چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبےکا انعقاد

میرٹھ:’’میرٹھ کا نام نہ صرف تحریک آزادی کا پہلا بگل بجانے بلکہ نظم جدید کی تحریک میں اولیت کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تاریخ میں سنہرے حرفوں سے رقم کیے جانے کے قابل ہے۔مولانا محمد حسین آزاد اور حالی ؔکی مساعی سے 1874ء میںشروع ہونے والی نظم جدید کی تحریک اور اس تحریک کے نظریات پر مبنی ادب کی اشاعت سے دس سال قبل یعنی 1864ء میں ہی یہاں کے مولابخش ،قلق میرٹھی کا پندرہ انگریزی نظموں کے تراجم پر مشتمل مجموعہ ’’جواہر ریزے‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکا تھا۔ساتھ ہی اسماعیل میرٹھی نے ’’جڑیا کے بچے‘‘ اور ’’تاروں بھری رات‘‘جیسی معرا نظمیں پیش کرکے نظم میں ہیتی تجربوں کا آغاز دوسروں سے پہلے کر دیا تھا۔ ‘‘ یہ الفاظ تھے محترمہ ڈاکٹر فرحت خاتون صاحبہ کے جنہیں وہ شعبۂ اردو ، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں نویں اسماعیل میرٹھی خطبے کے تحت بیسویں صدی کے نظم نگار شعراء (افسر میرٹھی ،روش صدیقی اور ساغر نظامی کے خصوصی حوالے سے) عنوان پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ادا فرما رہی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرزمین میرٹھ کی خوش نصیبی یہ ہے کہ قلق میرٹھی اور اسماعیل میرٹھی کی جاری کردہ یہ روایت ان تک محدود نہیں رہی بلکہ سرزمین میرٹھ کی پوری ادبی فضا میں سرایت کر گئی ہے۔افسر میرٹھی ،روش صدیقی اور ساغر نظامی نے اس روایت کو بطور خاص زندہ رکھا ہے۔واضح ہو کہ شعبۂ اردو قومی کانسل برائے فروغ زبان اردو، حکومت ہند کے مالی تعاون سے ہر سال اسماعیل میرٹھی توسیعی خطبے کا اہتمام کرتا ہے ۔ اب تک پروفیسر شمیم حنفی ، پروفیسر قاضی افضال حسین ،پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر ارتضیٰ کریم ،پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر قدوس جاوید،پروفیسر عباس رضا نیر اور مشرف عالم ذوقی جیسے مایہ ناز ادیب و ناقد یہ خطبے پیش کر چکے ہیں۔ آج کے یادگاری خطبے میں بطور صدر جمال احمد صدیقی ،ڈپتی لائبریرین، سی ،سی ،ایس ،یو ، میرٹھ، بطور مہمان خصوصی محترم شاہد صدیقی آئی، آر ،ایس اور بطور مہمان مکرم معروف اور بزرگ افسانہ نگار محترم مسعود اختر شریک ہوئے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی،تعارف اسماعیل میرٹھی کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم، استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم محترم تابش فرید نے ادا کی۔
اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبے کے اس موقع پر مہمان مکرم محترم مسعود اختر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا اسماعیل میرٹھی کا ابتدائی تا درجہ 8 کا تیار کردہ نصاب آج بھی استناد کا درجہ رکھتا ہے ۔اردو جاننے کا کوئی بھی خواہش منداس نصاب کو پڑھ کر بہترین اردو زبان سیکھ سکتا ہے۔
محترم شاہد صدیقی نے کہا کہ شاید اردو جاننے یا ادب سے دلچسپی رکھنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو اسلم کی بلی ،پن چکی، ہماری گائے، بارش کا پہلا قطرہ، جگنووغیرہ نظموں سے واقف نہ ہو اور یہ واقفیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسماعیل میرٹھی کا تخلیق کردہ ادب آفاقی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
پروفیسر جمال احمد صدیقی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا میرٹھ کے مایہ ناز فرزند اسماعیل میرٹھی ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک جامع صنف انسان تھے۔ سرسید کے ساتھ اسماعیل میرٹھی نے علم کی اہمیت کو سمجھااور عملی اقدام کیے ۔ انہوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نہ صرف درس کے پیشے کو اپنایا ۔بچوں کے لئے نصابی کتب بھی تالیف کی جو ان کا اہم کارنامہ ہے۔
اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبے کے بعد’’کہانی کی ایک شام‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدر ڈاکٹر پرگیہ پاٹھک (ایسوسی ایٹ پروفیسر این ایس کالج ،میرٹھ)اور مہمان خصوصی ڈاکٹر ہما مسعود (پرنسپل اسماعیل نیشنل گرلز پی جی کالج ، میرٹھ) تھیں۔ نظامت ڈاکٹر شاداب علیم نے کی اس بزم میں الہ آباد کے محترم اسرار گاندھی نے ’’دھوپ چھاؤں‘‘ ، میرٹھ کے متحرم مسعود اختر نے ’’وقت کو کیش کرو‘‘ اور امروہہ کی ڈاکٹر تسنیم فاطمہ نے’’نئی روشنی‘‘ کے عنوانات سے اپنی اپنی کہانیاں پیش کیں۔ڈاکٹر ہما مسعود ،ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہانیوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر پرگیہ پاٹھک نے پروگرام کے روح رواں اور صدر شعبۂ اردو ،پروفیسراسلم جمشید پوی ،شعبے کے اراکین اور کہانی کاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تینوں کہانیاں اپنے اپنے موضوع پر اچھوتی اور جذبات و احساسات کو مرتعش کرنے والی تھیں۔
تقریب میں ڈاکٹر محمد اخلاق ،ڈاکٹر انور پاشا، انجینئررفعت جمالی ،سلیم سیفی، فیروز احمد ،انیس میرٹھی، نذیر میرٹھی، ڈاکٹر عفت ذکیہ، ڈاکٹر یونس غازی، ڈاکٹر خالد ظہیر ، مدیحہ اسلم، کوثر ارشاد، تابش فرید ، شاکر مطلوب، شاہنور علی، روما پروین ،ثمانا، بھوت ، محمد شمشاد وغیرہ موجود رہے۔