چین نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی شراکت داری میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

برسلز:یورپی یونین کے اعداد و شمار کی ایجنسی یورو اسٹیٹ کے مطابق چین نے گزشتہ برس یورپی یونین کے ساتھ تجارتی شراکت داری میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ چین اور ای یو بلاک کے درمیان درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔یورپی اعداد و شمار کی ایجنسی یورو اسٹیٹ کے مطابق سن 2020 کے دوران چین کی جانب سے یورپی بلاک کے ساتھ امریکا کے مقابلے میں زیادہ تجارت کی گئی۔ دریں اثناء برطانیہ ای یو سے علیحدگی کے بعد یورپی یونین کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ملک رہا۔ یورو اسٹیٹ نے یہ تازہ اعداد و شمار پیر پندرہ فروری کو جاری کیے۔چین کو امریکا سے تجارت میں سبقت گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران کورونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے بعد حاصل ہوئی تاہم اسی سال کے آخر میں چینی معیشت سنبھلنے کے باعث ملکی کھپت میں ماضی کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے یورپی مصنوعات کے فروخت میں مدد ملی، خاص طور پر آٹوموبائل اور لگژری مصنوعات کے شعبوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ادھر یورپ میں طبی سازوسامان اور الیکٹرانکس کی مانگ میں زبردست اضافے کے نتیجے میں چین کو فائدہ حاصل ہوا۔یورپی یونین کا چین کے ساتھ تجارتی حجم 2020کے دوران 586 ارب یورو تک پہنچ گیا۔علاوہ ازیں یورپی بلاک اور چین کے مابین طویل مذاکرات کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ یورپی کمپنیوں کو چینی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔یورو اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے دوران ای یو کا چین کے ساتھ تجارتی حجم 586 ارب یورو (711 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا، جبکہ امریکا کے ساتھ 555 ارب یورو (673 ارب امریکی ڈالر) کی تجارت کی گئی۔اعداد و شمار کی یورپی ایجنسی نے بتایا کہ یورپی یونین کی بر آمدات 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 202.5 ارب یورو تک پہنچ گئی،جبکہ اسی دوران چین سے درآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 383.5 ارب یورو رہی۔یورپی یونین، امریکا کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں امریکا کی مجموعی برآمدات کا پانچواں حصہ اپنی کھپت دیکھتا ہے۔ اسی طرح یورپی برآمدات کا پانچواں حصہ امریکی مارکیٹ کا حصہ بنتا ہے۔ سال 2017میں دونوں خطوں کے درمیان ساز وسامان اور سروس کی مد میں 1,069.3 بلین یورو کی تجارت ہوئی۔ یورپ نے امریکہ سے 256.2 بلین یورو کا سامان درآمد کیا اور 375.8 بلین یورو کا تجارتی مال برآمد کیا۔