کرسمس کا فریب اور ہمارا طرز عمل-محمد اعظم ندوی

عیسائی حضرات ہر سال25/دسمبرکو کرسمس ڈے مناتے ہیں، اور اس دن کو حضرت عیسی علیہ الصلاة والسلام کی پیدائش کا دن قرار دیتے ہیں، بعض مشرقی عیسائی فرقے٦ یا 7/جنوری کو جشن ولادت مناتے ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، بہت سے منصف مزاج عیسائی مصنفین نے خود بھی دلائل کے ساتھ اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ25/دسمبر حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں ہے، اور بائبل میں مذکور بعض قرائن سے ثابت کیا ہے کہ ان کی پیدائش موسم سرما میں نہیں موسم گرما میں ہوئی تھی، بعض مسلمان قلمکاروں نے سورۂ مریم میں مذکور حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے واقعہ اور اس کے پس منظر سے بھی اس بات کے شواہد پیش کئے ہیں۔

پہلی نیقیہ کونسلFirst Council of Nicaeaسن325ء میں ہوئی ،جس میں قسطنطین اعظم کی نگرانی میںتثلیث کو مسیحیت کا بنیادی عقیدہ قرار دیاگیا اور انجیل کو مدون ومرتب کرانے کی تجویز پاس کی گئی، مصلوبیت یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر لٹکائے جانے کا عقیدہ بھی یہیں طے کیاگیا، اور اسی کے آس پاس صلیب کے نشان کو غلط طور پر عیسائیت کا شعار بنا دیا گیا، ایک رائے کے مطابق اسی موقع سے حضرت عیسی علیہ السلام کا یوم ولادت بھی 25/دسمبر کوقرار دیا گیا،جس کو عیسائیوں نے تسلیم کر لیا، حالانکہ وہ بیت لحم میں کب پیدا ہوئے،تاریخ میں محفوظ نہیں۔(مجلة البیان،اشکال تحدید تاریخ میلاد النب عیسی علیہ السلام ف الدیانة النصرانیة المسیحیة،علی زلماط،2016-12-26)۔

بعض لوگوں نے اس کا نقطۂ آغاز دوسری تاریخوں کو بھی قرار دیا ہے، حسنین شاکر نے اپنے معرکةالآرا مضمون”کرسمس کی حقیقت” میں لکھا ہے:”دوسری صدی میں پاپائے اعظم ٹیلیس فورس نے اس بدعت کو باقاعدہ طور پر منانے کا اعلان کیا، لیکن اس وقت کرسمس کی کوئی متعین تاریخ نہ تھی، اسکندریہ مصرمیں اسے20/مئی کو منایا جاتا تھا،اس کے بعد 19،20 اور 21/ اپریل کو منایا جانے لگا،کچھ خطے اسے مارچ میں بھی مناتے تھے، انسائیکلوپیڈیاBritannica میں کرسمس ڈے آرٹیکل کے مطابق 525ء میں سیتھیاکے راہب ڈائیونیزیوس(Dionysius Exiguus 470-544 AD)جو کہ ایک پادری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر کیلنڈر نگار بھی تھا،اس نے اپنے اندازے کے مطابق حضرت مسیح کی تاریخِ ولادت25/دسمبر مقرر کی ہے،یہ بات درست ہے کہ ڈائیونیزیوس ایک مشہور تقویم نگار تھا،اس نےAnno Domini یعنی عیسوی کیلنڈر بھی 525 میں متعارف کروایا تھا مگر انسائیکلوپیڈیا ویکی پیڈیا کے مقالہ نگار کے مطابق جدید تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس مشہور تقویم نگارنے کبھی یہ دعو ی نہیں کیا کہ حضرت مسیح کی تاریخِ ولادت25/دسمبرہے،بازنطینی بادشاہ کانسٹنٹائن(Constantine the Great 272-373AD)نے اس تاریخ کو عالمی طور پر حضرت عیسی کی ولادت کا دن مقرر کیا”
آگے لکھتے ہیں:”چوتھی صدی عیسوی سے اب تک کرسمس کا تہوار دنیا بھر میں25/ دسمبر کو ہی منایا جا رہا ہے؛لیکن عیسائی فرقہ آ رتھوڈکس جو گریگوری کیلنڈر کو ہی معتبر مانتا ہے،وہ کرسمس 7/جنوری کو مناتے ہیں ،اور آج بھی ایسے خطے جہاں آرتھوڈکس کی اکثریت ہے، وہاں کرسمس7/جنوری کو ہی منایا جاتا ہے جن میں روس ،آرمینیا ،مشرقی تیمور ،فلپائن ،شا م اور بھارت کی ریاست کیرالہ بھی شامل ہیں،جبکہ بعض خطے ایسے بھی ہیں جہاں کے عیسائی6/جنوری اور18/جنوری کو کرسمس مناتے ہیں”۔
(https://magazine.mohaddis.com/shumara/251-feb-2014)

