہ آٹھ صحافیوں کو بلاوا بھیجا اور اس نے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں ابھی کیا کرنا چاہیے۔ اس نشست میں بی ۔جی۔برگیس بھی موجود تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اگلے روز سے ہندستانی فوج آگے بڑھنے لگی اور چین کی سبقت پر روک لگی۔
یہ درست ہے کہ ۱۹۶۲ء اور ۲۰۲۰ء کے ہندستان ، اس کی فوجی قوّت اور حکومت کے انداز و اطوار میں بہت فرق ہے مگر اب معکوسی رویہّ سامنے آ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق جب چین نے ایک انچ زمین میں مداخلت نہیں کی ہے تو آخر بیس فوجیوں کی لاشیں کیسے سامنے آگئیں اور دس فوجی بندھک کیوں بنا لیے گئے ۔ ڈیڑھ مہینے سے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اپنے ذرائع سے چین کے ہندستانی علاقے میں بہ تدریج داخلے کی بات کہہ رہے تھے مگر اس کے انکار کے علاوہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع کے پاس کوئی بیان نہیں تھا۔ اگر سرحد پر کچھ ہُوا ہی نہیں تو کُل جماعتی نشست بُلانے کی ضرورت کیوں پڑی اور حزبِ اختلاف کی باتوں کو اس سلیقے اور سنجیدگی سے کیوں کر سُنا گیا؟
چند اخبارات اور ٹی۔ وی چینل کے افراد ہندستانی فوج، لداخی عوام اور ماہرینِ دفاع کے بیانات کئی ہفتوں سے شائع کر رہے ہیں جن میں ہندستان -چین کے سرحدی تنازعے اور چین کی فو ج کی دراندازی کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ حدتو یہ ہے کہ سٹیلائٹ تصویروں سے بھی اس بات کے ثبوت مل رہے ہیں کہ ہندستانی خطّے میں چین کی فوج کی سرگرمیاں جاری ہیں مگر حکومت نے اب تک ان امور کو سنجیدگی سے بر سرِ عام قبول نہیں کیا۔ اس کے برعکس بڑے نپے تُلے انداز میں رُک رُک کر محدود حقائق کو بھی قبول کرنے میں پیش قدمی نہیں ہوئی۔ لوگ اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ سرحد کے معاملات میںہندستان کے الگ الگ پڑوسیوں سے الگ الگ انداز کی ترجیحات ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے سفارتی سطح پر امتحانات شروع ہو رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی پہلی مدّتِ کار میں ملکوں ملکوں کی جو سَیرکی، اس سے انھیں خارجہ پالیسی کو نئے سِرے سے بنانے اور سنوارنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اُن کے پاس ناگ پوری فلسفہ موجود تھا جس کے تحت پاکستان سے نفرت پیدا کرکے ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے جس سے ووٹ حاصل ہو سکے۔ ہنداسرائیل تعلّقات میں جو قُربت پیدا ہوئی ہے، اس کا رشتہ بھی اسی فلسفے سے تھا۔ مگر حکومت کا اناڑی پن پہلے دن سے ہی چین کے معاملے میں بھی ظاہر ہو گیا۔ ان چھے برسوں میں ہند چین سفارتی رشتوں میں ہندستان ایک لمحے کے لیے بھی فائدے میں نہیں رہا۔
جب آپ کو معلوم ہے کہ ایشیا میں دفاع اور معیشت میں چین کی برتری ثابت ہے تو پھر اُس سے اِس قَدر دوستی کس لیے ظاہر کی گئی؟ یہ بھی ایک کھُلی ہوئی حقیقت ہے کہ نریندر مودی ہندستان کو دفاعی صلاحیت اور معیشت کے معاملے میں امریکہ کے بعد مقام دلانا چاہتے ہیں۔ بھلے یہ بات سیاسی نعرہ ہو مگر ایسی صورت میں چین کو گذشتہ چھے برسوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کاروبار کی سطح پر ایسی کھُلی چھوٗٹ دے رکھی ہے کہ اَب بہت سارے کاموں میں ہم چین کے محکوم اور غلام بنتے چلے گئے۔ بڑی خاموشی سے دوا سے لے کر سائیکل اور موٹر کار اور انفرا اسٹرکچر کے میدانوں میں چین پر رفتہ رفتہ ہندستان منحصر ہونے لگا۔
