خواتین کوعدلیہ میں 50 فی صد ریزرویشن ملنا چاہیے:چیف جسٹس

نئی دہلی:چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمنانے کہاہے کہ ہمیں عدلیہ میں خواتین کے لیے 50 فی صد ریزرویشن کی ضرورت ہے۔ ملک کے تمام لاء اسکولوں میں کچھ فی صد ریزرویشن کے مطالبے کی تائید کرنے کی سختی سے سفارش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ خواتین کا حق ہے۔ وہ یہ مطالبہ کرنے کی حقدار ہیں۔ چیف جسٹس نے یہ بات سپریم کورٹ کی خواتین وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے 9 نئے ججوں کے لیے منعقدہ اعزاز تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاہے کہ یہ ہزاروں سالوں سے جبر کا مسئلہ ہے۔ نچلی عدلیہ میں 30 فی صد سے کم جج خواتین ہیں۔ ہائی کورٹ میں 11.5 فیصد خواتین ججز ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ میں صرف 11-12 فیصد خواتین ججز ہیں ، 33 میں سے صرف چارہیں۔ جبکہ ملک میں 17 لاکھ وکلاء ہیں ، ان میں سے صرف 15 فیصد خواتین ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ ریاستوں کی بار کونسلوں میں منتخب نمائندوں میں سے صرف 2فی صد خواتین ہیں۔ میں نے یہ مسئلہ اٹھایاہے کہ بار کونسل آف انڈیانیشنل کمیٹی میں ایک بھی خاتون نمائندہ کیوں نہیں ہے؟ ان مسائل کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے کہاہے کہ بہت سے چیلنجز ہیں جو اس نظام میں خواتین وکلاء کے لیے سازگارنہیں ہیں۔