چاند دیکھنے والوں کے نام ـ مالک اشتر

اس بار بھی وہی سب ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ مغرب کی تین رکعتیں ابھی نمٹی بھی نہیں تھیں کہ واٹس ایپ انباکس میں چاند نہ ہونے کے اعلانات ٹپا ٹپ برسنے لگے۔بہت سارے رنگے برنگے لیٹر پیڈ اور سب کا ایک سا مضمون ایک جیسے الفاظ۔ بس پیشانی پر تنظیم کے نام اور نیچے دستخط کا فرق تھا۔ کسی طرح دل کو سمجھا لیا تھا کہ عید کے لئے ایک دن کا اور انتظار گوارہ کر لے کہ کسی نے گھوسی میں چاند نظر آنے کی اطلاع والا اعلان سوشل میڈیا پر دھکیل دیا۔ پیچھے سے کوئی چمپارن سے چاند کی خبر لے آیا اور ایک آدھ نے غازی پور کی کسی چھت سے غرہ شوال کے دکھائی دینے کا مژدہ سنایا۔ امید کے دیپک کی لو ذرا اونچی ہوئی لیکن پھر امام بخاری، مفتی مکرم اور مولانا خالد رشید کے چاند نہ ہونے کے ویڈیو اعلانات کی پھونکوں نے اسے ایسا بجھایا کہ بس دھوئیں کی پتلی سی لکیر ہی بچ رہی۔
ابھی اس سانحہ کو زیادہ عیدیں نہیں گذریں کہ اس ملک میں، جس دن ایک مسلک نے روزہ رکھا تھا اسی دن دوسرا عید منا رہا تھا۔ سنا ہے آج بھی کسی شہر کے کوئی مسلک والے عید منا رہے ہیں جبکہ زیادہ تر کا آج تیسواں روزہ ہے۔ اب یہ وہ منزل ہے جہاں بڑے سے بڑا میانہ رو انسان بھی ایک بات تو مانے گا کہ یا تو الف نے یکم شوال کو روزہ رکھا یا پھر ب نے تیس رمضان کو عید منا لی۔ مذہبی بیانیہ کی رو سے یہ دونوں ہی صورتیں جرم ہیں۔
ویسے تو میں اس جسارت کا ارتکاب کرنے سے ہر ممکن حد تک پرہیز کرتا ہوں لیکن جب بہت ضروری ہو جائے تو علما سے سوال کرنا پڑ جاتا ہے۔ اب بھی ویسی ہی گھڑی ہے اور یہ طالب علم جاننا چاہتا ہے کہ دین کے پورے علم میں یہ بات کہاں لکھی ہوئی ہے کہ رویت ہلال کی تصدیق یا تردید علما کا حق ہے؟۔ اگر یہ خصوصی حق علما کو ملا ہوا ہے تو ہم آدھی رات تک متضاد اعلانات سے جوجھنے کو بھی عبادت میں داخل سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنی عید یا تیسواں روزہ دوسرے گروہ سے الگ کرنے میں بھی ہرگز مضائقہ نہ ہوگا لیکن اگر یہ علما کا حق نہیں ہے تو ہم عرض کریں گے کہ وہ شعبان اور رمضان کی 29 تاریخ کو خود کو ہلکان کیوں کرتے ہیں؟۔
ایک دو باتیں سمجھ لی جائیں تو شائد اندھیری گلی کا کوئی روشن سرا مل سکے۔ پہلی بات یہ ہے کہ رویت ہلال کا تعلق دینیات سے نہیں ہے۔ یہ علم فلکیات سے متعلق واقعہ ہے البتہ چونکہ اس کی بنیاد پر ہجری کلینڈر کے مہینوں کا تعین ہوتا ہے اور دین کے بعض معاملات اس کلینڈر کی تاریخوں سے مشروط ہیں (جیسے رمضان کے پہلے سے آخری دن تک روزے، شوال کے پہلے دن عید، ذی الحجہ کی مخصوص تاریخوں میں حج اور بقرعید وغیرہ) اس لئے رویت ہلال کی مذہبی بیانیہ میں ایک معنویت بن جاتی ہے۔ اس سے تحریک پاکر کچھ مذہبی علما نے مان لیا کہ چاند ہوا یا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق ان کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چار کوس کے فاصلے پر ایک نئی رویت ہلال کمیٹی مل جائے گی۔ اب تک کے سارے واقعات نکال لیجئے، جب کبھی دو عیدیں ہوئی ہیں ان کی وجہ یہی الگ الگ چاند دیکھنے والی کمیٹیاں اور ان کے متضاد اعلانات رہے ہیں۔
