چین کے سامنے مودی مجبور کیوں؟-حسام صدیقی

رام مندر کے لئے بھومی پوجن کے ذریعہ بھلے ہی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے غلام میڈیا چین کی حرکتوں پر وقتی طور پر پردہ ڈالنے میں خود کو کامیاب سمجھ رہا ہو لیکن مودی کو ملک کو جواب دینا ہی پڑے گا کہ آخر انہوں نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ایک سو تیس کروڑ کے عظیم ملک کی توہین کیوں کی آخر اب وہ چھپن انچ کا سینہ اور آنکھیںلال کرکے چین کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وعدہ کہاں چلا گیا؟ خبر لکھے جانے تک چین نہ صرف مشرقی لدّاخ میں ایل اے سی کے پاس پینگانگ جھیل سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے اتراکھنڈ کے لیپولیکھ علاقہ میں اپنے ایک ہزار فوجی اتاردئے تھے۔ اسی کے ساتھ چین نے لدّاخ سرحد کے پاس کاشغر کے ائیر بیس پرایٹم بموں سے لیس بمبار کرنے والے فائٹر پلین بھی تعینات کردیئے تھے۔ بھارت نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا ہے کہ جب تک چینی فوجی پینگانگ کے فنگر چار سے آٹھ کے درمیان کا علاقہ خالی نہیں کردیتے اس وقت تک دونوں کے درمیان بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ انتیس جولائی کو فرانس سے پانچ رافیل فائٹر جیٹ بھارت آئے تو سرکار میں بیٹھے لوگوں اور ملک کے غلام میڈیا نے خوب شور مچاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ رافیل آنے سے چین تھر تھر کانپ رہا ہے اور پاکستان کی تو آوازہی بند ہوگئی ہے۔ رافیل آنے کے اگلے ہی دن تھر تھر کانپنے والے چین نے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے ایچ-۶ فائٹر جیٹ تعینات کردیئے۔ ڈٹیرسکا نے ٹوئٹر پر چین سے حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر پوسٹ کیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ کاشغر ائیر بیس پر چین ایک دو نہیں چھ شیان ایچ-۶ جنگی طیارے تعینات کررکھے ہیں۔ ان چھ میں سے دو فائٹرس کے ساتھ پیلوڈ بھی ہیں جو ایٹمی میزائلیں ہیں۔ شیان ایچ-۶ فائٹر جیٹ کی مار کرنے کی صلاحیت چھ ہزار کلومیٹر ہے۔ ان شیان ایچ-۶ طیاروں کے علاوہ ایک درجن یعنی بارہ شین یانگ جے-۱۱ اور جے -۱۶ لڑاکو طیارے بھی کاشغر ائیر بیس پر کھڑے نظر آئے ہیں۔ چین نے سرحد کے پاس اتنے بڑےپیمانے پر فوج اکٹھا کررکھی ہے اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نہ تو آنکھیں لال کرکے اپنےمبینہ جگری دوست شی جن پنگ سے بات کررہے ہیں اور نہ ہی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ پارہے ہیں کہ آخر یہ سرحد کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے لیس جنگی لڑاکو طیارے کیوں تعینات کئے ہوئے ہیں۔ ادھر وزیراعظم مودی ملک سے بار بار جھوٹ بولتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ نہ تو ہماری سرحدوں میں کوئی گھسا ہوا ہے نہ گھسا تھا اورنہ موجود ہے۔
چین صرف بھارت کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر ہی فوج اکٹھا نہیں کررہا ہے جنوبی چائنا سمندر میں امریکہ اور جاپان کی سرگرمیوں کے درمیان چین نے ایچ-۶ بمبار فائٹر پلین کی سیریز کے ایچ-۶ جے اور ایچ-۶ جی جنگی طیاروں کے ساتھ ساؤتھ چائناسمندر میں بھی جنگی مشق کرآیا۔ ایل اے سی پر کشیدگی کے درمیان چین نے جن دوسرے جنگی جہازوں کے ذریعہ جنگی مشق کی ہے ان میںایچ-۶، ایچ-۷ اور وائی جے-۱۲ شامل ہیں جو سپر سونک اینٹی شپ کروز میزائلیں لے جاسکتے ہیں۔ آخر چین اتنے بڑے پیمانے پر اپنی جنگی طاقت کا مظاہرہ کیوں کررہا ہے؟ اس مظاہرےکے باوجود وزیراعظم مودی خاموش کیوں ہیں؟
