چین کےایغور مسلمانوں کا المیہ-معصوم مرادآبادی

چین کے ایغور مسلمانوں پر تاریخ کے بدترین مظالم سے عالمی برادری نے بھلے ہی آنکھیں موند رکھی ہوں، لیکن اب یہ معاملہ جرائم کی عالمی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ایغور مسلمانوں سے وابستہ مشرقی ترکستان کی جلاوطن حکومت اور بیداری تحریک چلانے والی تنظیم نے مشترکہ طور پر یہ مقدمہ انٹر نیشنل کریمنل کورٹ میں درج کرایا ہے۔اس طرح یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جب ایغور
مسلمانوں پر جاری بدترین مظالم کے سلسلہ میں چین سے عالمی قوانین کے تحت پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے۔لندن میں وکیلوں کے ایک گروپ نے چین میں ہزاروں ایغور مسلمانوں کوغیرقانونی طور پر کمبوڈیا اور تاجکستان جلاوطن کئے جانے کے سلسلہ میں بھی شکایت درج کرائی ہے۔ چینی صدر شی پنگ سمیت کمیونسٹ پارٹی کی حکومت سے وابستہ 80 افراد پر ایغور مسلمانوں کے قتل عام کا الزام لگایا گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی گروپ نے ایغور مسلمانوں پرڈھائے جارہے بدترین مظالم کے سلسلے میں چین کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ ورنہ اب تک مہذب دنیا نے انسانیت کی فلاح اور بقاء کے تمام تر دعوؤں کے باوجود اس معاملے میں چین سے بازپرس نہیں کی ہے۔ دراصل چین کی مضبوط اقتصادی پوزیشن اس کے خلاف سخت کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ آج کی دنیا میں تمام معاملات معاشی نقظہ نظر سے طے ہوتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ کئی ملکوں نے اقلیتوں پر ظلم وزیادتی کے معاملے میں چین پر تنقیدکی ہے، لیکن اس سلسلے میں کارگر قدم نہیں اٹھائے گئےہیں۔
اکتوبر2019 میں یوروپی حکومتوں نے ٹرمپ کے ساتھ اقوام متحدہ کو چین کی مذمت کرنے والاایک مکتوب لکھا تھا، لیکن امریکی اور یوروپی یونین چونکہ چین کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، اس لئے بات آگے نہیں بڑھی۔مگر اب کورونا کے بعد چین کے تعلق سے پوری دنیا کی سوچ میں تبدیلی محسوس کی جارہی ہے اورشاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اب چین کے حوالے سے امریکہ کا لب ولہجہ بھی بدلا ہوا۔ امریکہ صدر نے پچھلے دنوں ایغور مسلمانوں پر چینی مظالم کے تعلق سے ایک ایسے قانونی مسودے پر دستخط کئے ہیں جس کی رو سے ظلم وبربریت میں ملوث چینی افسران کے خلاف تادیبی کارروائیا ں کی جائیں گی۔
چین میں ایغور مسلمان ترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو 1500 سال پہلے وسطی ایشیاء میں آباد تھے۔ آج وہ زیادہ تر چین کے مغربی صوبے ژنگ جیانگ میں آباد ہیں۔ایغور مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں اسلام قبول کیا۔ ژنگ جیانگ صوبہ اپنی متمدن ثقافتی اور اسلامی تاریخ کا حامل ہے، جو وسطی ایشاء کے مسلم عہد کے وقت چھوٹا بخارا کہلاتا تھا۔ اس کی انتہائی شاندار تاریخ ہے۔اس علاقہ پرمتعدد خاندانوں کی حکومت رہی اور بالآخر 1878میں چینیوں کے کنٹرول میں آگیا۔ژنگ جیانگ خاندان نے 1884میں اس کانام ژنگ جیانگ(نیا صوبہ)رکھ دیا۔1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد بیجنگ میں کمیونسٹ حکومت نے اپنے بھرپور وسائل کے لئے اس خطے کا استحصال کیا اور وہاں کی آبادی کوبڑے پیمانے پر ژنگ جیانگ میں نقل مکانی کرنے کی سہولت فراہم کی۔چین کی جبر کی پالیسی کے تحت ایغور مسلمانوں کوامتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔برسوں کے شدید معاشی استحصال، معاشرتی امتیاز اورمذہبی اخلاق اور روایتی ڈھانچوں کی زبردست تباہی نےعلیحدگی پسند رجحانات کوفروغ دیاجس کی وجہ سے1980 سے1987 کے درمیان ایغور مسلمانوں نے چین کے خلاف مظاہرے کئے۔ ان مظاہروں میں اس وقت شدت پیدا ہوئی جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوااور طالبان کو افغانستان میں اقتدار حاصل ہوا۔ایغور مسلمانوں نے1990کے اوائل میں چینیوں کے خلاف مشرقی ترکستان کی ریاست کے قیام کے لئے ایک زبردست احتجاجی تحریک شروع کی۔ ان ہنگاموں میں چھ پولیس اہل کاروں کی ہلاکت ہوئی، جس کے بعدچین نے بغاوت اورمذہبی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ظلم وستم کی راہ اختیار کی۔ ایغوروں پر بڑھتا ہوادباؤ 2009 کی بغاوت کا سبب بناجس میں 400 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ 1989میں تیان مین اسکوائر سانحہ کے بعد سب سے خونریز بدامنی دیکھنے میں آئی۔ 3500سے زیادہ ایغوروں کو گرفتار کیا گیا۔
واشنگٹن میں واقع ایغور ہیومین رائٹس پروجیکٹ(یو ایچ آر پی)کے مطابق جبر کو جائز قرار دینے کے عمل کے تحت 14-2013کے دوران700 مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ ایغور گھرانوں پر پولیس کے تشدد، اسلامی مذہبی رواج پر پابندی اور ایغور لوگوں کی ثقافت اور زبان پر پابندی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے بالآخر عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے گروہوں کی توجہ حاصل کرلی۔ اس طرح ایغوروں پر چینی مظالم طشت ازبام ہونے کی وجہ سے چین تشویش میں مبتلا ہوگیا۔
واضح رہے کہ چین کے صدر شی پنگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہر طرح کے مظالم کی پالیسی اپناتے ہوئے ان پر اپنے مذہب کو تر ک کرنے اور چینی حکومت کے آگے سرنگوں ہونے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ایسوسی ایٹیڈ پریس اور جرمن ریسرچ اسکالرایڈرین جینس نے جانچ میں اس بات کا بھی پتہ لگایا ہے کہ حکومت یہاں اقلیتوں کی شرح آبادی کو کم کرنے کے لئے جبری نس بندی اور اسقاط حمل کی بڑے پیمانے پر تحریک چلارہی ہے۔ یہاں حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کونظربند کردیا جاتا ہے۔ اس کے لئے علاقہ میں کئی کیمپ بنائے گئے ہیں۔ پچھلے سال ایسے ہی ایک کیمپ میں 58 لوگوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ عالمی عدالت میں شکایت کرنے والوں کے وکیل راڈنی ڈکسن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کرنے والوں کو سب سے پہلے قتل عام کی جانچ کرنی چاہئے، کیونکہ یہاں ایک پورے فرقے کے وجود کو مٹانے کی سازش رچی جارہی ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں 18 لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمان اور دیگر اقلیتی باشندوں کو یا تو قید کیا گیاہے یا مارا جاچکا ہے۔ اس دوران یہاں کی آبادی بڑھنے کی شرح میں 84 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چین میں ایغور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ کرنے والین قانون پر دستخط کئے تھے۔ یہ قانون دراصل چین میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسلی شناخت مٹانے اور ان کے مذہبی اعتقادات کے خاتمہ کے لئے انسانی حقوق کی پامالیوں، مجرمانہ کیمپوں کا منظم استعمال، قید بامشقت اور دیگرجرائم میں ملوث اہل کاروں کیخلاف منظور کیا گیاہے۔ واضح رہے کہ ان پابندیوں سے متعلق ایک مسودہ گزشتہ مئی میں امریکی کانگریس میں پیش ہوا تھا۔ اس قانون سازی میں جسے امریکی کانگریس متفقہ طورپر منظور کرچکی ہے، امریکی انتظامیہ سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ وہ یہ تصدیق کرے کہ کون سے چینی اہل کارایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نظربندی، تشدد اور انھیں ہراساں کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد ان عہدیداروں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمدکردئیے جائیں گے اور ملک میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
