چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں ـ اُسامہ صدیق

انسانی آبادیوں سے دُور کسی قدیم کھنڈر میں کسی شخص کا کسی پُرانے، گھنے درخت تلے جا کر بیٹھے رہنا، لوگوں کو عجیب بلکہ باعثِ تشویش لگتا ہے۔ لیکن میں اکثر ایسا کرتا ہوں۔ شاید ایسے سکوت کی تلاش میں جہاں میں کارِ دُنیا سے چھٹکارا پا کر کچھ عرصے تخیل کی دُنیا میں وقت گُزار سکوں۔ فقط سکوت ہی نہیں، میرے لیے ایسے ماحول کی فطری پُراسراریت اور رومان بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ پتّھر کی سِلوں کے مٹتے نقوش اور ٹوٹتے پھوٹتے شہروں کی عظمتِ رفتہ کے مدّھم آثار ماضی کے فن کاروں اور گُزرے وقتوں کی رونق کا پتہ دیتے ہیں جب ان کیکر اور ببول سے بھرے میدانوں اور بنجر پہاڑیوں پر بھی گہما گہمی ہوتی ہوگی اور کھوے سے کھوا چھلتا ہو گا۔ شاید ان شہروں سے بھی کچھ لوگ بنوں اور پُرانے کھنڈروں میں جا بیٹھتے ہوں اور وہی سوچیں سوچتے اور سوال پوچھتے ہوں جو مجھ جیسے آج کل سوچتے اور پوچھتے ہیں۔ میں ایسے ہی کھنڈر نوردوں کی روایت کا امین ہوں۔

ویسے تو جب انسان کو یہ اندازہ ہو جائے کہ یہ سب کچھ بازیچۂ اطفال ہے، A Tale. Told by an idiot. Full of sound and fury ہے، تو پھر چاہے انسان جنگلوں اور کھنڈروں کا رُخ کرے یا آبادیوں میں ہی بیٹھا رہے، ازل سے اب تک اور پھر شاید اب سے ابد تک وہ ایک جیسے سوال ہی پوچھتا آیا ہے اور پوچھتا رہے گا۔ کچھ لوگوں کو جواب مل جاتے ہیں، یا کم از کم وہ یہی سمجھتے اور بتلاتے ہیں۔ کچھ بھٹکتے رہتے ہیں۔ کھوجتے رہتے ہیں۔ بہرحال اس تمام سعی کا مقصد اور حاصل سوال پوچھنا ہی ہے۔ درخت یا کھنڈر شرط نہیں۔ گو میرے جیسوں کے لیے جن کے سوالات میں پس و پیش ہے اور جن کے جوابات قدرے مبہم اور غیرمربوط ہیں، کھنڈر اور درخت پناہ گاہیں بھی ہیں اور تخلیقی عمل کے لیے مہمیز بھی۔

میری منش اور میلان کے لوگوں کو ایسے ویرانوں میں کبھی تو دُور سے ٹھک ٹھک کی آواز آتی ہے جیسے گندھارا دَور کا کوئی معروف فن کار پتّھر میں گوتم بدھ کے مسحور کن تبسّم کا متلاشی ہو، اور کبھی سردیوں کے کہر میں کسی مخدوش مغلئی کارواں سرائے کی بیرونی دیوار سے دور جاتی گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی ہیں۔ کسی پُرانے ڈاک بنگلے کی بغلی نہر کے کنارے چلنے لگتا ہے کہ آواز آئے گی کہ ”راستہ چھوڑو! صاحب کی سواری آ رہی ہے۔“ اور شام ہوتی ہے تو خیال آتا ہے کہ تاروں سے منور آکاش تلے سرگوشیاں کرتے سندھو دریا کنارے، اُس قدیم شہر کے شائستہ اور خوش اطوار باسی کیا باتیں کرتے ہوں گے۔ پھر یہ عہدِ متلاطم ہے۔ ہمارا اپنا عہد، جو اس تیزی سے ختم ہو رہا ہے جیسے موسمِ بہار کی پُھوار۔ ایک انجانا مستقبل ہے جو ہماری سمت اور ہم جس کی جانب مسلسل بڑھ رہے ہیں، جو اٹل بھی ہے اور ہم جس کے خدّوخال بدل بھی سکتے ہیں۔ جو غیرمانوس بھی ہے اور جانا پہچانا بھی، اور جو ہمیں بتدریج تبدیل بھی کر رہا ہے۔

