Home نقدوتبصرہ حفیظ نعمانی اور ان کا عہد : چند ہم عصر اردو صحافی و کالم نگار- شکیل رشید

حفیظ نعمانی اور ان کا عہد : چند ہم عصر اردو صحافی و کالم نگار- شکیل رشید

by قندیل

حکیم وسیم احمد اعظمی کی شخصیت یوں تو جامع الکمالات ہے کہ وہ طبیب بھی ہیں ، طب اور حکمت پر پڑے ماضی کے پردوں کو کھولنے والے ایک مورخ بھی ہیں ، تذکرہ نگار بھی ہیں ، اور اطبا و حکما کی ادبی خدمات کے جانکار بھی ، ساتھ ہی ساتھ طبی حوالے سے ایک صحافی بھی ہیں ، لیکن ان کا کمال بحیثیت ایک محقق زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ مذکورہ تمام اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے حکیم صاحب نے کہیں بھی تحقیق کا دامن نہیں چھوڑا ہے ، اسی لیے جب وہ کسی طبیب ، حکیم ، شاعر ، اہم شخصیت یا صحافی کا ذکر کرتے ہیں تو کوئی ایسی بات ان کے قلم سے نہیں نکلتی جو مُحَقّق نہ ہو ، سُنی سُنائی ہو اور یہی وہ وصف ہے جو حکیم صاحب کو اپنے ہم عصر محققین میں ممتاز کرتا ہے ۔
حکیم صاحب ’ مرکزی کونسل برائے تحقیقات طب یونانی ، نئی دہلی ‘ میں ڈپٹی ڈائریکٹر ( یونانی میڈیسن ) کے منصب پر فائز رہے ہیں ، وہاں ایک طبی رسالے ’ جہانِ طب ‘ کی ادارت بھی کی ۔ ڈھیروں کتابیں تحریر کی ہیں ، جن میں کئی جلدوں میں ’ وفیات اطباٗٔء ہند و پاک ‘ جیسی اہم کتاب بھی شامل ہے ، نیز مخطوطات کی تدوین کی ذمہ داریاں بھی سنبھالی ہیں اور قدیم دور کے طبی اداروں کی تاریخیں بھی مرتب کی ہیں اور اب کتاب ’ حفیظ نعمانی اور اُن کا عہد ‘ لے کر سامنے آئے ہیں ۔ حفیظ نعمانی کا عہد ’ صحافت کا سنہری عہد ‘ تھا ، اس معنیٰ میں کہ اس عہد کے صحافی جد و جہد کے عادی تھے ، وہ کال کوٹھریوں سے ڈرتے نہیں تھے ۔
مرحوم حفیظ نعمانی صاحب سے میری بالمشافہ ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن مجھے کبھی یہ نہیں محسوس ہوا کہ میں ان سے نہیں ملا ہوں ۔ میرے اخبار میں ، اسے میں اپنی خوش قسمتی ہی کہوں گا ، ہفتہ میں دو بار ان کے کالم شائع ہوتے تھے ، جنہیں پڑھ کر مجھے یوں لگتا تھا جیسے مجھ میں اور ان میں بات ہو گئی ہے ۔ حفیظ نعمانی صاحب کے کالموں کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر پڑھنے والے کو یوں لگتا تھا جیسے جو کچھ لکھا گیا ہے صرف اس کے لیے لکھا گیا ہے ۔ گویا یہ کہ مرحوم کے اپنے تجربات اور مشاہدے ، قارئین کے ذاتی تجربات اور مشاہدے بن جاتے تھے ، اس طرح لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہو جاتا تھا ۔ میرا ان سے ایسا ہی رشتہ تھا ۔ حفیظ نعمانی صاحب کے انتقال کی خبر سے ان کے ہر قاری کی طرح میرا بھی یہی احساس تھا اور آج بھی ہے کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا آسان نہیں ہے ، اور حقیقت یہی ہے کہ اُن کی جگہ ابھی بھی خالی ہے ۔
اس کتاب میں حکیم وسیم اعظمی نے ایسے سو صحافیوں کا تذکرہ کیا ہے جو حفیظ نعمانی کے عہد میں صحافتی خدمات انجام دے رہے تھے ، جیسے کہ مولانا عبدالماجد دریابادی ، حیات اللہ انصاری ، نسیم انہونوی ، مولانا امداد صابری ، عشرت علی صدیقی ، ڈی جی چندن ، مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی ، عابد سہیل ، شارب ردولوی وغیرہ ۔ یہ لمبی فہرست ہے ، اس میں اس احقر کا نام بھی شامل ہے ، اور ہارون رشید علیگ ، شاہد صدیقی ، شمیم طارق ، ندیم صدیقی ، عالم نقوی ، سلیم خان سہیل انجم ، شافع قدوائی ، مشرف عالم ذوقی ، معصوم مرادآبادی ، صفدر امام قادری ، ایم ودود ساجد ، عمیر منظر ، اویس سنبھلی وغیرہ کے نام بھی شامل ہیں ۔ حکیم صاحب کا کمال یہ ہے کہ یہ تذکرے لکھتے ہوئے انہوں نے اِن شخصیات کو زندہ کر دیا ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سب کاغذ پر چل پھر رہے ہیں ۔ اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ حکیم صاحب گنجلک تحریر نہیں سادا تحریر لکھنا پسند کرتے ہیں ، ایسی تحریر جِسے سہلِ ممتنع کہا جاتا ہے ۔
