چاندنی چوک مندرکاکیس سپریم کورٹ پہنچا

نئی دہلی:چاندنی چوک کے ہنومان مندرکاکیس سپریم کورٹ پہونچاہے ۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہاگیاہے کہ سپریم کورٹ دہلی حکومت اور شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کو حکم دے کہ وہ اسی جگہ پرہنومان مندر کو دوبارہ تعمیر کرے۔ اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جب تک دہلی حکومت اور شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن اسی جگہ پر ہنومان مندر کودوبارہ نہیں بناتے ہیں تب تک چاندنی چوک کی جدیدکاری کا کام نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ عرضی جیتندر سنگھ وشین نے ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین کے توسط سے دائرکی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مندر مینجمنٹ یا عقیدت مندوں یا عام لوگوں کی رائے کے بغیر فیصلہ دیا ، جس کے بعد اس مندر کو 3 جنوری 2021 کو ہٹا دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مندرکو ہٹانے کا کام قانون کے مطابق طریقہ کار پر عمل کیے بغیرکیاگیاجس سے عقیدت مندوں کے پوجاکے حق کو پامال کیا گیا۔ یہ مندر چاندنی چوک پر پانچ دہائیوں سے ہے اوریہاں بڑی تعداد میں عقیدت مند پوجاکے لیے آتے ہیں لیکن یہاں کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