چین سے مذاکرات پرسبرامنیم سوامی کو اعتراض

نئی دہلی:لداخ میں ایل اے سی کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ گذشتہ رات لداخ میں چینی فوج کی طرف سے فائرنگ کی اطلاع ملی تھی۔ ایسی کشیدہ صورتحال کے درمیان بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے سوال کیا ہے کہ ہم چین سے بات کیوں کررہے ہیں؟ در حقیقت وزیر خارجہ جے شنکر کی ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر 10 ستمبر کو وانگ سے ملاقات متوقع ہے۔سوامی نے ٹویٹ میں لکھاکہ وزیر خارجہ جے شنکر کو ماسکو میں اپنے چینی ہم منصب سے کیوں ملنا ہے؟ خاص طور پر وزیر دفاع سے ملاقات کے بعد؟ 5 مئی 2020 کے بعد سے ہندوستان کو چین کے ساتھ خارجہ پالیسی کے بارے میں کوئی تنازعہ حل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو وزیر خارجہ سے اپنا دورہ منسوخ کرنے کے لیے کہنا چاہیے،یہ ہمارے عزم کو کم کرتا ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ماسکو میں ممکنہ مذاکرات سے قبل پیر کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ چین کے ساتھ سرحد کی صورتحال کو پڑوسی ملک کے ساتھ مجموعی تعلقات کی حالت سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔ وزیر خارجہ نے مشرقی لداخ کی صورتحال کوانتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں دونوں فریقوں کے مابین سیاسی سطح پر تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔ دراصل مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون کو ہونے والے تصادم میں 20 ہندوستانی فوجی جوانوں کے شہید ہونے کے بعد لائن آف ایکچول کنٹرول پر کشیدگی کافی حد تک بڑھ گئی تھی۔ چینی فوجی بھی ہلاک ہوئے لیکن ہمسایہ ملک نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ امریکی انٹلیجنس کی رپورٹ کے مطابق 35 چینی فوج کے جوان بھی مارے گئے۔