ہم ایک ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں مٹّی کی ہر تہ کے نیچے ایک تہذیب دفن ہے۔ اُن میں سے کچھ تو وہ ہیں جنھیں ہم نام دے چکے ہیں اور شاید ان سے کہیں زیادہ وہ ہوں جن کے ہونے کی گواہی فقط تین سکّے، چار اینٹیں، ایک مورتی، ایک آدھ کھلونا اور چند ہڈّیاں ہیں۔ اور اُن سے بھی زیادہ وہ جن کی باقیات اتنی بھی نہیں۔ اتنی زرخیز دھرتی میں رہنے والے لکھاری کے لیے ہمیشہ صرف اپنے زمان و مکان میں مقید ہو کر کہانی لکھنا ناشکری سی لگتی ہے۔ یہ تو کہانی در کہانی اور کہانی اندر کہانی کا دیس ہے، بیتال پچّیسی،سنگھاسن بتّیسی کا دیس۔ کئی راتیں بیت جاتی ہیں ایک کہانی کو لپیٹنے میں، الف لیلہ کی طرح۔ کئی دُنیائیں آباد ہیں ان کہانیوں میں، طلسمِ ہوش رُبا کے طرح۔ گزشتہ سے پیوستہ، آنے والے سے منسلک، گنجلک، پُرپیچ، زندگی کی گتھی کی طرح پیچیدہ۔

کم از کم مجھ جیسا لکھنے والا تو کہانیوں کی اس عظیم روایت کے سحر میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے۔ اس کی بھول بھلیوں میں نہ صرف گُما ہوا ہے بلکہ بخوشی روپوش ہے۔ سو جو بھی میں نے لکھا ہے اس کے پیچھے یہ تمام روایتیں اور تہذیبی عناصر کارفرما ہیں۔ لکھنے کی جدّوجہد تو میں ایک عرصے سے کر رہا تھا لیکن اس ناول کی تصنیف سے پہلے وہ سب کچھ قانون اور منطق کے مسائل و مباحث تک محدود رہا لیکن کہیں حیاتِ انسانی کے لاتعداد پہلو، رنگ اور رعنائیاں فقط قانون اور منطق کی گرفت میں آ سکتے ہیں؟ زندگی کے خاکے کھینچنے کو اور بہت کچھ درکار ہے۔ نفسیات، تاریخ، فلسفہ، جمالیات، عمرانیات اور پھر سب سے بڑھ کر کہانی۔ یہ فکشن ہی کا کشادہ دل ہے جس میں یہ سب کچھ سماسکتا ہے۔ کہانی ہی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے اور تمام حیات میں اس کا طرۂ امتیاز۔ اصل اور گماں، مکاں اور لامکاں، حقیقت اور تخیل، شعور اور تحت الشعور… کیا کچھ ہے جس کا احاطہ کہانی کامیابی سے کر لیتی ہے۔ کہانی انسانی کھوج کا ایک قدیم اور انتہائی مؤثر ذریعہ ہے اور لگتا یوں ہی ہے کہ یہ کھوج، کہانی لکھنا اور کہانی پڑھنا، رہتی دُنیا تک جاری رہے گا۔
میں وثوق سے تو نہیں کہ سکتا کہ یہ ناول کیوں کر لکھا گیا۔ اس کا بیج تو بہت پہلے ہی بویا گیا ہو گا، جس میں میرے والدین کا، جنھوں نے کتابوں سے عشق کرنا سکھایا، میری رفیقِ حیات کا، اور ان تمام اساتذہ، دوستوں، رشتہ داروں اور رُفقا کا، جنھوں نے اس عشق کو مزید پروان چڑھایا، بڑا کردار ہے۔ پھر بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان تمام تر کوشش کے باوجود لکھ نہیں پاتا اور کبھی کوئی ایک واقعہ یا حادثہ ایسا دھچکا لگاتا ہے کہ پھر روانی ہی روانی آ جاتی ہے۔ یہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے لیکن میرے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔

کتاب کے لکھے جانے اور چھپنے کے بعد میں نے چند دلچسپ باتیں دریافت کیں۔ اوّل تو یہ کہ کتاب مصنف سے بالکل الگ ایک علیحدہ شناخت پیدا کر لیتی ہے اور اس کی اپنی ایک انفرادی زندگی ہوتی ہے۔ اب مصنف کو یہ نہیں معلوم کہ کون اسے کب، کہاں اور کیسے پڑھے گا۔ کئی برس گُزر جانے کے بعد کسی فُٹ پاتھ کے کنارے کس کے ہاتھ کتاب کا کوئی نسخہ لگے گا اور تحریر سے اس پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے۔ شاید وہ اس کی سوچ میں کچھ تبدیلی لائے یا اسے کچھ لطف ہی دے جائے۔ جانے وہ پڑھنے والاتحریر کو کیا معنی دے اور کیسی تشریح کرے۔ وہ بھی اگر ایسا کبھی ہو تو، یا شاید زیادہ تر کتابوں کی طرح یہ تصنیف بھی گمنام اور کمیاب ہو جائے۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے انسان پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ جیسے اس کا ایک حصّہ اس سے جُدا ہو کر بیگانی زندگی گُزار رہا ہو۔