بھارتی نژاد جنوبی افریقی مبلغ ومناظر ڈاکٹر احمد دیدات لکھتے ہیں:”عیسائی ٢٥/دسمبر کو یوم میلاد مسیح مناتے ہیں، 25/دسمبر کا دن در اصل رومی مشرکوں کے ایک دیوتا کی یادگار تھا، انہیں خوش کرنے کی خاطر اس دن کو یوم میلاد مسیح بنا لیا گیا، حالانکہ مسیح موسم گرما میں پیدا ہوئے تھے، انجیل میں لکھا ہے:”مریم نے بچہ کو جن کر چرنی میں ڈال دیا”، اگر یہ دسمبر میں ہوتا تو نہ مریم باہر جاسکتی، اور نہ ہی برہنہ بچے کو چرنی میں ڈالا جاسکتا تھا” (یہودیت، عیسائیت اور اسلام، شیخ احمد دیدات، ص:235)۔

اس سلسلہ میں ایک عیسائی مصنف کا حوالہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اور ہمارے دعوی کو دلیل فراہم کرے گا، ان کا نام ہے:ہاربرٹ ڈبلیوآرم اسٹرانگHerbert W. Armstrong ، جنہوں نے The plain truth about Christmas (کرسمس کے بارے میں ایک سادہ حقیقت) کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا، جس کوکیلوفورنیاکے ایک بڑے کلیسا نے شائع کیا، ایک اور مضمون ان کا اس عنوان سے ملا:
Pagan Holidays- or God’s Holidays-Which?
(بت پرستانہ تہوار کے ایام یا خدائی تہوار کے ایام۔کون سے ؟) جس کو9176ء میں Worldwide Church of God امریکہ سے شائع کیا گیا،اس میں بھی انہوں نے کرسمس ،ایسٹر، نیو ائیر اور دوسرے ایام کے مشرکانہ ہونے کو ثابت کیا ہے، اور دکھایا ہے کہ بائبل کے مطابق پاکیزہ ایام کون سے ہیں ۔

یہ دونوں تحریریں تاریخی دلائل سے ثابت کرتی ہیں کہ کرسمس ایک بت پرستانہ تہوار ہے،اصل عیسائیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، جس طرح سینٹ پال کے ذریعہ تثلیث، کفارہ اور حلول وتجسم کو ایجاد کیا گیااسی طرح یہ بھی ہے،عیسائی مؤرخ Andre Vose نے بھی اپنی ایک تحریر میں یہی بات لکھی ہے کہ کتاب مقدس میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، نہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس کی تعلیم دی نہ حواریوں نے، یہ غلط طور پرعقائد دین مسیح کا حصہ بنا دیا گیا، اور یہ کہ کرسمس کا لفظ بائبل میں کہیں نہیں آیا، نہ عہد جدید میں، نہ عہد قدیم میں، نہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مخصوص12حواریوں سے یہ بات منقول ہے۔
ہاربرٹ کی تحقیق ہے کہ مسیحیت میں یہ تہوار وثنیت سے آیا،1911ء میں شائع ہونے والی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں کہ کیتھولک کلیسا کے مقررہ تہواروں میں کرسمس نہیں تھا، پہلی بار اس کو منانے کی بدعت مصر سے آئی، کتاب مقدس میں کہیں اس کا ذکر نہیں کہ حضرت عیسی کے یوم ولادت کو جشن منایا جائے، یہ تو فرعون اور نمرود کی ایجاد ہے کہ وہ اپنے یوم ولادت کے موقع سے خوشیاں مناتے تھے،پھر انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا اور امریکن انسائیکلوپیڈیاکے حوالہ سے بھی اسی قسم کی حقیقت نقل کرتے ہیں کہ چوتھی صدی عیسوی میں ولادت مسیح کو زندۂ جاوید بنانے کی غرض سے کرسمس کا جشن منایا گیا، اور پانچویں صدی میں مغربی کلیسا نے حکم دیا کہ اس دن کسی مذہبی شخصیت کے یوم پیدائش کو منانے کی قدیم رومی روایت کے مطابق اسی دن کو یوم ولادت مسیح کے طور پہ منا لیا جائے؛ چونکہ مسیح کی ولادت کی تاریخ معلوم نہیں۔