ہمارے ملک کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے پہلے نیپال جیسا ملک بھارت سے دورہو کر چین کی گود میں بیٹھ گیا اور چین کے ہی اکسانے پر نیپال نے بھارت کے تین علاقوں کالا پانی، لیپولیکھ اور لمپیا دھورا کو اپنا بتاتے ہوئے ملک کا نیانقشہ جاری کردیا۔ اب چین نے پاکستان کو اکسایا ہے تو پاکستان کی عمران خان سرکار جیسے پاگل ہی ہوگئی۔ چار اگست کو عمران خان نے بھی نیپال کی طرح ہی اپنے ملک کا نیا نقشہ جاری کردیا، جس کےذریعہ پور ے کشمیر کو اور گجرات کے جونا گڑھ تک کو پاکستان کا حصہ بتایا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پاکستان قبضہ و الے غلام کشمیر کے مظفر آباد تک جانے والی سڑک کا نام راہ کشمیر کا نام تبدیل کرکے اب پاکستان نے اس کا نام شاہراہ سری نگر کردیا ہے۔ چین کی پشت پناہی میں پاکستان پر اتنا پاگل پن سوار ہوگیا کہ اس نے اب نئے نقشہ میں پورے کشمیر کے ساتھ سیاچن، لدّاخ اور کرگل کو شامل کرکے ان علاقوں کو پاکستانی علاقہ قرار دے دیا۔ خود پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ نیا نقشہ ہی اب سرکاری دفاتر اور اسکول کالجوں میں لگایا جائے گا۔ عمران خان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اتاؤلے ہو کر بولے کہ شاہراہ کشمیر کانام تبدیل کرکے شاہراہ سری نگر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم جلدی ہی سری نگر میں بیٹھے نظر آئیں گے۔ عمران خان نے یہ حرکت چار اگست کو کی تھی، لیکن وزیراعظم نریندر مودی ایودھیا میں رام مندر کے لئے بھومی پوجن اور شیلا نیاس کو اپنے لئے خصوصی ایونٹ بنانے میں مصروف نظر آئے۔ عمران خان نے کہا کہ ان کا یہ قدم پانچ اگست کو دفعہ-۳۷۰ ہٹائے جانے کی برسی کے موقع کی نفی کرنے کے لئے ہے۔
پیگانگ جھیل کے مغربی علاقہ میں چین آٹھ کلومیٹر تک قبضہ کرچکا ہے۔ اب اس سے پیچھے نہ ہٹنے کی ضد پر اڑے چین نے ایک نیا شوشا چھوڑا ہے۔ دہلی میں تعینات چین کے سفیر نے انتیس جولائی کو کہہ دیا کہ پیگانگ جھیل کی شمالی کنارے کی طرف ایل اے سی ہے اور چین اسی کو روائتی باؤنڈری تسلیم کرتا ہے۔ جھیل کا مغربی کنارہ تو پوری طرح چین کا ہی ہے۔ اس لئے ادھر ایل اے سی کا فارمولہ لاگو نہیں ہوتا ہے۔ اس خطرناک بیان پر بھی وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر خاموش ہیں۔ وزارت خارجہ کے کچھ سینئر افسران ہی اعلیٰ فوجی افسران کی طرح ضرور چین کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں لیکن ان کی بات چیت کے باوجود چین اپنی ضد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔
چین کی جارحانہ حرکتوں میں کمی نہیں آرہی ہے۔ سینئر فوجی افسران کی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ اس کے باوجود وزیراعظم مودی بظاہر خاموش ہی ہیں۔ ملک یہ نہیں سمجھ پارہا ہے کہ نریندر مودی جس چینی صدر شی جن پنگ کو اپنا نزدیکی دوست اور جگری یار کہتے تھکتے نہیں تھے اب آخر وہ اپنے اس دوست سے سیدھے فون کرکے بات کیوں نہیں کرتے کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ چین بھارت کی سرحد میں آگے ہی بڑھتا جائے اور لدّاخ تک پہونچ جائے تب وہ بات کریں گے۔ اب تو اس بات پر بھی شک ہور ہا ہے کہ مودی اور شی جن پنگ کے درمیان دوستانہ رشتے بھی تھے یا ملک کے عوام پر اثر ڈالنے کے لئے مودی غلط بیانی کررہے تھے یعنی جھوٹ بول رہے تھے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*