دوسرا دلچسپ اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ کتاب کے طفیل مصنف کئی ایسے نئے لوگوں سے ملتا ہےجن سے شاید اس کی کبھی ملاقات نہ ہوتی۔ ان میں سے کئی ایک ہم خیال اور ہم ذوق نکل آتے ہیں۔ مزید یہ کہ کم از کم میرے تجربے سےمیرے ذہن سے یہ عام تاثّر تو زائل ہوا کہ پڑھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں تو نہ صرف وہ کثیر تعداد میں ہیں بلکہ ان میں بہت اضافہ بھی ممکن ہے اگر ہم لکھنے والے اور پبلشر مل کر ان پر توجہ دیں اور کتابوں کی اشاعت، تشہیر اور ترسیل پر مزید محنت کریں۔ نہ صرف یہ کہ اچھے پڑھنے والے موجود ہیں بلکہ ان کی ذہانت، لگاؤ اور محبّت ایک مصنف کو مزید لکھنے کی ترویج اور توانائی دیتی ہے، کیونکہ لکھنا بہرحال ایک دُشوار کام ہے اور بہت مشقّت اور اکلاپا مانگتا ہے۔

جہاں تک لکھنے والے کے دوستوں کا تعلق ہے تو انھیں متاثّرینِ ادب کہنا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اِن غریبوں کو بار بار مسودے پڑھ کر اور مشورے دے کر دوستی کا حق ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب میرے ناول کے ترجمے کا مرحلہ آیا تو پہلے مشرف علی فاروقی اور بلال حسن منٹو نے نہایت مفید رہنمائی کی اور ترجمے کے دوران بھی اعانت اور حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر علی اکبر ناطق نے تمام مسودے کو بغور پڑھ کر تبدیلیاں اور اصلاحات تجویز کیں۔ میں ان تینوں دوستوں کا بے حد ممنون ہوں۔

میرے نزدیک ترجمہ کرنا ایسا ہی کام ہے جیسے کتاب کو ازسرِ نو تخلیق کیا جا رہا ہو۔ ایک طرف مصنف کی مخصوص آواز اور اسلوب کو زندہ رکھنا مقصود ہوتا ہے اور اس کے افکار و اظہار کی مکمّل عکّاسی درکار ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ہر زبان کا اپنا محاورہ اور اندازِ بیاں ہوتا ہے جن کی پھر اپنی قیود و شرائط ہوتی ہیں۔ ایک اچھا ترجمہ اصل متن کی اساس کو قائم رکھتے ہوئے ترجمے کی روانی اور خوبصورتی کو بھی برقرار رکھتا ہے اور اس کے ذخیرۂ الفاظ سے موزوں انتخاب بھی کرتا ہے تاکہ خیالات و افکار کے نازک پہلو پوری طرح اُجاگر ہو سکیں۔ چونکہ میرے ناول میں بہت سے تہذیبی، تاریخی، ثقافتی اور تکنیکی حوالے تھے، مجھےایک ایسے مترجم کی تلاش تھی جو انگریزی اور اُردو، دونوں زبانوں پہ عبور رکھنے کے علاوہ فکشن اور نان فکشن کا وسیع مطالعہ بھی رکھتا ہو۔