افسوس کہ عیسائی دنیا ہی نہیں، پوری دنیا اس دن لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے یہ تہوار مناتی ہے،مسلمان بھی غیر شرعی طور پر اس میں شریک ہوجاتے ہیں، کرسمس درخت کے نام سے ایک سجا دھجا ہوا مصنوعی درخت مختلف انداز سے استعمال کیاجاتا ہے،کہیں دیو ہیکل حجم کا بھی کرسمس ٹری بنایا جاتاہے، سانتا کلازSanta Clausکوجسے فادر کرسمس اور عربی میں بابا نویل کہتے ہیں کرسمس کا ایک استعارہ بنادیا گیا ہے، اور تمام مذاہب کے بچے اس سے دلچسپی رکھتے ہیں، اور اس کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں، جبکہ یہ مغربی مسیحی ثقافت کا ایک افسانوی کردارہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کرسمس کے موقع پر اچھے اور نیک بچوں کے لیے مختلف تحفے لے کر آتا ہے،اور یہ کہ موجودہ سانتا کلاز قطب شمالی میں رہتا ہے،امریکہ اور کینیدا کی لوک کہانیوں میںکرسمس کے بونےChristmas elf کا تصور دیا گیا ہے کہ وہ کلاز کے خادم ہیں، اور ان کے بھی مجسمے بنائے جاتے ہیں، اسی طرح کرسمس کے گریٹنگ کارڈ تیار کئے جاتے ہیں، اور نہ جانے کس کس عنوان سے اس دن لوگوں کی جیبیں ہلکی کی جاتی ہے۔

ہم مسلمانوں کو ہمیشہ اللہ کی اس سب سے بڑی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کی حمد وثنا میں رطب اللسان رہنا چاہئے کہ اس نے ہمیں اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا جو صدیوں بعد بھی اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے، ہمارے اندر کتنی ہی عقیدہ وعمل کی خرابیاں پیدا ہوگئی ہوں؛ لیکن اصل حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیشہ پیش کی جاتی رہی ہے، اور یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہے گا، یہ اللہ کا انتظام اور وعدہ ہے، اسلام سے پہلے آنے والا دین برحق” نصرانیت” بد ترین تحریف کا شکار ہوگیا، آج اس کے بنیادی اور اہم ترین عقائد میں سے ایک بھی وہ نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات اوراصل انجیل کے مطابق ہوں، عیسائی کا کٹر دشمن ایک یہودی النسل سینٹ پال نے دھوکہ سے پوری مسیحیت کو بدل کر رکھ دیا، تثلیث، عقیدہ ٔمصلوبیت، کفارہ، قیامت مسیح، بپتسمہ، عشاء ربانی، توریت کے صریح انکار جیسے عقائد عام کئے، برنوبارٹر نے لکھا ہے کہ:” روما کے بھیڑیے نے ناصرہ کی بکری کی کھال اوڑھ لی،اور پولوئیت عیسائیت کی شکل میں نمودار ہوئی”(مطالعۂ مذاہب،داکٹر محسن عثمانی ندوی،ص:١٣٩) اور ایک نیک سلیم الطبع انسان برناباس کی انجیل کو عیسائی دنیا نے چھپا دیا جنہوں نے پال کے کفریہ عقائد دیکھ کر اس سے اختلاف کیا تھا، پھر سولہویں صدی عیسوی میں انجیل برناباس کا سراغ لگا،اور اس کا ترجمہ اطالوی زبان میں ہوا، اور اس سے دوسری زبانوں میں، اور دنیا دوبارہ برناباس سے واقف ہونا شروع ہوئی، آسی ضیائی نے اردو میں بھی اس کا ترجمہ کردیا ہے، جو مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے 1982ء میں شائع ہوا تھا۔