پچھلے دنوں ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ایغور مسلمانوں کی آبادی پر قابو پانے کے لئے اس برادری کی خواتین کی جبری نس بندی کرائی جارہی ہے یا انھیں مانع حمل ادویات کے استعمال پر مجبور کیا جارہا ہے۔یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ تقریباً دس لاکھ ایغورمسلمان اور دیگر لوگوں کو مقدمے کے بغیرحراست میں رکھا گیا ہے۔بار بار نماز پڑھنے، ترکی تہذیب سے لگاؤ اور سرکاری ٹی وی دیکھنے سے انکار کرنے کے سبب ان سے ایسا سلوک کیا گیا ہے۔ چینی حکومت اس کو ’تربیتی کیمپ‘ کہتی ہے۔ اس سے قبل چین نے ایسے کسی بھی کیمپ کی موجودگی سے انکار کیا تھا، لیکن بعد میں یہ کہہ کر اس کا دفاع کیا تھا کہ یہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے ضروری قدم تھا۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ کہا تھا کہ”امریکہ ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی خواتین پر جبراً آبادی کنٹرول کئے جانے کے طریقوں کی سخت تنقید کرتا ہے اور سی سی پی سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنا ظلم بند کرے۔آج ہم جو کچھ کریں گے، اسی کی بنیاد پر تاریخ ہمیں پرکھے گی۔“
بی بی سی نے 2019میں اپنی تحقیقات میں پایا تھا کہ ژنگ جیانگ صوبے میں بچوں کو منظم طریقے سے اپنے کنبے سے الگ کیا جارہا ہے۔ ایسا انھیں اپنی مسلم برادری سے الگ کرنے کی کوشش کے تحت کیا جارہا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کوروزہ، نماز اور اسلام کے دیگر بنیادی احکامات سے باز رکھنے کی مذموم کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
ایغور مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معاشی اور سفارتی مجبوریوں کے سبب مسلم دنیا بھی چینی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے کتراتی ہے۔ آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال ستمبرمیں ’الجزیرہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے چین کو پاکستان کا بہترین دوست قرار دیا تھااور ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی تھی۔ ترک صدر طیب اردغان، جو دیگر مسلم اقلیتوں کے سخت حامی ہیں، انھوں نے گزشہ سال ستمبر میں کہا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ چین کے ژنگ جیانگ خطے کے لوگ چین کی ترقی اور خوشحالی میں خوشی خوشی شامل ہیں۔ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیرمحمد نے بھی اسی دوران کہا تھا کہ بہتر ہے کہ ایغور مسلمان کچھ کم متشدد طریقے تلاش کریں جس سے چین کے لئے مسائل پیدا نہ ہوں، کیونکہ چین ہمارے لئے فائدہ مند ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی نے بھی ابھی تک اس جانب توجہ نہیں کی ہے ۔ اس نے گزشتہ برس مسلم شہریوں کی دیکھ بھال کے لئے چین کی کوششوں کو سراہا تھا۔ ایغور مسلمانوں کے تعلق سے مسلم ملکوں کی یہ سرد مہری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ معاشی امور میں چین پر کس حد تک منحصر ہیں۔ آج کی دنیا میں تمام مسائل معاشی راستوں سے ہی طے ہوتے ہیں اور چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)