خوش قسمتی سے میری ملاقت عاصم بخشی سے ہو گئی۔ موصوف ایک نہایت نفیس، ذہین، اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ ظاہری طور پر عسکری اور باطنی طور پر سویلین۔ پیشہ ورانہ طور پہ سائنسی اور طبیعتاً اَدبی، افکار فلسفیانہ اور انداز شاعرانہ۔ ملاقات ہوئی تو بولے کہ اب کے خوب مزا آئے گا چونکہ پہلی مرتبہ کسی زندہ مصنف کا ترجمہ کرنے جا رہا ہوں۔ پہلے تو سمجھ نہ آیا کہ حیات ہونے پر شکر بجا لاؤں یا پھر گِلہ کروں کہ کیا آپ صرف مرحوم مصنّفین ہی کے قائل ہیں۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ مزا خوب آیا کیونکہ بخشی صاحب نے نہایت پُھرتی اور روانی کے ساتھ ترجمہ کر ڈالا۔ ساتھ ہی ساتھ ہمارے درمیان الفاظ کے چُناؤ، اظہار کے انداز اور مختلف اَدوار کے لیے موزوں اُسلوب کے انتخاب پر پُر لطف اور سیرِ حاصل بحث بھی جاری رہی۔ کبھی میں نے اپنی بات منوا لی، کبھی عاصم کی دلیل حاوی رہی۔ اکثر ہم انفرادی طور پر ایک ہی نتیجے پر پہنچے۔ اپنے ناول کو اتنی خوبصورت، عظیم اور وسیع ذخیرۂ الفاظ رکھنے والی زبان میں منتقل ہوتا دیکھنا ایک خوش کن تجربہ تھا۔ میری شروع ہی سے یہ خواہش تھی کہ یہ ناول اُردو میں بھی دستیاب ہو جو اس خطے کی ایک مرکزی زبان ہے جس سے متعلّق یہ کہانی ہے، جہاں یہ لکھی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہ اس طرح یہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ پائے… میرے اپنے لوگوں تک، میری اپنی زبان میں۔

میرے لیے یہ بات بہت باعثِ عزت ہے کہ ناول کی اشاعت کے بعد کئی نامور اور مستند لکھنے والوں نے نہ صرف میرا ناول پڑھا بلکہ مجھ سے رابطہ کر کے میری ہمت افزائی بھی کی۔ اس بِنا پر کم از کم میرا تجربہ تو یہی ہے کہ ہمارے مشہور مصنّفین اکثر ایسی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ اس لیے بھی حیران کُن تھا کیونکہ میں ان میں سے بیشتر سے نہ کبھی ملا تھا اور اگر کبھی ملاقات ہوئی بھی تھی تو بہت واجبی سی۔ میری درخواست پہ انھوں نے کتاب کے بارے میں بہت کھلے دل سے اظہارِ رائے کیا اور اپنی فیاضی کے مزید ثبوت فراہم کیے، جس کے لیے میں اُن کا تہِ دِل سے شکرگزار ہوں۔

مجھے بہت خوشی ہے کہ ”بک کارنر“ یہ کتاب چھاپ رہا ہے۔ میں کچھ عرصے سے ان کی کاوشوں سے بہت متاثّر چلا آ رہا ہوں۔ جس یکجوئی، جذبے اور پیشہ ورانہ انداز سے امر شاہد اور گگن شاہد نت نئی کتابیں چھاپ رہے ہیں وہ ان کی عمدہ کوالٹی، جاذبیت، خوبصورتی اور نفاست سے عیاں ہے۔ ہمارے ہاں بہت عرصے سے کتابت، تدوین، کمپوزیشن، سرورق، آرٹ، مارکیٹنگ، پروموشن اور کلائنٹ سروس جیسے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ کاغذ غیر موزوں اور کتاب کی قیمت غیر مناسب ہوتی ہے۔ دیکھ کر خریدنے کو دل ہی نہیں چاہتا اور کتاب کب آئی اور کب آنکھوں سے اوجھل ہو گئی کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ جب میں ”بک کارنر“ کی مطبوعات دیکھتا تو لگتا تھا کہ کسی کو کتابوں سے واقعی محبّت ہے اور وہ بے چین ہے کہ کتاب دلکش ہو، اس کی دلکشی کی خبر عُشّاقِ کُتب تک پہنچے اور ان کے لیے اس کا دیدار اور مطالعہ بھی ناممکنات میں سے نہ ہو۔ آکسفورڈ یُوکے اور پینگوئن رینڈم ہاؤس جیسے بین الاقومی ناشرین کے ساتھ انتہائی خوشگوار تجربے کے بعد مجھے اب بھی ایسے ہی سنجیدہ، متحرک اور باریک بین ناشر کی تلاش تھی۔ جس انہماک اور اخلاص سے ”بک کارنر“ نے یہ کتاب تیار کی ہے وہ ان کی کتاب شناسی اور اپنے فن سے گہرے لگائو کا ثبوت ہے اور اس کے لیے میں ان کا بے حد شُکر گزار ہوں۔