یہ علما حضرات جو مذہبی معاملے میں رائے دینے والے سے اس کی مدرسے کی ڈگریاں طلب فرماتے ہیں، ان کے لئے مناسب نہیں کہ یہ رویت ہلال سے متعلق خالص علم فلکیات کے امر میں حکم لگانے پر اصرار کریں۔ یہ کام ماہرین فلکیات بہت قرینے سے کر سکتے ہیں اور آنے والے کئی سو برس تک کس علاقے میں کب رویت ہلال ہوگی اس کا نقشہ بناکر دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد کیا وجہ رہ جاتی ہے کہ علما رمضان کی 29 تاریخ کو صندوقوں سے دوربین نکال کر چھت پر جا کھڑے ہوں اور فوٹو کھنچوایا کریں؟۔
اگر ماہرین فلکیات کے پیشگی نقشوں پر علما کو اعتبار نہیں تو سال سال بھر کے نماز کے اوقات والے نقشے کیوں رائج ہیں؟۔ انہیں دیکھ کر اذانیں کیوں دی جاتی ہیں؟۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ رات کے آخری پہر اور بھری دوپہر میں علما آسمان کی طرف دیکھ کر اندازہ لگایا کریں کہ آغاز سحر کے آثار یا زوال آفتاب کی نشانیاں ظاہر ہوئیں یا نہیں؟۔ آپ جن ماہرین فلکیات پر ایک روزے یا ایک عید کے لیے اعتبار کرنے کو تیار نہیں ان کے ہی بتائے وقتوں میں دن کی پانچ نمازیں پڑھنا کیا اپنی عبادتوں کو خطرے میں ڈالنے جیسا نہیں؟۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ پچھلے 29 دن ماہرین فلکیات کے بتائے وقت پر سحر و افطار کرنے والوں کے لیے رمضان کی آخری شام علم فلکیات ایسا غیر معتبر ہو جاتا ہے کہ مت پوچھیے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ چاند کی خود دیکھ کر تصدیق کرنے سے زیادہ اپنی اتھارٹی پر اصرار کا ہے۔ کسی لیٹر پیڈ پر لکھے یا ویڈیو پیغام میں بولے گئے یہ الفاظ کہ "۔۔۔۔میں اعلان کرتا ہوں کہ عید۔۔۔ ” دراصل حکم سنانے کے اپنے اختیار کا اعلان ہوتے ہیں۔ یہ بات لوگوں کو یہ بتانے جیسی ہے کہ میں تمہیں بتاؤں گا کہ کل تم عید منا سکتے ہو یا پھر تمہیں روزہ رکھنا ہے؟۔ اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ وہ اپنے حکم کے انتظار میں آپ کو آدھی رات تک تذبذب میں ڈال سکتا ہے اور رات گیارہ بارہ بجے آپ سے کہہ اور منوا سکتا ہے کہ کل عید منانی ہے تو وہ خود کو جتنا بھی اسپیشل محسوس کرے کم ہے۔
حکم صادر فرمانے کا حق وہ نشہ ہے جو کوئی نہیں چھوڑنا چاہتا اس لیے علما لیٹر پیڈ پر اعلان جاری کرنا یا پھر دوربین میں جھانک کر ہماری عید یا روزے کا فیصلہ فرمانا تو چھوڑنے سے رہے۔ ہاں، اگر ہمیں اپنی عید کی کسی Sanctity کا کوئی احساس ہے تو رویت ہلال کے سلسلہ میں ادھر رجوع کرنا پڑے گا جس علم سے اس کا تعلق ہے یعنی ماہرین فلکیات۔ ہم چاہتے تو یہی تھے کہ اس معاملے میں بھی مذہبی علما سے ہی رجوع کرتے لیکن کیا کریں کہ ہماری جانکاری کے مطابق درس نظامی میں علم فلکیات نہیں پڑھایا جاتا۔