آج عوام کے ایک طبقے میں چین کے لیے شدید غصّہ ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے سے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے پیغامات بھی دینے شروع کر دیے ہیں مگر حکومت خاموش ہے۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ گذشتہ چھے برسوں میں چین کو ہندستان میں کاروبار کے لیے اتنے مواقع عطا کر دیے گئے ہیں کہ انھیں ایک جھٹکے میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے دوسری بین الاقوامی کمپنیوں سے رشتوں میں بھی ناچاقی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ الکٹرانک شعبے میں چین نے جس بڑے پیمانے پر ہندستانی بازار میں قبضہ جمایا ہے، اس کا فی الوقت کوئی متبادل بھی نظر نہیں آتا۔ صرف ایک موبائل فون کی بات کریں تو ایک تہائی ہندستانیوں کے ہاتھ میں چینی موبائل ہی ہیں۔ ادویات، کھلونوں سے لے کر جا نمازوں تک –ہر جگہ چین ہی چین ہے۔
کورونا متاثرہ دنیا میں ابھی ہر مُلک اپنی معیشت کو سنبھالنے میں لگا ہوا ہے۔ ہر چند یہ وبا چین سے دنیا میں پھیلی مگر اس نے اِسے سب سے پہلے سنبھالنے میں کامیابی پائی اور جلد از جلد اُس نے اپنی معیشت کو پٹری پر لا دیا۔اُس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ بار بار ڈونالڈ ٹرمپ کی ہنگامہ آرائیوں کے باوجود اُس نے کسی کی ایک نہ سُنی۔ امریکہ بھی چینی مصنوعات کی وجہ سے بائیکاٹ کا پیغام نہیں دے سکتا ورنہ دوا اور کئی دوسرے سیکٹر میں امریکہ چین کے بغیر جیتے جی مارا جائے گا۔ ایسی صورتِ حال میں ہندستانی حکومت کو بھی پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہوں گے۔ چینی کمپنیوں کے کاروبار کو رفتہ رفتہ کم کرنا ہوگا اور اس کے مقابلے قومی اداروں کو میدان میں اُتارنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم کے نعرے ’لوکل‘ کا بھی اس طَور پر بھَرم قائم رہ جائے گا۔ چین کو ہندستانی بازار سے ہٹائے بغیر ہم اس سے کسی بھی پہلو سے مقابلے کی سوچ بھی نہیں سکتے۔
اسی لیے ہندستانی حکومت اور وزیرِ اعظم کے بیانات نپے تُلے اور خالص سیاسی نظر آتے ہیں۔ داخلی معاملات میں غلط بیانی اور طرح طرح کی چالاکیوں سے ہماری حکومت بہت کچھ کر ہی لیتی ہے مگر جب معاملہ دفاع اور ملک کی سرحد کا ہو تو بغیر کسی توّقف کے حقائق سامنے آئیں تو بہتر ہوگا۔چین حقیقی طور پر عالمی طاقت ہے اور ہندستان ابھی اس کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس لیے اچھا ہوگا کہ ہندچین رِشتے میں ایک ہم واری پید اہو جائے۔ نیپال اور پاکستان سے تو مُلک الجھتا ہی رہے گا مگر یہی حالت چین کے ساتھ ہو گئی تو ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔کورونا نے یوں بھی ہندستانی معیشت کی قلعی اُتار دی ہے، اب بیماریوں سے لڑنے میں ہماری پسپائی سامنے آ رہی ہے؛ ایسے میں چین سے آر پار کا مقابلہ غیر ضروری اور آگ سے کھیلنے جیسا ہوگا۔ ابھی ہندستان کو توازن اور احتیاط کی راہ پر ہی قائم رہنا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*