حکیم صاحب کا ۶۷ صفحات پر مشتمل طویل مقالہ ’ ذکرِ حفیظ نعمانی ‘ اس کتاب میں شامل ہے ، اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ حفیظ نعمانی صاحب کی حیات اور صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی ہے ، اور جِن صحافیوں کا اِس کتاب میں تذکرہ ہے ، اُن کی تحریروں کے حوالے سے اُن کے اور حفیظ نعمانی صاحب کے تعلقات کی نوعیت پر بات کی ہے ۔ حکیم صاحب نے اس کتاب کی تالیف کا ڈول ۲۰۲۰ء میں ڈالا تھا ، لیکن یہ کام ۲۰۲۳ء میں جاکر پورا ہوا ۔ کتاب میں سہیل انجم ، معصوم مرادآبادی ، عمیر منظر اور اویس سنبھلی کے وقیع مضامین شامل ہیں ۔ سہیل انجم ’ تقدیم ‘ کے تحت لکھتے ہیں : ’’ حکیم وسیم احمد اعظمی کا یہ کام یقیناً انتہائی اہم ، قابلِ قدر ، لائقِ ستائش اور قابلِ تقلید ہے ۔‘‘ معصوم مرادآبادی ’ تقریظ ‘ میں لکھتے ہیں : ’’ یہ کتاب کیا ہے ، ایک انجمن ہے جس میں ہمارے عہد کے تمام چھوٹے اور بڑے صحافی اپنی تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں ۔‘‘ ڈاکٹر عمیر منظر ’ اعتراف ‘ کے تحت لکھتے ہیں : ’’ یہ کتاب ایک اہم صحافتی عہد کا احاطہ بھی کر رہی ہے ، جس پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ۔‘‘ اور محمد اویس سنبھلی ’ رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق ‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں : ’’ یہ کتاب آزادی کے بعد کی اردو صحافت کی تاریخ اور اس تاریخ کے روشن کرداروں کی حیات و خدمات اور ان کے کارناموں کو اپنے اندر سمیٹے ہوے ہے ۔‘‘
’ حفیظ نعمانی اور ان کا عہد‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور اردو صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بیش قیمت تحفہ بھی ۔ اس کتاب کو پڑھ کر ایک خواہش کا اظہار کرنا چاہوں گا ، لکھنئو کی اردو صحافت پر کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جو مُحَقّقانہ ہو ، یہ کام صرف اور صرف حکیم صاحب ہی کے بَس کا ہے ، اگر وہ یہ کام کر دیں تو ایک ایسی تاریخ مرتب ہو جائے گی جسے نظرانداز کیا گیا ہے ۔ یہ خواہش اس سبب بھی ہے کہ کتاب کے ’ پیش نامہ ‘ میں حکیم صاحب نے لکھنئو کے اردو اخباروں کی ایسی لمبی فہرست پیش کر دی ہے کہ حیرت ہوتی ہے ، اتنے سارے اردو کے اخبار لکھنئو سے نکلتے تھے ! ویسے اس کتاب میں حکیم صاحؓب نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں ، اللہ اُن کی عمرِ میں برکت دے ، آمین ۔ مزید ایک بات کا ذکر ضروری سمجھ رہا ہوں ؛ حکیم صاحب کے کاموں کی جس طرح سے قدر کی جانی چاہیے نہیں کی گئی ، ادبی تنظیموں اور اداروں سے انہیں اب تک ڈھیروں ایوارڈ مل جانا چہیے تھے ۔ خیر حکیم صاحب کو ایوارڈ ملے نہ ملے وہ کام کرتے رہے ہیں اور ان شاء اللہ کرتے رہیں گے ۔ کتاب کا انتساب حفیظ نعمانی کی تحریروں کے نام ہے ۔ انتساب کے بعد اکبر الہ آبادی کا مشہور شعر ؎
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
دیا گیا ہے ۔ یہ شعر شیوسینا کے پرمکھ بال ٹھاکرے اپنے مراٹھی ہفت روزہ ’ مارمک ‘ کے سرورق پر لکھا کرتے تھے ۔ کتاب 576 صفحات پر مشتمل ہے ، اس میں سے آٹھ صفحات ’ مصادر و مراجع ‘ کے ہیں ۔ قیمت 600 روپیہ ہے ۔ کتاب کے ناشر ’ نعمانی کیئر فاؤنڈیشن ، بارود خانہ ، گولہ گنج ، لکھنئو ‘(7905636448 ،9794593055 ) ہیں ۔ اسے موبائل نمبر 9451970477 پر رابطہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like