لیکن اس سے پہلے پال کے نمائندوں نے عیسائی دنیا کو ایسے پر پیچ فلسفوں میں الجھا دیا کہ آج تک وہ خود اپنے دین پر مطمئن نہیں، اور نہ اس سے باہر نکل سکی، ان میں آج تک اصلاح کی کوئی قابل قدرکوشش نہیں کی گئی، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے بجا تحریر فرمایا ہے:”مسیحیت نے طویل صدیوں تک اور آج بھی پال کی اس روح اور اس کے ورثہ کو سینے سے لگائے رکھا، اور اس پوری مدت میں مسیحی دنیا میں کوئی ایسا آدمی پیدا نہ ہوا جو مسیحیت کے اس بیرونی، مستعار اور غیر حقیقی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اور اس نقطہ کی طرف واپسی کی کوشش کرے جس نقطہ پر حضرت مسیح اور ان کے مخلص خلفا ء اور متبعین چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔آخر کار پندرہویں صدی مسیحی میں مارٹن لوتھر (M. Luther) جرمنی میں پیدا ہوا اور اس نے بعض جزئی مسائل میں محدود قسم کی اصلاح کی”(تاریخ دعوت و عزیمت، جلد اول، صفحہ:12)۔

مسلمانوں میں ہمیشہ تجدید کا عمل جاری رہا؛ لیکن افسوس کہ ہم مسلمان کہ اپنے تشخص کو بھلا کروضع میں نصاری اور تمدن میں ہنود بن گئے، خود بھی شریعت کی دو مقررکردہ عیدوں میں ایک عید کا اضافہ کرلیا، اور حیرت ہے کہ محققین کے مطابق 12/ ربیع الاول کا دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن نہیں، 9/ربیع الاول ہے،اور اگر ہوتا بھی تو اسے تیسری عید کے طور پر کیسے مناسکتے ہیں، طرفہ یہ کہ ہم غیر اسلامی تہواروں سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں، اور انہیں ہر سال کا محبوب مشغلہ بناتے ہیں، اپنی ترجیحات کو پس پشت ڈال کر ان کی تہذیبوں کو اپنے خوشی وغم کے موقع پر اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، بہت سے مسلمان کرسمس بھی شوق سے مناتے ہیں، پھر نئے سال عیسوی کا جشن بھی جوش خروش سے مناتے ہیں، کاش ہم مکمل طور پر اسلام کے دامن سے وابستہ ہوتے، اوربھٹکے ہوئے عیسائی دنیا کو یہ پیغام دیتے جس کی اپیل حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنی کتاب ”عیسائیت کیا ہے؟”(ص:81-82) میں بڑے دردمندانہ لہجہ میں کی ہے:

”کاش!انہیں کوئی بتا سکتا کہ تم افراط و تفریط کے جس دلدل میں گرفتار ہو؛اس سے نجات کا راستہ عرب کے خشک ریگ زاروں کے سوا کہیں اور نہیں ہے ؛زندگی کے بھٹکے ہوئے قافلوں نے ہمیشہ اپنی منزل کا نشان وہیں سے حاصل کیاہے؛تم پوپ پرستی سے لے کر انکار خدا تک کے ہر مرحلے کو آزماچکے ہو؛مگر ان میں سے کوئی تحریک تمہیں سلگتے ہوئے داغوں کے سوا کچھ نہیں دے سکی ؛اگر تمہیں سکون کی تلاش ہے تو خدا کے لیے ایک بار کیمیا کے اس نسخے کو بھی آزماکر دیکھو جو آج سے چودہ سو سال پہلے فاران(استثنائ:33/2) کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہونے والا،فارقلیط (یوحنا: 17/14)( صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں دے کر گیا تھاجسے دیکھ کر سلع کے بسنے والوں نے گیت گائے تھے؛اور قیدار کی بستیوں نے ”حمد”کی تھی(یسعیاہ:14/11) جس کے قدموں پر پتھر کے بت اوندھے گرے تھے(یسعیاہ:17/42)، جس نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا؛بلکہ جو کچھ سنا وہی تم تک پہنچادیا(یوحنا:16/13)،جب تم اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں آؤگے، تمہیں اس منزل کا پتا نہیں لگ سکے گا ؛ جہاں سے ضمیر کو سکون، روح کو مسرت اور دل کو قرار حاصل ہوتا ہے:
بہ مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*