چین سے متصل سرحدپر فوجیوں کی سرگرمی تیز،’انتقام ‘کی تیاری

نئی دہلی:15 جون کے پرُتشدد جھڑپ کے واقعہ کے بعد فوج نے لیہ اورمتصل دیگر سرحدوں پر اپنی نقل و حرکت میں اضافہ کردیا ہے۔اس کے ساتھ لداخ سے جو بھی یونٹ پیس اسٹیشن واپس آنے والے تھے ، انہیں وہاں رہنے کو کہا گیا ہے۔ فوج نے لداخ کے آس پاس میں تعینات اپنے یونٹوں کو کسی بھی وقت لیہ منتقلی کیلئے بھی تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ خاص طور پر کشمیر اور جموں میں یونٹوں کو کسی بھی وقت لیہہ منتقل ہونے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ لیہ سٹی کے باہر فوج کے علاوہ تمام نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سری نگر -لیہ شاہراہ بھی عام لوگوں کے لئے بند کردی گئی ہے۔وہیں لداخ میں سرحد سے متصل دیہات خالی کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، فوج نے احتیاطی لوگوں سے گاؤں خالی کرنے کو کہا ہے۔ دیم چوک پینگانگ لیک کے آس پاس کی بستیوں کو محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔ سرحد سے متصل علاقوں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی ہے۔یہاں تک کہ فوج کے لینڈ لائن فون بھی بند کردیئے گئے ہیں۔کرونا کی وجہ سے پہلے چھٹی پر موجود افسران اور فوجیوں کو لاک ڈاؤن میں واپس آنے سے انکار کرتے ہوئے ان کی چھٹی میں توسیع کردی گئی تھی، اب ان کی تمام تعطیلات منسوخ کردی گئی ہیں۔چین کے قریب واقع 3400 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ہر طرف فارورڈ پوسٹ کے کمپنی کمانڈر کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر چین کی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی ہے تو وہ بے دریغ کارروائی کریں۔