لفظ اور عکس کا ایک گہرا تعلق ہے۔ میرے اور میرے پبلشرز کے لیے یہ انتہائی اہم تھا کہ کتاب کا سرورق، اس کے متن، مزاج اور ماحول کی بہترین عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ جمالیاتی طور پر بھی نمایاں ہو۔ چھ ادوار پہ محیط ایک کتاب کو ایک عکس میں سمونا خاصا مشکل ہے۔ ہم نے سیکڑوں پینٹنگز دیکھنے کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ یافتہ معروف پاکستانی مصوّر اے کیو عارف صاحب کی ایک دلکش تصویر کا انتخاب کیا۔ ہمارے لیے کتاب کا سرورق ایک پاکستانی فنکار کی کاوش ہونا بھی بہت اہمیت کا حامل اور فخر کا باعث ہے۔

یہ دَور عظیم بیانیوں کا دَور ہے۔ تہذیبوں کی نشاۃِ ثانیہ کے بیانیے۔ قوموں کے عروج اور عظمت کے بیانیے، دھرتی کا دفاع کرنے والی عسکری قوتوں کی شجاعت کے بیانیے، مذاہب کے جاہ وجلال اور برتری کے بیانیے، لیکن اِن اور اِن جیسے عظیم بیانیوں کی گھن گرج میں دو چیزیں ہمیشہ نظر انداز ہوتی آئی ہیں اور وہ ہیں محکوم قومیں اور پسماندہ اور پِسے ہوئے لوگ۔ حیاتِ انسانی کی متفرق اور بے بہا جہتیں اور پہلو کسی ایک بیانیے میں تو محدود ہو ہی نہیں سکتے۔ ویسے بھی اپنا تسلّط جمانے پہ آمادہ ہر بیانیے کے پیچھے کوئی جابرانہ اور استحصالی قوت ضرور کارفرما ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی قوت یا معاشرہ صرف کچھ مخصوص کہانیوں پہ اکتفا کرنے اور چند مخصوص بیانیوں کو ہم پر مسلّط کرنے پہ اصرار کرنے لگے تو سمجھ لیجیے اس کے پیچھے کچھ خاص لوگوں اور طبقوں کے مفادات ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ہر کسی کو اپنی کہانی بتانے، اپنی بپتا سنانے اور اپنے دُکھ، رنج، غم اور شکایت کا اظہار کرنے کی اجازت دی جائے۔

اگر ہم اپنے آپ پرصرف چند بیانیے اور کہانیاں مسلّط اور حاوی ہونے پر مدافعت اور احتجاج نہیں کریں گے تو بہت جلد یہ احتجاج کا حق بھی مستقلاً کھو بیٹھیں گے۔ حق اور سچ کی بقا اسی میں ہے کہ کسی بھی قسم کی اور کسی بھی نکتۂ نظر کی کہانیوں پر کوئی پابندی اور قدغن نہ ہو اور ہم اپنی متفرق کہانیوں کو اُجاگر کریں۔ خاص طور پہ ان کہانیوں کو جو اُن لوگوں کا تجربہ اور زاویۂ نظر سامنے لائیں جو معاشرے میں سب سے مظلوم اور کمزور ہیں۔ ہمارے یہاں حق بات کہنے اور ظالم کے ظلم پر احتجاج کرنے کی روشن روایات ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو نہ تو کبھی ہمیشہ کے لیے خاموش کرایا جا سکا ہے اور نہ ہی کرایا جا سکے گا۔ دلیر لوگوں کی مدافعت اور اختلافِ رائے زندہ رہتی ہیں اور ان کی سرکوبی کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے چاند کو گُل کرنےکی کوشش کرنا۔

ہم متعدد قدیم تہذیبوں، متفرق ثقافتوں اور اعلیٰ روایتوں کے وارث اور امین ہیں۔ یہ بات باعثِ مسرّت ہونی چاہیے نہ کہ باعثِ قباحت۔ ہمارے لوگوں کے تجربات اور مشاہدات بےانتہا اور متفرق ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری معاشرتی زندگی میں اتنے رنگ اور اتنا تنوع ہے۔ ان سب کا احاطہ چند منظور شدہ کہانیوں کے بس کی بات نہیں۔ ہماری بہت سی کہانیاں ہیں جو اسی مٹّی سے جنم لیتی ہیں، جو ہماری ہیں۔ ہمارے لیے ہیں۔ ان آنکھوں سے دیکھی، ان ذہنوں سے سوچی اور ان دِلوں سے نکلی۔ ایسی کہانیاں کسی محدود سرکاری یا بیرونی بیانیے کی مرہونِ منّت نہیں ہوتیں بلکہ ان کی ایک اپنی، پختہ اور مستحکم شناخت ہوتی ہے۔ یہی کہانیاں اپنے سیاق وسباق سے جُڑے رہنے اور اپنی سچائی کی بنیاد پر عالمگیر اور امر ہو جاتی ہیں۔